اسلامک معلومات

دنیا اورآخرت کی حقیقت

دنیا اور آخرت

دنیا اورآخرت کی حقیقت

دنیا اورآخرت : حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا ۔ اور اس میں ارشاد فرمایا “سن لو اور یاد رکھو کہ دنیا ایک عارضی اور سوتی سودا ہے ۔ جو فی الوقت حاضر اور نقد ہے یعنی اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اسی لئے اس میں ہر نیک و بد کا حصہ ہے۔  اور سب اس سے کھاتے ہیں ۔ اور یقین کرو کہ آخرت وقت مقررہ پر آنے والی ہے۔ یہ ایک سچی اور اٹل حقیقت ہے اور سب کچھ قدرت رکھنے والا اللہ اسیی میں لوگوں کے اعمال کے اعمال کے مطابق جزا و سزا کا فیصلہ کرے گا۔

یاد رکھو کہ ساری خیر اور خوشگواری اور اس کی تمام قسمیں جنت میں ہیں۔  اور سارا دکھ اور شر اور اس کی تمام قسمیں دوزخ میں ہیں۔ پس خبردار جو کچھ کرو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کرو اور ہر کام کرتے وقت آخرت کے انجام کو پیشِ نظر رکھ کر کرو اور یقین کرو تم اپنے اپنے اعمال کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاؤ گے جس نے ذرہ برابر کوئی نیکی کی ہوگی وہ اس کو بھی دیکھ لیگا اور جس نے ذرہ برابر کوئی برائی کی ہوگی وہ اس کو پالے گا۔ (مسند امام شافعی ۔ معارف الحدیث)

اللہ کا خوف اور تقویٰ ہی فضیلت و قرب کا باعث ہے

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن کے لئے قاضی یا عامل بنا کر روانہ فرمایا تو ان کو رخصت کرتے وقت ایک طویل حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند نصیحتیں اور وصیتیں ان کو فرمائیں اور ارشاد فرمایا اے معاذ! شاید میری زندگی کے اس سال کے بعد تمہاری اور میری ملاقات نہ ہو۔

یہ سن کر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے صدمہ سے رونے لگے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر کر اور مدینہ کی طرف رخ کرکے فرمایا ( غالباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی آبدیدہ ہوگئے تھے اور بہت متاثر تھے) مجھ سے بہت زیادہ قریب اور مجھ سے تعلق رکھنے والے وہ سب بندے ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور تقویٰ اور تقویٰ والی زندگی گزارتے ہیں وہ جو بھی ہو اور جہاں کہی بھی ہوں۔ (مسند احمد ۔ مصارف الحدیث)۔

اسلام کی خوبی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کے اسلام کی خوبی اور اس کے کمال میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ فضول اور غیر مفید کاموں اور باتوں کا تارک ہو۔ (معارف الحدیث ۔ ابنِ ماجہ ۔ ترمذی)

Leave a Comment