قصص الانبیا ء

دو افضل اور اعلی چیزیں

دو افضل اور اعلی چیزیں

دو افضل اور اعلی چیزیں

دو افضل اور اعلی چیزیں: حضرت علی رضی اللہ عنہہ کے ایک قول سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ دو چیزیں اعلی اور افضل ہیں۔جن کا زکر درج ذیل ہے۔

عقل

اللہ تعالی نے ہر انسان کو عقل عطا کی ہے۔جس کی بدولت آج انسان چاند پر قدم رکھ چکا ہے۔عقل مند انسان کم گو ہوتا ہے۔اور اس کو پریشانی میں بھی پتا ہوتا ہے کہ اس نے اپنے معاملات کیسے سلجھانے ہیں۔انسان کے پاس جو علم ہے وہ صرف اپنے پاس نا رکھے بلکہ دوسروں کو بھی دے یہ عقل کا تقاضہ ہے-جو انسان زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے اس کی عزت بھی زیادہ ہوتی ہے۔عقل افضل اور اعلی اس وقت ہوگی جب اس سے دوسرے لوگ مستفید ہونگے۔دوسروں کو کچھ سکیھنے کو ملے گا۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: “اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انہیں وہی سمجھتے ہیں جو اہل علم والے ہیں”

زبان

زبان افصل اور اعلی اس وقت ہوگی جب اس سے دوسروں کو کوئی فائدہ ہوگا۔جیسے کہ آپ کے پاس کوئی علم ہے تو زبان کے ذریعے دوسروں تک پہنچانا ۔لوگوں کو اچھے اور برے کی تمیز سکھانا۔قرآن پاک سکھانا۔بہت سے لوگوں کا قرآن کا تلفظ اچھا نہیں ہوتا تو اگر آپ کا تلفظ بہترین ہے تو دوسروں کو بھی سکھائیں۔اور یہی زبان ہماری تباہی کا سبب بھی بنتی یے۔ہماری زندگی کے بہت سے مسائل اس زبان کی وجہ سے بگڑتے اور حل ہوتے ہیں۔اگر آپ کوئی انسان کو دیکھے جو بہت ترقی کر رہا ہے تو آپ اس کی زبان دیکھیں۔

کہ وہ دوسروں کو کیسے ملتا ہے۔اور آپ کو پتا چلے گا کہ اس کی ترقی میں اس کی زبان کا بھی اہم کردار ہے۔زبان کے ذریعے سے ہی انسان اپنی عزت کھوتا اور پاتا ہے-اگر آپ دوسروں سے حسن سلوک کریں گے تو دوسرے بھی آپ کے ساتھ اچھا برتاو کریں گے۔آج کے زمانے میں تو ویسے بھی اگر عزت دو گے تو لو گے۔ورنہ کوئی ایک دوسرے سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔

Leave a Comment