اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت یعقوب علیہ السلام کی قبر مبارک

حضرت یعقوب علیہ السّلام، حضرت اسحاق علیہ السّلام کے بیٹے، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پوتے اور حضرت یوسف علیہ السّلام کے والد ہیں،یوں انبیائے کرامؑ کے مبارک سلسلے میں آپؑ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپؑ کے دادا اور والد نبی ہیں، تو خود بھی اس منصب پر فائز ہوئے اور صاحب زادے کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوّت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی ولادت کی خوش خبری ،حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو آپؑ کے والد حضرت اسحاق علیہ السّلام کی ولادت کی اطلاع کے ساتھ دی تھی۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’پھر ہم نے اُنھیں(ابراہیمؑ کو) اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوبؑ کی خوش خبری دی۔‘‘ (سورۂ ہود71:)ایک اور جگہ ارشاد فرمایا’’اور ہم نے(ابراہیمؑ) کو اسحاق ؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوبؑ (جیسا پوتا) عطا کیا اور سب کو ہدایت دی۔‘‘ (سورۂ انعام84:)حضرت یعقوبؑ کا دوسرا نام، ’’اسرائیل‘‘ تھا، اسی لیے آپؑ کی اولاد’’بنی اسرائیل‘‘ کہلاتی ہے۔ اسرائیل دو الفاظ’’ اسرا‘‘ اور’’ ایل‘‘ کا مرکب ہے۔’’ اسرا‘‘ عبد کو کہتے ہیں اور’’ ایل‘‘ کے معنی اللہ کے ہیں،یوں اسرائیل کا مطلب’’اللہ کا بندہ‘‘ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوبؑ کو یہ فضیلت بھی عطا فرمائی کہ بنی اسرائیل میں مبعوث ہونے والے تمام پیغمبر آپؑ ہی کی نسل میں سے ہیں۔۔ ٓپ نےشام ہجرت فرما ئی جہاں فدان آرام نامی شہر میں اپنے ماموں کے پاس گئے اور کچھ عرصے تک وہاں چوپانی میں مشغول رہے اور وہیں انہوں نے اپنے ماموں کی دو بیٹیوں سے شادی کی۔

البتہ قرآن کریم کی آیات کے مطابق، دو بہنوں سے شادی اسلام سے پہلے جائز تھی۔ان کے بارہ فرزند تھے جن میں سے حضرت یوسف علیہ السلام و بنیامین کی ماں راحیل علیہ السلام تھیں۔ اسی طرح سے قرآن کریم نے ان کے نابینا ہونے کی داستان کا اس طرح سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے فرزند یوسف کے گم ہو جانے کے بعد ان کے فراق میں سالہا اس قدر گریہ کیا کہ ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم (ع) کو حضرت اسحاق و حضرت یعقوب کی ولادت کی بشارت دی ہے۔ قران کے 10 سورہ میں 16 مرتبہ کلمہ یعقوب ذکر ہوا ہے اور سورہ آل عمران و سورہ مریم میں دو بار اسرائیل نام ذکر ہوا ہے۔ قرآن کریم نے یعقوب کے بیٹوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے: جس وقت حضرت یوسف کے بھائی اپنی غلطی پر نادم ہوئے تو انہوں نے بجای اس کے وہ خدا سے طلب عفو کرتے انہوں نے حضرت یعقوب کو واسطہ قرار دیا اور ان کے گزارش کی وہ اللہ سے ان کے لئے طلب مغفرت کریں ۔ان کے فرزند جناب یوسف کے مل جانے کے بعد انہوں نے مصر کی طرف ہجرت کی اور کچھ مدت تک وہیں زندگی بسر کی۔حضرت یعقوبؑ کی وفات کا وقت قریب آیا، تو آپؑ نے اپنے سب بیٹوں کو جمع کیا اور اُن سے پوچھا’’ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا’’ اے ابّا جان! ہم سب اُس ربّ کی عبادت کریں گے، جو آپؑ کا اور آپ ؑکے آبائواجداد ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کا معبود ہے۔‘‘ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’بھلا جس وقت یعقوبؑ وفات پانے لگے، تو تم اُس وقت موجود تھے۔ جب اُنہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ’’ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟‘‘ تو اُنہوں نے کہا کہ’’ آپؑ کے معبود اور آپؑ کے باپ ،دادا ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ کے معبود کی عبادت کریں گے۔ جو معبودِ یکتا ہے اور ہم اس کے فرماں بردار رہیں گے۔‘‘ (سورۃ البقرہ133:)اسی سورت کی آیت 132میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اور اس بات کی ابراہیمؑ نے اپنے بیٹوں کو وصیّت کی اور یعقوبؑ نے بھی (اپنے بیٹوں کو) کہ اے میرے بیٹو! اللہ نے یہی دین تمہارے لیے منتخب فرمایا ہے، لہٰذا، تمہیں موت آئے، تو اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو ۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے مِصر میں 24سال رہنے کے بعد وفات پائی اور وفات سے پہلے حضرت یوسف علیہ السّلام کو وصیّت فرمائی کہ’’ میری میّت میرے وطن بھیج کر والد، اسحاق علیہ السّلام کے پاس دفن کیا جائے۔‘‘

حضرت یعقوب علیہ السّلام کی میّت کو لکڑی کے تابوت میں رکھ کر بیت المقدس منتقل کیا گیا۔ اسی وجہ سے عام یہود میں یہ رسم چل نکلی کہ وہ اپنے مُردوں کو دُور دُور سے بیت المقدّس لے جا کر دفن کرتے ہیں۔ وفات کے وقت حضرت یعقوب علیہ السّلام کی عُمر ایک سو سینتالیس سال تھی۔ ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت یعقوب علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائےخیر عطا فرما ئے۔۔۔

Leave a Comment