اسلامک وظائف

دنیاوی نقصان سے حفاظت کے لیے نبوی وظیفہ

گناہ ایک سنگین ومہلک ترین روحانی مرض ہے، الله کی نافرمانی اورگناہ وہ مضر شے ہے جس سے انسان کے قلب میں زنگ لگ جاتا ہے اورقلب سیاہ ہو جاتا ہے، لیکن اس کا بہترین علاج اور تریاق توبہ ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان خطا ونسیان کا پتلا ہے، غلطی اور گناہ کرنا اس کی جبلت میں داخل ہے، مگر بہترین گناہ گار وہ ہے جو اپنے گناہوں پر ندامت کے ساتھ آنسو بہائے او راپنے کیے پر الله تعالیٰ سے رجوع کرے ، معافی مانگے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرے۔

توبہ کیا ہے ؟ دراصل تین چیزوں کے مجموعہ کا نام توبہ ہے، ایک یہ کہ جو گناہ سر زد ہو جائے اس پر دل سے ندامت وشرمندگی اور پشیمانی ہو ، دوسرے یہ کہ جو گناہ ہو اس کو فوراً چھوڑ دے، تیسرے یہ کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم ( پکا ارادہ) ہو ، ان ہی تین چیزوں کے مکمل ہونے پر توبہ تکمیل تک پہنچتی ہے۔
قرآن وحدیث میں توبہ کرنے والوں کے لیے خوش خبری اور بشارت دی گئی ہے اور الله توبہ کرنے والوں کو پسندیدگی اور محبوبیت کی نظر سے دیکھتے ہیں ، الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:”بے شک الله کو پسند آتے ہیں توبہ کرنے والے اور پسند آتے ہیں گندگی سے بچنے والے۔“
)سورۃ البقرہ:222(
قرآن کریم میں فرمایا گیا:

” اے محمد! ( آپ میرے طرف سے میرے بندوں سے) کہیے کہ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے ( کفروشرک کرکے) اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے ، خدا کی رحمت سے ( کبھی) نا امیدمت ہو ( اور یہ خیال مت کرو کہ تمہاری بخشش نہیں ہو سکتی ، اگر تم شرک وکفر اور بغاوت کی زندگی سے نکل آؤ اور توبہ کر لو تو بخشش کا دروازہ تمہارے لیے بھی کھلا ہوا ہے ) الله تعالیٰ تمہارے گناہ بخشتا ہے ، وہ بڑا بخشنے والا او ربہت مہربان ہے ( پس اگر الله کی بخشش چاہتے ہو تو توبہ کر لو ) اور رجوع ہو جاؤ او راپنے رب کی طرف او راس کی فرماں برداری اختیار کر لو، قبل اس کے کہ ( کفر وشرک کی پاداش میں ) تم پر عذاب آجائے اورپھر کسی طرف سے تم کو کوئی مدد نہ مل سکے اور ( بغاوت ومعصیت کی زندگی چھوڑ کے ) پیروی اختیار کر لو اس بہترین شریعت کی، جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے، قبل اس کے کہ اچانک تم پر خدا کا عذاب آپڑے اور تمہیں اس کا خیال بھی نہ ہو۔ “
)سورہ زمر:53 تا55(

حدیث شریف میں آیا ہے”:ہر انسان خطا کار او رگناہ گار ہے، مگر بہترین خطا کار وہ ہے جو الله سے توبہ اوراس کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔“
توبہ کی یہ صفت انسان کو کام یابی کے بلند مدارج تک پہنچاتی ہے ، اسی سے دل کا سیاہ دھبہ دور ہو سکتا ہے ، اس توبہ ہی سے بڑے بڑے گناہ گار اور مایوس لوگ منزل مراد سے ہم کنار ہوتے ہیں ، کتنے ہی بڑے بڑے گناہ گاروں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں عرض حال کیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی مایوسی دور کرکے انہیں حوصلہ بخشا اور خوش خبری دی۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے الله تعالیٰ کے رسول (صلی الله علیہ وسلم) ! میں نے اتنے اور ایسے گناہ اپنی زندگی میں کیے ہیں کہ اگر ان گناہوں کو دنیا کے تمام انسانوں پر تقسیم کر دیا جائے تو سب جہنم میں چلے جائیں۔ الله کے رسول (صلی الله علیہ وسلم) ! کیا ان گناہوں کی تلافی کا کوئی طریقہ ہے ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو اپنا ایمان تازہ کرنے او رالله کی طرف رجوع ہونے کی تلقین فرمائی ، تو اس شخص کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ حدیث شریف میں ایسے کتنے ہی واقعات ہیں کہ گناہوں سے بجھے ہوئے دل روشن چراغ بن گئے اور انہیں دنیا کے انسانوں کو صحیح راہ دکھانے کی سعادت حاصل ہو گئی۔
ایک مرتبہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جس طرح پانی لگنے سے لو ہازنگ آلود ہو جاتا ہے اسی طرح ( گناہ سرزد ہونے سے) دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے ، صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عرض کیا الله کے رسول (صلی الله علیہ وسلم)! اس زنگ کو دور کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، موت کو کثرت سے یا د کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔

دوستو ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے:حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ اس گناہ سے باز آجاتا ہے اور معافی مانگ لیتا ہے تویہ سیاہ دھبہ مٹا دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ اس گناہ کا اعادہ کرتا ہے تو سیاہ دھبوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھاجاتا ہے، انسان کے کردار کو بنانے او ربگاڑنے میں اس کے دل کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے ، اگر دل پاک وصاف اور خوف الہٰی سے معمور ہے تو کردار بھلائیوں کا علم بردار بنتا ہے اوراگر دل خوف الہٰی سے خالی اور تقویٰ وپرہیز گاری سے عاری ہو تو کردار داغ دار ہو جاتا ہے، معلوم ہوا کہ دل انسان کا کردار بنانے اور بگاڑنے میں بڑا موثر کردار ادا کرتا ہے۔
ارشاد نبوی صلی الله علیہ وسلم کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص الله تعالیٰ کی نافرمانی او رگناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو سب سے پہلے اس گناہ کا اثر اس کے دل پر پڑتا ہے، جو سیاہ دھبہ کی شکل میں نمایاں ہوتا ہے، یہ گویا کردار کے زنگ آلود ہونے کی ابتدائی علامت ہے۔

اگر ابتدائی مرحلہ میں انسان اپنی اخلاقی بیماری پر آگاہ ومتنبہ ہو کر گناہ او رمعصیت کو چھوڑ کر، توبہ واستغفار کرے تو الله تعالیٰ اس سیاہ دھبہ کو زائل فرما دیتا ہے ، لیکن اگر اس نے اس کی فکر نہ کی اور توبہ واستغفار کا دامن نہیں تھا ما تو انسان گناہوں کے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور اس سے نکلنا بہت دشوار ہو جاتا ہے ، دراصل جو دل خوف الہٰی سے معمور ہو جاتا ہے وہ انسان کے لیے دنیا وآخرت میں فلاح ونجات کی راہیں ہموار کرتا ہے۔
ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے ، جسم انسانی میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ درست رہے تو پورا جسم درست رہتا ہے ، لیکن اگر وہ خراب ہو جاتا ہے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے ، لوگو! یادرکھو، گوشت کا یہ لوتھڑا دل ہے۔
بحیثیت مسلمان مومن بندوں کو کثرت توبہ واستغفار کے ذریعہ اپنے دلوں سے معصیت کے زنگ کو زائل کرتے رہنا چاہیے او راحتساب کی کیفیت کے ساتھ اخلاق وکردار کا برابر اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے، تاکہ وہ دنیا وآخرت کی فلاح وکام یابی سے ہم کنار ہو سکیں، کیوں کہ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہوا ہے اورالله تعالیٰ کا ہاتھ بخشش کے لیے پھیلا ہوا ہے، الله تعالیٰ کا ارشاد ہے”:اے ایمان والو! الله کی طرف سب مل کر توبہ کرو، شاید کہ تم فلاح پاؤ“۔
)سورہ نور آیت:31(
دوسری جگہ ارشاد ہے: ” جو کوئی گناہ کرے یا اپنے نفس پر ظلم کرے اور الله سے بخشش چاہے تو وہ الله کو بخشنے والا، مہربان پائے گا“۔
) سورہٴ نساء آیت:110(
حدیث میں آتا ہے:

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ اپنا ہاتھ رات کو پھیلاتا ہے، تاکہ دن کا گناہ گار توبہ کرے او راپنا ہاتھ دن کو پھیلاتا ہے ،تاکہ رات کا گناہ گار توبہ کر لے، یہاں تک کہ سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکلے ( یعنی قیامت کا دن آجائے)۔
( مسلم(
حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، الله بندہ کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک کہ ( جان کنی کی ) خرخراہٹ نہ شروع ہو۔
( ترمذی(
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے تھے کہ خدا کی قسم! میں الله سے بخشش چاہتا ہوں اور دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ کرتا ہوں۔
(بخاری(
حضرت أغر مزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایاکہ میر ے دل میں بھی غفلت کا اثر ہو جاتا ہے، میں دن میں سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔
( مسلم(

حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص استغفار میں پابندی کرے گا، الله تعالیٰ اس کی ہر تنگی کو دور کر دے گا اور ہر غم سے خلاصی دے گا اور اس کو روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں سے اس کو خیال بھی نہ ہو گا۔
( ابوداؤد(
حضرت بلال بن یسار بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے
”استغفر الله الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ“
پڑھا تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ جنگ سے بھاگ کر آیا ہوں۔
حضرت شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اے الله! توہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی مالک ومعبود نہیں، تونے ہی مجھے پیدا فرمایا اور وجود بخشا، میں تیرا بندہ ہوں او رجہا ں تک مجھ عاجز وناتواں سے ہو سکے گا، تیرے کیے ہوئے (ایمانی) عہدومیثاق کے وعدے پر قائم رہوں گا، تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے عمل وکردار کے شر سے۔

میں اقرار کرتا ہوں کہ تونے مجھے نعمتوں سے نوازا اور اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے نافرمانیاں کیں اور گناہ کیے ، اے مالک ومولا! تو مجھے معاف کر دے اور میرے گناہ بخش دے ، تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔
جس بندے نے اخلاص کے ساتھ ، دل کے یقین کے ساتھ دن کے کسی حصہ میں الله تعالیٰ کے حضور میں یہ عرض کیا اور اسی دن ، رات شروع ہونے سے پہلے اس کو موت آگئی تو بلاشبہ وہ جنت میں جائے گا۔
(بخاری(
بلکہ حضرت عبدالله بن حبیب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ،شام کو اور صبح کو ( یعنی دن شروع ہونے اور رات شروع ہونے پر) تم قل ھو الله احد ( سورہ اخلاص) اور معوذتین (سورہٴ ناس، سورہ فلق) تین بار پڑھ لیا کرو، ہر چیز کے لیے تمہارے لیے یہ کافی ہو گی۔
(ابوداؤد، ترمذی(
حضرت عثمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص ہر دن کی صبح اور ہر رات کی شام کو تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لیا کرے تو اس کو کوئی مضرت نہیں پہنچے گی اور کسی حادثے سے دو چار نہیں ہو گا۔

”بسم الله الذی لا یضر مع اسمہ شيء فی الارض ولا فی السماء، وھو السمیع العلیم“
اور اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
(جامع الترمذی(
الله رب العالمین ہر قسم کے منکرات، شروروفتن اورمعاصی وگناہوں سے بچنے اور کثرت سے توبہ واستغفار کرنے کی توفیق دے اور ایسے اعمال صالحہ اختیار کرنے کی سعادت عطا فرمائے جو دنیا وآخرت میں فلاح ونجات کا سبب بن سکیں۔ آمین ۔ ثم آمین۔ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

Leave a Comment