اسلامک واقعات

حضرت یوسف کا واقعہ

حضرت یوسف علیہ اسلام حضرت یعقوب علیہ اسلام کے لاڈلے بیٹے تھے-اور ان کے گیارہ بھائی تھے-حضرت یوسف علیہ اسلام کے بھائی ان سے بہت خار کھاتے تھے-انکو لگتا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ اسلام حضرت یوسف علیہ اسلام سے زیادہ پیار کرتے ہیں-ایک دن حضرت یوسف کو خواب آیا تھا کہ گیارہ ستارے اور ایک سورج آپ کو سجدہ کر رہے ہیں-

انہوں نے اپنے خواب کا ذکر اپنے بابا سے کیا تو حضرت یعقوب علیہ اسلام نے ان کو تنبہ کی کہ وہ اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نا کرے-ان کو ڈر تھا کہ ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام سے حسد کریں گے اور ان کو نقصان پہنچائیں گے-جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں سے حضرت یعقوب علیہ اسلام کا زیادہ لاڈ پیار نا دیکھا گیا تو انہوں نے حضرت یوسف کو دور بھیجنے کا فیصلہ کیا-کسی نے جان سے مارنے کہا تو کسی نے کوئی مشورہ دیا آخر میں وہ لوگ ان کو ایک کنویں میں پھینکنے کے لیے راضی ہوئے-وہ لوگ اپنے بابا سے زد کرکے حضرت یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے اور یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام کا خیال رکھیں گے-اور پھر وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک کنویں میں پھینک آئے-

اور گھر آکر یہ بتایا کہ وہ دوڑ لگاتے ہوئے آگے کو نکل گئے اور یوسف کو پیچھے سے بھیڑیا کھا گیا-وہ اپنے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کی خون آلود قمیض بھی لے آئے تھے لیکن حضرت یعقوب علیہ اسلام نے ان کا یقین نہیں کیا تھا-کنویں میں حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک گزرتے قافلے نے دیکھا تو اٹھا لیا-ان کو یقین تھا کہ اتنے خوبصورت بچے کے اچھے پیسے ملیں گے انہیں-چناچہ ان قافلے والوں نے آپ کو ایک سردار کو بیچ دیا-اس سردار نے آپ کو اپنی اولاد بنایا اور اپنی بیوی کو بھی ان کا خیال رکھنے کی تاکید کی-اور جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنی جوانی کو پہنچے تو زلیخہ کا دل گمراہ ہونے لگا-اس نے یوسف علیہ السلام کو بہکانا چاہا لیکن آپ علیہ اسلام نے اللہ تعالی سے دعا کی اور کمرے سے باہر جانے لگے جب زلیخہ نے ان کی پیچھے سے قمیض پھاڑ دی-

اور اسی وقت عزیز مصر بھی آگیا-جب معاملہ عدالت کے پاس پہنچا تو کسی نے کہا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیض کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے-اگر قمیض آگے سے پھٹی ہوئی تو یوسف علیہ السلام گناہ کے مرتکب ہونگے اور اگر قمیض پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی تو زلیخہ گناہ کی مرتکب ہوگی چناچہ قمیض پیچھے پھٹی تھی-لیکن عزیز مصر نے معاملہ چھپا دیا اور پھر عورتوں میں چہہ مگویاں ہونے لگیں کہ زلیخہ نے یوسف علیہ السلام کو بہکایا-زلیخہ نے ان عورتوں کو کھانے پہ بلایا جب وہ عورتیں پھل کاٹ رہیں تھیں تو زلیخہ نے یوسف علیہ السلام کو اندر بلایا عوروتوں کی نظر جب حضرت یوسف علیہ السلام پر پڑی تو انہوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں-اور اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل میں ڈال دیا گیا-جیل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ تین ساتھی تھے-

آپ علیہ السلام نے ان کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتائی اور جو قیدی رہا ہونے والا تھا اس کو تاکید کی کہ بادشاہ کو جا کر میرا بتائے کہ ایک بے گناہ جیل میں ہے-وہ شخص رہا ہوتے آپ کو بھول گیا اور حضرت یوسف علیہ السلام کئی سال قید میں ہی ریے-پھر بادشاہ کو ایک دفعہ عجیب خواب آیا اور لوگوں سے پوچھا کہ کوئی اس کی تعبیر بتا سکتا ہے تو اس شخص کو حضرت یوسف علیہ السلام یاد آئے-پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا گیا انہوں نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتائی اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے ان کے معاملے کی حقیقت جاننے کی درخواست کی -اور جب اپ معصوم ثابت ہوئے اور زلیخہ نے اعتراف جرم کیا تو بادشاہ کو معلوم ہوا کہ آپ بہت نیک انسان ہیں-حضرت یوسف علیہ السلام کی درخواست پر ان کو ملک کے خزانوں کا وزیر خزانہ مقرر کیا-

اور اسی دوران آپ کو حضرت یعقوب بھی ملے ان کی آنکھیں نابینا ہو چکیں تھیں حضرت یوسف نے ان کو ایک چادر دی حضرت یعقوب علیہ اسلام نے وہ چادر اپنی آنکھوں پر لگائی اور ان کی بینائی لوٹ آئی-ان کے بھائیوں نے بھی ان سے معافی مانگی اور آپ نے انکو معاف کر دیا-

Leave a Comment