اسلامک معلومات

خانہ کعبہ کے بارے میں دلچسپ حقائق

 

خانہ کعبہ کے بارے میں دلچسپ حقائق

مسجد الحرام مکہ مکرمہ کے وسط میں چوکور عمارت ہے. اسلام سے قبل بھی خانہ کعبہ کو بڑی عزت حاصل تھی یہاں اکثر میلے لگتے تھے. عرب ہر سال حج کے لئے آیا کرتے تھے.

خدا کے حکم سے

لیکن اس وقت خانہ کعبہ کے اندر تقریبا تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے. ہر قبیلے کا الگ الگ بت تھا۔
8 ہجری 630 میں دسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار مس حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خدا کے حکم سے تعمیر کیا .اور آمدورفت کے لیے ایک دروازہ مشرق اور ایک مغرب میں بنایا. کیونکہ یہ جگہ نشیب میں ہے اس لیے اکثر اس عمارت کو نقصان پہنچتا رہا. ت

عمارت کو قبیلہ بنی جرہم نے بنایا

یسری بار اس عمارت کو قبیلہ بنی جرہم نے بنایا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سسرال سے تھے . چوتھی بار مصر و شام کے بادشاہ اماکہ نے اسے تعمیر کیا .پانچویں مرتبہ 606ء میں اس عمارت کو نقصان پہنچا تو قریش نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر ازسرنو اس کی تعمیر کی لیکن سرمائے کی کمی کے باعث شمال کی جانب اندازاًچھ گز جگہ چھوڑ دینی پڑی۔

خانہ کعبہ کی دیواریں

64ھ/(683ء) میں حضرت عبداللہ بن زبیر نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی .اور چھوڑی ہوئی جگہ کو عمارت میں لے لیا۔693ء میں جب حجاج ابن یوسف نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا .تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ خانہ کعبہ میں مقیم تھے حجاج نے حانہ کعبہ پر منجنیقوں سے پتھر برسائے .اور پھر آگ لگا دی جس سے خانہ کعبہ کی دیواریں پھٹ گئی. اور حجر اسود کے تین ٹکڑے ہوگئے .

کعبۃ اللہ پر قبضہ

گیارہویں صدی ہجری میں سیلاب سے پھر اس عمارت کو نقصان پہنچا تو ترک سلطان مراد نے 1014ء میں اس کو قریش والی بنیادوں پر تعمیر کیا۔1981ء کے آخر میں چند شر پسندوں نے کعبۃ اللہ پر قبضہ کرلیا تھا تاہم اسے جلد ہی سعودی سکیورٹی فورسز نے واگزار کرا لیا۔
کیونکہ اس کی شکل مکعب کی ہے اس لیے کعبہ کہلاتا ہے .اس کی شمالی دیوار میں ایک دروازہ ہے پچھلی دیوار چالیس فٹ اونچی ہے باقی دو دیواریں 35 فٹ اونچی ہیں کعبہ اور اردگرد کے بھورے رنگ کے پتھروں کا بنا ہوا ہے۔

غلاف کعبہ

شمالی رکن کو رکن عراقی مغربی رکن کو شامی جنوبی رکن کوئی یمانی اور مشرکی رکن کو اسود کہتے ہیں۔ چاردیواری غلاف کعبہ سے ڈھکی رہتی ہیں یہ غلاف ہر سال مصر سے آتا ہے۔1964ء میں پاکستان سے گیا۔25 یا 28 زی القعدہ کو پرانا غلاف اتار دیا جاتا ہے. اور ایک سفید احرام اس پر ڈال دیا جاتا ہے .
آج کے ختم ہو جانے پر نیا غلاف ڈال دیا جاتا ہے اور احرام اتار لیا جاتا ہے. پرانے غلاف کے ٹکڑے محافظ بنو شینہ بیچ دیتے ہیں۔ جنہیں لوگ بطور تبرک لے جاتے ہیں۔

Leave a Comment