اسلامک وظائف

دعائیں قبول نہیں ہوتیں؟

اکثر لوگوں کا شکوہ ہوتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ، وہ شکوہ کنا رہتے ہیں کہ دعائیں ضائع جارہی ہیں حالانکہ دعائیں ضائع نہیں جاتیں ہمیں مانگنے کا سلیقہ نہیں آتا۔ وہ کونسی دعا ہے جو کبھی رد نہیں ہوتی ؟

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا” اے پیارے علی میری دعا قبول نہیں ہوتی” تو آپ نے فرمایا” اللہ کے بندے جب بھی دعا کرو تو تین کام ضرور کرو:

ایک غائب کے لئے دعا مانگو گے تو آپ کی دعا بھی قبول ہوگی ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے، آپ نے فرمایا” غائب کی دعا غائب کے لیے قبول ہوتی ہے”۔

دوسری بات فرمائی” جب بھی دعا مانگو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اولاد کو بھی یاد رکھنا، دعا کے اول اور آخر میں درود شریف پڑھا کرو، جس دعا کے آخر میں درود شریف پڑھا جائے گا وہ دعا بھی قبول ہو گی”۔

تیسرا اپنے نبی کو دعا میں ضرور یاد رکھا کریں۔ جب بھی دعا کریں تو ان کے لئے بھی دعا مانگیں، اس سے رب کو پیار آتا ہے اور وہ دعا قبول کرتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں دعا کی قبولیت کے اوقات بھی بتائے گئے ہیں۔

دعا کی قبولیت کے چند باتیں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

پہلا تہجد کے اوقات میں مانگی گئی دعا قبول ہوتی ہے ۔تہجد کا وقت رات کا آخری وقت ہوتا ہے، اس وقت لوگ خواب اور غفلت میں ڈوبے ہوتے ہیں کچھ لوگ گہری نیند میں مست ہوتے ہیں کچھ اس وقت ہی سونے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں اور آنکھیں نیند سے بوجھل ہوتی ہیں ۔اس وقت جب کوئی بندہ میٹھی نیند قربان کر کے اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑا ہوتا ہے اور دعا مانگتا ہے، رب کے حضور گڑگڑاتا ہے اور فر یاد کرتا ہے، تو حدیث کے مطابق اس کا رب اس کی دعا ضرور سنتا ہے اور بندے کی جائز خواہشات کو ضرور پورا کرتا ہے۔ تہجد کی نماز لاڈلی نماز ہے ،اس وقت جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے ۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰٰ آسمانِ دنیا پر آکر کہتے ہیں ہیں” ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا میں اس کو عطا کروں ہ،ے کوئی رزق کا طالب میں اسے رزق عطا کروں،ہے کوئی مغفرت کا طالب میں اس کی مغفرت کروں”۔ اس وقت جو لوگ جاگ رہے ہوتے ہیں رب سے مانگ رہے ہوتے ہیں ، ان کی مرادیں پوری ہوجاتی ہیں اور جو سوئے ہوتے ہیں وہ شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ رب ہماری دعائیں نہیں سنتا۔

دوسرا وقت سجدے کا ہے ۔سجدے کی حالت میں مانگی گئی دعا قبول ہوتی ہے۔ انسان کے لیے سب سے مشکل کام کسی کے سامنے جھکنا ہوتا ہے۔ خودار اورعزت دار لوگ کسی کے سامنے نہیں جھکتے، وہ پیشانی کو جھکانا ذلت سمجھتے ہیں ،وہ جان دے دیتے ہیں مگر کسی کے سامنے گردن نہیں جھکاتے، جس وقت انسان سجدے کی حالت میں ہوتا ہے اس وقت وہ اپنے جسم کے سب سے بلند اور محترم عضو یعنی پیشانی کو اللہ کی بارگاہ میں جھکا کر زمین سے ٹیک رہا ہوتا ہے۔ اللہ کو اپنے بندے کی یہ ادا یہ عاجزی اتنی پسند آتی ہے کہ وہ بندے کی اس حالت میں مانگی گئی ہر دعا پوری کر دیتا ہے۔جھکنا اللہ کو پسند ہے جو جھک گیا وہ مراد پا گیا ۔

تیسرا وقت اذان کا ہے۔ اذان کے دوران مانگی گئی دعا قبول ہوتی ہے ۔اذان سے مراد وہ پکار اور وہ بلاوہ ہے جو اللہ کی جانب سے اس کے حکم سے انسانوں کو نماز کے لیے دیا جاتا ہے۔اذان نام ہی کامیابی کا ہے۔ اذان پکارتی ہے” آئیے کامیابی کی طرف “جب انسان اللہ کے اس بلاوے پر لبیک کہتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ تو اس وقت خدا کا نہ صرف انسان کی دعا سنتا ہے بلکہ اس کو پورا بھی کرتا ہے۔

چوتھا اور بہترین وقت فرض نماز کے بعد کا ہے۔ فرض نماز کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ اللہ نے انسانوں پر دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ ہم نے نہ اس فرض کی ادائیگی کی اور بھاگ نکلے، نہ خدا کو یاد کیا اور نہ کچھ مانگا، جلدی سے آئے اور جلدی سے نکل گئے، یہ اہتمام کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت جو دعا مانگی جائے وہ بھی قبول ہوتی ہے۔

پانچواں وقت بارش کے بعد آتا ہے۔ بارش کے بعد جو دعا مانگی جائے وہ دعا قبول ہوتی ہے ۔بارش اللہ کی رحمت ہے، بارش پیاسی زمین کو سیراب کرتی ہے، بارش بنجر زمین کو لہلہاتے سبزے سے بھر دیتی ہے، بارش مردہ زمین میں روح پھونک دیتی ہے، بند چشمے جاری کردیتی ہے، خدا کی ہر مخلوق کے لئے خوشی اور راحت کا سبب بن کر برستی ہے۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ انسان کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہیں۔ رحمت کے موقع پر رحیم کو یاد کیا جائے تو وہ ضرور سنتا ہے ۔

چھٹا وقت سفر کا ہے۔ سفر کے موقع پر کی گئی دعا بھی قبول ہوتی ہے ۔مسافر اللہ کا مہمان ہوتا ہے رب اپنے مہمان کی دعا کو رد نہیں کرتے ۔آج کے دور میں ہم مسافروں سے تنگ آ جاتے ہیں،انہیں پوچھتے نہیں، انہیں کھانا نہیں دیتے ،جب ہماری یہ حالت ہوگی تو ہماری دعائیں کیسے قبول ہونگی ؟

ساتواں وقت افطار کا ہوتا ہے ۔افطار کے وقت مانگی گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ روزہ واحد عمل ہے جس کے بارے میں رب العالمین نے فرمایا کہ” اس کی جزا میں خود دوں گا” اور دوسرا معنی علماء نے کیا ہے کہ روزے کی جزا رب خود ہے۔ روزے میں انسان سارا دن بھوکا رہتا ہے، حلال چیز کو بھی نہیں کھاتا، جب افطار کے وقت وہ رب سے دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ روزے دار کی تمام دعائیں قبول فرما تے ہیں ۔ہمیں دعا مانگنی چاہیے ،عدا ضائع نہیں جاتی ۔ ندامت اور عاجزی بھی ہونی چاہیے، عاجزی اللہ کو پسند ہے، رونے والی آنکھ بھی اللہ کو پسند ہے، ہم رو کر مانگیں گے تو اللہ سنیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں قحط آیا ،بارشیں نہیں ہو رہیں تھی ،لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کا کہا، آپ نماز استسقاء پڑھنے گئے ۔عدا مانگی تو رب کی طرف سے جواب آیا “موسیٰ آپ کی مجلس میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جو میرا نام فرمان ہے، وہ جب تک اس مجلس سے اٹھ نہیں جاتا تب تک بارش نہیں ہوگی”۔ حضرت موسی علیہ السلام نے رب کی یہ بات مجمع عام میں بتائی اور کہا “جو خدا کا نافرمان ہے وہ جائے تاکہ بارش ہو”۔ کوئی نہیں اٹھا ،دوسری بار کہا تب بھی کوئی نہیں اٹھا، تیسری بار کہا تب بھی کوئی نہیں اٹھا ،یہ جو نافرمان شخص تھا اس نے منہ ہلائے بغیر دل ہی دل میں دعا مانگی اور رب نے معاف کر دیا ۔مجمع وہیں موجود ،کوئی اٹھا بھی نہیں اور بارش ہوگئی ۔موسیٰ علیہ السلام نے رب سے پوچھایہ کیا؟ تو اللہ نے فرمایا کہ “اس نے مجھے راضی کرلیا، سچے دل سے معافی مانگی، میں نے معاف کر دیا اور اس کی دعا سن لی “۔
دعا ضائع نہیں جاتی ہے، ہمیں دعا مانگنے کا سلیقہ نہیں آتا ،جس دن ہم نے دعا مانگنا سیکھ لیا ،اس دن ہماری دعائیں رد نہیں جائے گی۔

موسیٰ علیہ السلام کا امتی دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگتا ہے اور کسی کو خبر نہیں ہونے دیتا پھر بھی اسے معافی مل جاتی ہے۔ ہم تو امتِ محمدیہ ہیں ،ہم مقام میں ان سے زیادہ ہیں، ہماری دعائیں رب کیوں نہیں سنے گا؟ ضرور رب سنے گا بس سلیقہ اور وقت دیکھنا چاہیے ۔

Leave a Comment