قصص الانبیا ء

دجال اور خانہ کعبہ

دجال اور خانہ کعبہ

دجال کاخانہ کعبہ کا طواف کرنا کیا سچ پر مبنی ہے؟ نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارک ہے کہ دجال ہرجگہ جائے گا۔ لیکن مکہ اورمدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ اللہ تعالیٰ نےفرشتوں کی ڈیوٹی لگارکھی ہے کہ جب دجال آئے گا تواسے مارمارکربھگادیں گے۔

دجال اور خانہ کعبہ کی حدیث شریف

حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب فتنہ دجال کا ظہور ہوگا۔ تو اللہ پاک حرمین شریفین کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر کر دیں گے۔ جو اسلام مخالف لوگوں کو، دجال اور دجال کے حامیوں کو اندر داخل ہونے سے روکیں گے ۔

نبی کریم ﷺ کا خواب

اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم دو انسانوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے کعبۃ اللہ کا طواف کررہے ہیں۔ اور اسی خواب میں، میں نے یہ بھی یکھا کہ دجال بھی آپ کے پیچھے کعبۃ اللہ کا طواف کررہا ہے۔ (ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا ۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، بال لٹکے ہوئے تھے۔ اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے )۔ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔

پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ ، بھاری جسم والا ، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا۔ جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہا کہ یہ دجال ہے ۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی ۔ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا۔ جو خزاعہ قبیلہ کی ایک شاخ ہے( حدیث نمبر 7026 )۔ ہر پیغمبر کا خواب گواہی ہوتا ہے۔ حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ عیسیؑ نے جس طرح دو انسانوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے ۔اسی طرح دجال نے بھی دو انسانوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ اور طواف کر رہا ہے۔

حدیث مبارک

حدیث میں ہے کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔ مولانا محمد مکی نے اپنے درس میں کہا کہ۔ جو لوگ قرآن کے مصادرسے پوری طرف واقف نہیں ہوتے۔ وہ ان احادیث کا غلط مطلب نکالتے ہیں اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔

احادیث کی درستگی

دونوں احادیث اپنی جگہ درست ہیں ہوگا یہ کہ دجال کعبہ کا طواف کرے گا۔ لیکن اس وقت اس نے دجالیت کا دعویٰ نہیں کیا ہوگا۔ اس لیے اسے اجازت ہوگی لیکن جب وہ دجالیت کا دعویٰ کرے گا۔ تب اللہ رب العزت کی طرف سے اس پر پابندی لگادی جائے گی۔ مکہ اور مدینہ کے راستوں پر فرشتے متعین کردئیے جائیں گے۔

مولانا محمد مکی صاحب نے عزازیل کا واقعہ

اسی حدیث شریف کے تناظر میں مولانا محمد مکی صاحب نے عزازیل کا واقعہ سنایا کہ وہ بھی ملعون ہونے سے پہلے جنت میں ہی رہا کرتا تھا۔ اللہ پاک سے تو کچھ بھی پوشیدہ نہیں مگر پھر بھی اس کی آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنے کی بے جا تاویلوں اور بحث سے پہلے تک اسے جنت میں رہنے دیا گیا۔ اور جیسے ہی اس نے حکم خداوندی کے خلاف جانے کی گستاخی کی۔ اسے ملعون قرار دے کر جنت سے نکال دیا گیا اور وہ ابلیس جو پہلے فرشتوں کا سردار یعنی (عزازیل) تھا اب ابلیس اور دھتکارا ہوا قرار دیدیا گیا۔

 

Leave a Comment