اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت یحیی علیہ السلام کا مزار

حضرت یحییٰ علیہ السّلام اپنے والد، حضرت زکریا علیہ السّلام کی طرح اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپؑ کا نام خود اللہ جل شانہ نے تجویز فرمایا۔ایک دن آ پ کے والد حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم کے لیےبہشت سے بھیجے گئے نعمات کو دیکھ کر خدا سے اولاد سےدرخواست کرتے ہوئے کہا:یا اللہ ! مجھے اپنی طرف سے ایک پاک و پاکیزہ فرزند عطا فرما بتحقیق تو دعاوں کو سننے والا ہےحضرت زکریا نے اپنی دعا میں خاندان یعقوب کا کوئی وارث نہ ہونے اور پنے بعد اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خدا سے درخواست کی۔خدا نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں بڑھاپے اور ان کی بیوی کے بانجھ ہونے کی باوجود انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا۔ حضرت یحیی کی والدہ گرامی حضرت مریم کی خالہ تھی اور حضرت مریم کے حاملہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بھی بطور معجزہ حاملہ ہو گئی اور خدا نے انہیں بیٹے کی نعمت سے مالا مال فرمایا جس کا نام یحیی رکھا گیا۔حضرت یحیی بچپنے میں ہی نبوت کے مقام پر فائز ہوئے۔ آپ حضرت عیسی کی نبوت کے تصدیق کنندہ تھے جسے خدا نے آپ کی خصوصیات میں سے ایک قرار دیا ہے۔آپ حضرت موسی کی شریعت کو زندہ کرنے والے تھے۔ اور حضرت عیسی کے مقام نبوت پر فائز ہونے کے بعد آپ ان پر ایمان لے آئے۔ حضرت یحیی حضرت عیسی سے 6 ماہ بڑے تھے اور حضرت عیسی کی نبوت کو تسلیم اور تصدیق کرنے والی سب سے پہلی شخصیت آپ ہی کی ذات تھی۔ چونکہ آپ لوگوں کے درمیان زہد اور پاکدامنی میں شہرت رکھتے تھے اس بنا پر آپ لوگوں کو حضرت عیسی کی طرف دعوت دینے میں زیادہ مؤثر واقع ہوئے۔ قرآن میں حضرت یحیی کا نام چار سورتوں میں پانچ دفعہ آیا ہے ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں آپ کے َمقام و منزلت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: : ان پر ہمار اسلام جس دن پیدا ہوئے اور جس دن انہیں موت آئی اور جس دن وہ دوبارہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔

حضرت یحیی خوف خدا میں بہت زیادہ گریہ و زاری کرتے یہاں تک کہ آنسوؤں کی وجہ سے رخساروں پر نشان پڑ گئے تھے۔ ایک روز والدین اُن کی تلاش میں نکلے، تو دیکھا کہ وہ جنگل میں ایک قبر کھودے اُس پر کھڑے زار و قطار رو رہے ہیں۔ والدین نے فرمایا’’ بیٹے! ہم تین دن سے تمھاری تلاش میں ہیں۔‘‘ اس پر آپؑ نے آخرت کے حوالے سے ایسی پُراثر گفتگو کی کہ والدین رو پڑے۔ حضرت یحییٰ بے حد حلیم، رقیق القلب، پاک باز،عابد و متقّی، اِستغنا و قناعت سے سرشار، شرم و حیا کے پیکر اور شیریں کلام تھے۔ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے۔ غذا بقدرِ ضروت اور لباس اتنا ہوتا، جو ستر پوشی کے لیے کافی ہو۔

اُنھیں جنگلوں، بیابانوں سے محبّت تھی، زندگی کا زیادہ تر حصّہ وہیں گزارا۔ جہاں درختوں کے پتّے اور شہد بہ طورِ غذا تناول فرماتے، پیاس لگتی تو نہر سے پانی پی لیتے۔ زندگی بھر شادی نہیں کی۔ حضرت عیسیٰ اُون کا لباس پہنتے، جب کہ حضرت یحییٰ ؑ جانوروں کے بالوں کا لباس زیبِ تن کرتے۔درہم و دینار تھے، نہ کوئی غلام یا باندی۔ کوئی مخصوص ٹھکانا بھی نہ تھا، جہاں رات ہوجاتی، وہیں بسیرا کر لیتے۔ حضرت جبرائیل امینؑ جنگل ہی میں وحی لے کرحاضر ہوئے۔حضرت عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ’’ بچّوں نے حضرت یحییٰ ؑکو بچپن میں کہا ’’ آؤ چل کر کھیل کود کریں‘‘، تو آپؑ نے فرمایا’’ ہم کھیل کود کے لیے پیدا نہیں کیے گئے۔آپ کی شہادت کے متعلق واقعہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیہ کا بادشاہ’’ ہیرود ‘‘ ایک عیّاش شخص تھا، جس کی وجہ سے پورے مُلک میں فسق و فجور پھیل رہا تھا۔ اُس نے اپنے حقیقی بھائی، فلپ کی بیوی، ہیرودیاس کو بغیر نکاح اپنے گھر میں رکھا ہوا تھا۔حضرت یحییٰ چوں کہ نبی تھے اور دعوتِ حق کا فریضہ سرانجام دیتے تھے، اُنہوں نے بادشاہ کی ان فحش حرکات کے خلاف آواز بلند کی، جس کے نتیجے میں اُنہیں گرفتار کر کے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔تاہم، بادشاہ اُن سے ڈرتا بھی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آپؑ اللہ کے نبی اور نیک و پارسا انسان ہیں، نیز عوام میں بڑی عزّت ہے، لیکن بادشاہ کی داشتہ، ہیرودیاس حضرت یحییٰ ؑ کی تعلیمات کو اپنے اور اپنی جیسی دوسری بدکار عورتوں کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتی تھی۔چناں چہ وہ آپؑ کی جان کے درپے ہو گئی۔ اسی اثناء میں بادشاہ کی سال گرہ کے سلسلے میں محل میں رقص و موسیقی کی محفل جَمی، جس میں ہیرودیاس کی جواں سال، خُوب صورت بیٹی نے رقص کے ہیجان خیز تیر چلا کر بادشاہ کو اپنے جال میں پھانس لیا۔ بادشاہ نے خوش ہو کر اُس سے کہا’’ مانگ کیا مانگتی ہے…؟‘‘ بیٹی نے اپنی ماں سے مشورہ کیا،وہ تو پہلے ہی ایسے موقعے کی تاک میں تھی، لہٰذا بیٹی سے کہا’’ یحییٰ ؑکا سَر مانگ لے‘‘۔ بیٹی نے بادشاہ کے سامنے ادب سے جُھک کر عرض کیا’’ اے بادشاہ سلامت! مجھے یحییٰ ؑکا سَر تھال میں رکھ کر منگوا دیجیے۔‘‘ بادشاہ یہ سُن کر غمگین تو ہوا، مگر محبوبہ کی بیٹی کی فرمائش کیسے رَد کر سکتا تھا۔چناں چہ اُس نے فوراً قید خانے سے حضرت یحییٰ ؑ کا سَر کٹوا کر منگوایا اور ایک تھال میں سجا کر محبوبہ کی رقاصہ بیٹی کی نذر کر دیا۔کہتے ہیں کہ دمشق کی جامع مسجد ،بنی اُمیہ کے ہال میں آپؑ کا سَرمبارک دفن ہے۔ اُموی خلیفہ، ولید بن عبدالملک نے یہ مسجد تعمیر کروائی تھی۔

مؤرخین نےبیان کیا ہے کہ دَورانِ تعمیر یہاں ایک غار دریافت ہوا۔اطلاع ملنے پر خلیفہ خود غار میں داخل ہوئے، تو دیکھا کہ ایک صندوق میں انسانی سَر رکھا ہوا ہے اور صندوق پر تحریر ہے’’ یہ حضرت یحییٰ ؑبن زکریا ؑکا سَر ہے۔‘‘ اُن کا چہرہ اور بال اپنی اصلی حالت میں تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے ابھی شہید ہوئے ہوں۔ایک اور قول کے مطابق آپ کا سر “سَباستِیہ” نامی مقام پر ایک مسجد میں دفن ہی جو بیت المقدس کے شمال میں واقع ہے جسے یہودی شومِرون کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مسیحیوں نے بھی آپ کے احترام میں اس مسجد کے ساتھ ایک کلیسا تعمیر کی ہے جس کا نام “یحیای تعمید دہندہ” رکھا گیا ہے۔ ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت یحیی علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرما ئے۔۔۔۔۔

Leave a Comment