معلومات عامہ

دو چیزیں جن سے ناک چڑھانا اچھا نہیں

دو چیزیں

دو چیزیں جن سے ناک چڑھانا اچھا نہیں

دو چیزیں : حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے دو چیزیں ایسی بتائیں ہیں۔  جن سے ناک چڑھانا یعنی حقارت محسوس کرنا اچھا نہیں ہے-

بیماری

ہر بیماری اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہے۔جب کبھی آپ خود بیمار ہو یا آپ کا عزیز بیمار ہو تو شکوے شکایات نا کریں-ہمیں بیماری کے مثبت پہلو دیکھنے چاہیے-جیسا کہ اللہ تعالی بیمار کی دعا کبھی رد نہیں کرتے-اسی لیے جب بیمار ہوں تو زیادہ سے زیادہ دعا کریں۔اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کریں-بیمار انسان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔تو بیماری میں ہم اپنے گناہ اللہ تعالی سے معاف کروا سکتے ہیں-

انسان جب بیمار ہوتا ہے تو بستر سے لگا ہوتا ہے۔اس طرح اسے سوچ بچار کا بہت وقت ملتا ہے۔اس وقت اسے اپنے بارے میں سوچنا چاہیے کہ اس نے آج تک کیا کمایا۔اور بیماری میں اپنے اور غیروں میں فرق پتا چل جاتا ہے-اللہ تعالی کے ہر کام میں حکمت چھپی ہوتی ہے-

بھوکے اور محتاج رشتےدار

اللہ تعالی قرآن پاک میں یہ کئی بار فرما چکے ہیں کہ۔ اللہ تعالی کے عطا کردہ مال میں سے غربا اور مسکین کو بھی دیا جائے۔اور یہ چیز بھی واضح کی ہے کہ اللہ کی راہ میں دیتے وقت سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دیکھا جائے۔ہمیں یہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا کونسا رشتہ دار ضرورت مند ہے۔تو ان رشتہ داروں کو حقارت سے دیکھنے کی بجائے ان کی مدد کریں۔بھوکے کو کھانا کھلانا بہت زیادہ ثواب کا کام ہے۔

اللہ کی راہ میں دیتے وقت سب سے پہلے اپنے اردگرد دیکھیں۔اگر رشتہ داروں میں سے کوئی ضرورت مند نہیں ہے تو پڑوسیوں میں دیکھیں-ہم میں سے اکثر کو اپنے پڑوسیوں کا حال پتا ہی نہیں ہوتا۔جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس پڑوسی عورت کا بھی خیال رکھا تھا جو روز ان پر کوڑا پھینکتی تھی۔تو بھوکے کو کھانا کھلانے سے ہمارے مال میں کمی ہر گز نہیں ہوگی-بلکہ برکت ہی آئے گی-

Leave a Comment