اسلامک وظائف

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح اٹھتے ہی ہر حاجت پوری

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ موسم سرما کا آغاز ہر جانب شروع ہوچکا ہے ۔اس موسم میں دن چھوٹے ہو جاتے ہیں اور رات کافی بڑی اور انہیں راتوں میں انسان رات کو پیاس بجھانے کے لیے اور کبھی واش روم جانے کے لیے یا آنکھ کھل جانے کی وجہ سے اٹھ جاتا ہے، کسی نہ کسی کو کسی نہ کسی بہانے سے اٹنا تو لازمی پڑتا ہے۔

اس موسم میں ہم میں سے ایسا کوئی نہیں جس کی رات کے وقت آنکھ نہ کھلتی ہو، کسی نہ کسی فکر یا پریشانی کی وجہ سے رات کو انسان جب سائیڈ بدلتا ہے تو بعض اوقات آنکھ کھلی رہتی ہے یا اگر برا خواب دیکھنے پر آنکھ کھل جاتی ہے، اس وقت اگر یہ دعا پڑھ لیں تو انشاءاللہ سارے غموں اور دکھوں کا مداوا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔ آج نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعا آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ جس میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3898 ہے) “رات کو اگر آنکھ کھل جائے تو یہ دعاء پڑھ لوپھر جو بھی دعا مانگو گے وہ قبول ہوگی”۔ آج تفصیل سے آپ کو اس دعا کی برکات اور فضائل کے بارے میں بتائیں گے ۔ اکثر میرے بھائی بہن کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہو تے ہیں۔دنیا میں ہر امیر غریب، نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں، غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم، دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلے کے ساتھ برداشت کرکے خدا کی خوشنودی حاصل کرلیتا ہے۔

یہ دنیا مصیبتوں، پریشانیوں اور غموں کا گھر ہے، بعض لوگ اولاد کی نافرمانی کی وجہ سے پریشان ہیں تو بعض خواتین اپنے خاوند کی بے راہ روی کے متعلق غمگین رہتی ہیں، کچھ لوگ مال، اسباب کے ختم ہوجانے پر غم میں ڈوبے رہتے ہیں تو بعض لوگوں کو اولاد نہ ہونے کا غم ستائے رہتا ہے تو ایسے تمام غموں سے اگر آپ ہمیشہ کے لیے نہیں چاہتے ہیں تو جب کسی مصیبت و پریشانی اور غم میں مبتلا ہو جائے تو آپ کو چاہیے کہ جب کسی مصیبت و پریشانی اور غم میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ کثرت کے ساتھ استغفار و توبہ کرے،یعنی فورا ً اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے پرور دگارعالم سے مغفرت طلب کرے اور صدق دل سے توبہ کرکےگناہوں کو چھوڑنے کا عہد کرے کیونکہ انسان پر پڑنے والے اکثر مصا‏‏‏ئب و آلام اس کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔جس کی قرآن کریم نے بھی تائید کی ہے ” تم تک جو بھی مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی باتوں کو معاف بھی کر دیتا ہے”۔ ان لمبی راتوں میں اٹھ کر جو گناہ ہوئے ان سے معافی مانگیے ، اپنے دکھڑے اپنے اللہ کے حضور پیش کریں،

وہ بہت بڑا غفور رحیم ہے آپ کے معافی مانگتے ہی وہ آپ کے سارے غموں اور پریشانیوں کو بھی ختم کر دے گا اور ساتھ ساتھ گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ آپ کی جب رات کو آنکھ کھل جائے تو ساتھ ہی میرے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بتائی ہوئی دعا پڑھنے کا بھی اہتمام کریں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص رات میں اٹھے اور غنودگی کی حالت میں یہ دعا پڑھے: پھر اس کے بعد جو دعا بھی اللہ سے مانگے گا انشاءاللہ وہ دعا ضرور قبول ہو جائے گی۔ اللہ کی رحمت ہر وقت بندے کو اپنی رحمت دینے کے لیے بہانے تلاش کر رہی ہوتی ہے پھر بندے کو بھی یہ چاہیے کہ وہ اللہ کی رحمت کی جانب متوجہ ہو، اسے اپنی پریشانیاں اور دکھڑے سنائے ہم وہاں سناتے ہیں جہاں لوگ مذاق اڑاتے ہیں وہاں نہیں سنتے جہاں اللہ کی رحمت اپنے بندے کی طرف ہوتی ہے۔ اللہ پاک سے دعا مانگا کریں اس کی رحمت سے مایوس مت ہو جایا کریں۔ اکثر لوگ جن کی عمر اللہ کے نافرمانی اور گناہوں میں گزری ہو شرم کی وجہ سے توبہ نہیں کرتے ایسے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ایک آدمی ساری دنیا کے گناہ گاروں جیسے گناہ کر لے

پھر بھی جب وہ صدقِ کے دل سے اللہ سے معافی چاہے گاتو اللہ پاک اس کو یقیناً معاف فرما دیں گے ۔ قرآن ِ کریم میں یہ خوشخبری گناہ گاروں کو مختلف الفاظ میں سنائی گئی ہیں۔ ایک جگہ فرمایا کہ” آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے میری نافرمانی کرکے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ،با الیقین اللہ تعالی تمام گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دے گا، واقعی وہ بڑا بخشنے والا اور رحمت والا ہے”۔ اللہ پاک کی رحمت کا ایک مشہور واقعہ جو آپ نے سنا ہی ہوگا سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ننانوے قتل کئے تھے۔ اس نے پوچھا کہ زمین کے لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟ لوگوں نے ایک راہب کے بارے میں بتایا، وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ اس نے ننانوے قتل کئے ہیں، کیا اس کے لئے توبہ ہے؟ راہب نے کہا کہ نہیں! تیری توبہ قبول نہ ہو گی تو اس نے اس راہب کو بھی مار ڈالا اور سو قتل پورے کر لئے۔ پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ زمین میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟

لوگوں نے ایک عالم کے بارے میں بتایا تو وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ اس نے سو قتل کئے ہیں، کیا اس کے لئے توبہ ہے؟ وہ بولا کہ ہاں ہے اور توبہ کرنے سے کون سی چیز مانع ہے؟ تو فلاں ملک میں جا اور وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، تو بھی جا کر ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے ملک میں مت جا کہ وہ برا ملک ہے۔ پھر وہ اس ملک کی طرف چلا، جب آدھا سفر طے کر لیا تو اس کو موت آ گئی۔ اب عذاب کے فرشتوں اور رحمت کے فرشتوں میں جھگڑا ہوا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ توبہ کر کے صدق دل کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آ رہا تھا۔ اور عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے کوئی نیکی نہیں کی۔ آخر ایک فرشتہ آدمی کی صورت بن کر آیا اور انہوں نے اس کو فیصلہ کرنے کے لئے مقرر کیا۔ اس نے کہا کہ دونوں طرف کی زمین ناپو اور جس ملک کے قریب ہو، وہ وہیں کا ہے۔ سو انہوں نے زمین کو ناپا تو انہوں نے اس زمین کو قریب پایا جس کا اس نے ارادہ کیا تھا، پس رحمت کے فرشتے اس کو لے گئے۔ قتادہ نے کہا راوی حدیث حسن نے کہا کہ ہم سے یہ بھی بیان ہوا کہ جب وہ مرنے لگا تو اپنے سینہ کے بل بڑھا تاکہ اس ملک سے نزدیک ہو جائے۔(صحیح مسلم)

آخر میں ایک بات جو آپ کو بتانا نہایت مناسب سمجھتا ہوں وہ یہ کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ توبہ انسان جس وقت بھی سچے دل سے کرے گا اللہ پاک اپنے وعدے کے مطابق اس کو قبول کر کے بندے کو گناہوں سے پاک و صاف کرے گا البتہ جب بندہ زندگی سے ناامید ہو جائے اور موت کے فرشتے کو دیکھ لے اور روح حلق میں آجائے اور جان کنی کی وجہ سے سانس میں تنگی ہو جائے تو اس وقت کی توبہ کا بل قبول نہیں۔

Leave a Comment