اسلامک معلومات

دولت دنیا کا مصرف

دولت دنیا کا مصرف

دولت دنیا کا مصرف

دولت دنیا کا مصرف: حضرت ابو کبثہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تین باتیں ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں اور ان کے علاؤہ ایک اور بات ہے جس کو میں تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ پس تم ان کو یاد کرلو جن باتوں پر میں تم سے قسم کھاتا ہوں۔

*1*. ان میں ایک تو یہ ہے کہ کسی بندہ کا مال صدقہ کی وجہ سے کام کم نہیں ہوتا۔
*2*. اور دوسری بات یہ کسی مظلوم پر ایسا ظلم نہیں کیا جائے گا جس پر وہ صبر کرے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اسکی عزت کو بڑھا دے گا۔
*3*. اور تیسری بات یہ کہ نہیں کھولے گا کوئی بندہ سوال کا دروازہ، مگر اللہ تعالیٰ کھول دےگا اس پر فقر کا دروازہ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور جو بات ان کے علاؤہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں جس کو تمہیں یاد کرلینا اور یاد رکھنا چاہیے وہ یہ کہ

دنیا چار قسم کے لوگوں کے لئے ہے

پہلی قسم

. ایک وہ بندہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے ۔ اور صحیح طریق زندگی کا علم بھی اس کو دیا ہے ۔ مگر وہ اس مال کو صرف و استعمال میں اللہ سے ڈرتا ہے۔  اور اس کے ذریعہ صلح رحمی کرتا ہے یعنی عزیز و اقارب کے ساتھ صحیح سلوک کرتا ہے۔  اور اس میں جو عمل و اور تصرف کرنا چاہے اللہ تعالیٰ کی رضا ہی کے لیے کرتا ہے۔ پس ایسا بندہ سب سے اعلیٰ وافضل مرتبہ پر فائز ہے۔

دوسری قسم

. دوسری قسم وہ بندہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے صحیح علم تو عطا فرمایا ہے لیکن اس کو مال نہیں دیا۔ مگر اسکی نیت اچھی ہے اور وہ اپنے دل وزبان سے کہتا ہے کہ مجھے مال مل جائے تو بھی کسی نیک بندہ کی طرح اس کو خرچ کروں پس ان دونوں کا اجر برابر ہے۔

تیسری قسم

. تیسری قسم وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس کے صرف و استعمال کا صحیح علم اور جذبہ نہیں دیا وہ نادانی کے ساتھ اور اللہ سے بےخوف ہوکر اس مال کو اندھا دھند غلاظت کاموں میں خرچ کرتے ہیں اس کے زریعہ صلہ رحمی نہیں کرتے اور جس طرح اسکو استعمال کرنا چائیے اس طرح نہیں کرتے۔ پس یہ لوگ سب سے برے مقام پر ہیں۔

دولت دنیا کا مصرف: چوتھی قسم

*4*. چوتھی قسم وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے مال بھی نہیں دیا اور صحیح علم اور صحیح جذبہ بھی نہیں دیا ۔پس ان کا حال یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم کو مال مل۔جائے تو ہم بھی کسی عیاش اور فضول خرچ شخص کی طرح اور اسی طریقے پر صرف کریں۔ پس یہی ان کی نیت ہے اور ان دونوں گروہوں کا گناہ برابر ہے۔ (جامع ترمذی ۔ معارف الحدیث)

Leave a Comment