اسلامک وظائف

رات سونے سے پہلے صرف دس بار پڑھنے سے کیا ہو گا؟

استغفار کی فضیلت کیا ہے ؟استغفار سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں ؟
آیاتِ قرآنی کی روشنی میں :

ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے ترجمہ” اللہ تعالیٰ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا، سخت عذاب دینے والا، انعام وقدرت والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے”۔
دوسری جگہ فرمایا جس کا ترجمہ ہے” پس نبی آپ صبر کریں اللہ کا وعدہ بلا شک و شبہ سچا ہی ہے، آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں اور صبح وشام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتےرہیں”۔

ایک اور جگہ فرمایا “اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو بےشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے”۔ ایک اور جگہ فرمایا جس کا ترجمہ ہے” تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ ،حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بے شک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے”۔

ایک اور جگہ ارشاد ہے” اے میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھ پر رجوع فرما یقیناً تو بہت رجوع فرمانے والا بخشنے والا ہے”۔ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے جس کا ترجمہ ہے” اور وہ لوگ جب کسی برائی کا ارتکاب کر لیتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں “۔
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ٰ ہے جس کا ترجمہ ہے” اور اللہ تعالیٰ ٰ اپنی موجودگی میں ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے اور اسی طرح اللہ ان کو عذاب نہیں دیتا جب کہ وہ بخشش مانگنے والے ہوں”۔ مزید فرمایا جس کا ترجمہ ہے “جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنے نفس پر ظلم کر رہے اور پھر اللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا نہایت مہربان پائے گا”۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے جس کا ترجمہ ہے” پھر تم بھی وہیں سے واپس آ جاؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے”۔

احادیث کی روشنی میں :

بخاری شریف کی روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ سورۃ النصر میں ” فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا” کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ہر نماز میں ” سبحانک اللھم وبحمدک اللھم مغفرلی ” پڑھا کرتے تھے اور قرآن پر عمل کرتے ہوئے اپنے رکوع اور سجود میں کثرت سے ” سبحانک اللھم وبحمدک اللھم مغفرلی ” پڑھتے تھے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مجلس میں سو سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر دیا تھا ۔انبیاء ویسے بھی خطا سے معصوم ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اللہ سے استغفار تمام انبیاء کی سنت ہے۔
نسائی شریف کی روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ” میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی مجلس میں سو مرتبہ استغفراللہ کہتے سنا “۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرتحریمہ اور قرات کے درمیان کچھ دیر کے لیے خاموش رہتے تھے، تو میں نے کہا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان تکبیر اور قرات کے درمیان آپ کیا پڑھتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت بھی دعائے استغفار پڑھتا ہوں”۔
بخاری شریف کی روایت ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری تشہد اور سلام کے درمیان یہ دعا ئے استغفار پڑھا کرتے تھے”۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا وقت تھا تو انہوں نے اپنی کمر سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور یہ کہہ رہے تھے’اللھم مغفرلی ‘۔

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جو شخص یقینِ کامل کے ساتھ صبح کی نماز کے ساتھ سیدالاستغفار پڑھے گا اگر اسی دن شام سے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا، اسی طرح جو شخص مغرب کی نماز کے بعد سید الاستغفار پڑھے گا اگر اسی رات صبح سے پہلے مر گیا تو سیدھا جنت میں جائے گا “۔سیدالاستغفار یہ ہے
” اے اللہ تو ہی میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں ،جس قدر طاقت رکھتا ہوں میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، بس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا سکتا”۔
استغفار کی دنیا و آخرت میں فائدہ:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “استغفار کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو” ۔یعنی استغفار سے بندہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے وہ ابھی ماں کے پیٹ سے آیا ہو۔
ہم سب اللہ سے پیار کرتے ہیں اللہ کس سے پیار کرتے ہیں؟ یہ بھی جان لیں سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں” اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے “۔

سچی اور خالص توبہ کرنے والوں کے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کر دیتا ہے اور ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” آدم کا ہر بیٹا خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ ہے جو معافی مانگ لے”۔

سورۃ النوح میں اللہ تعالیٰ نے استغفار کے چار فوائد بتائے ہیں:
“توبہ استغفار کرنے سے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے، مال اور اولاد دیتا ہے اور باغات دیتا ہے”۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا “اے آدم کے بیٹے تو جب تک مجھ سے دعا مانگتا رہے گا اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا رہے گا میں گناہ وں کو معاف کرتا رہوں گا، اگر تو زمین کے برابر گناہ لے کر آئے اور تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں زمین کے برابر ہی تیرے لیے معافی لے کر آؤں گا”۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” میں نے جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے، کسی عورت نے وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لعن تعن زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو”۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ جس شخص نے دن میں گناہ کیے ہوں وہ رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئے اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے کہ رات میں اگر کسی نے کوئی گناہ کیا ہے تو دن میں اپنے رب کی طرف پلٹے اور گناہوں کی معافی مانگے”۔
ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ سیاہی دور کر دی جاتی ہے اور اگر توبہ کی بجائے گناہ پر گناہ کیے جاتا ہے تو ایسے ہی بڑھتی رہتی ہے حتیٰ کہ پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے “۔

ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “دو وقت ایسے ہیں جب توبہ قبول نہیں ہوتی ،ایک جب تک نزع کی حالت پیدا نہیں ہو جاتی یعنی روح کا جسم سے نکل کر گلے تک آ جانا اور سورج کے مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہونا”۔ جن بھائیوں کے ماں باپ فوت ہوگئے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنے والدین کے لیے بھی استغفار کیا کریں ۔
استغفار کا ایک مردے کو کیا فائدہ ہوتا ہے ؟
حدیث پاک میں ہے ” اللہ تعالیٰ جنت میں آدمی کا درجہ بلند فرماتا ہے، آدمی عرض کرتا ہے یا اللہ یہ درجہ مجھے کیسے ملا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تیرے بیٹے نے تیرے لیے استغفار کی”۔

جن بھائیوں اور بہنوں کے والدین اس دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ استغفار کثرت سے کریں کہ جن کے پاس مال و دولت نہیں یا اولاد نہیں ان کو چاہئے کہ وہ بھی استغفار کریں، جن کے گناہ زیادہ ہے، جو زندگی سے مایوس ہیں وہ بھی معافی مانگیں اور پاک صاف ہو جائیں۔ اللہ پاک منتظر ہے ،ہمیں رب کی طرف لوٹنا ہے، خدا خود بلائے ہمیں پہلے ہی خدا کی طرف چلے جانا چاہیے۔

Leave a Comment