اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت ھودعلیہ السلام کی قبر مبارک

حضرت ہود علیہ السلام اللہ کے پیغمبر تھے۔ قرآن پاک کی گیارویں سورہ آپ کے نام پر ہے۔ یمن اور عمان کے درمیان “احقاف” نامی سرزمین پر قوم عاد رہتے تھے اوروہاں پر نعمات کی فراوانی کے سبب خوشحال اور آرم دہ زندگي بسر کر رہے تھے، آہستہ آہستہ توحید کو چھوڑ کر بت پرستی اختیار کی اور فسق و فجور میں غرق ہو گئے اور ان کے ظالم ضعیف لوگوں پر ستم ڈھاتے تھے ۔

طوفانِ نوحؑ کے بعد قومِ عاد ہی وہ قوم تھی، جو سب سے پہلے کفر و شرک میں مبتلا ہوکر بُتوں کی پجاری بنی۔ اُنہیں اپنے پتھروں کے خدائوں پر بڑا گھمنڈ تھا۔ اُن کی معاشی حالت تو بہت عُمدہ تھی، لیکن جہالت، گم راہی، جھوٹ، بے حیائی، باطل اقوال اور فاسد خیالات نے اُنہیں معاشرتی طور پر تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا تھا، چناں چہ کفر و شرک کے سمندر میں غرق، قومِ عاد کی بداعمالیاں جب اپنی آخری حدود پار کرگئیں، تو اللہ تعالیٰ نے اُن ہی میں سے اپنے ایک نیک بندے، حضرت ہودؑ کو پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا۔ چناں چہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’اور ہم نے قومِ عاد کی طرف اُن کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔ اُنہوں نے کہا’’ بھائیو! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟‘‘، تو اُن کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے ’’ تم ہمیں کم عقل نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا’’ میری قوم! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ مَیں ربّ العالمین کا پیغمبر ہوں۔ مَیں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار، خیرخواہ ہوں۔ کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے۔ اور یاد تو کرو، جب اُس نے تم کو قومِ نوحؑ کے بعد سردار بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلائو زیادہ دیا۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔‘‘ وہ کہنے لگے،’’ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ، دادا پوجتے چلے آئے ہیں، اُن کو چھوڑ دیں؟ پس اگر تم سچّے ہو، تو ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو، اس کو ہمارے پاس لے آئو۔ حضرت ہودؑ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرتے رہے۔ کبھی وہ اُنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کی یاد دِلاتے، تو کبھی عذابِ الٰہی سے ڈراتے، لیکن وہ بہرے اور اندھے بنے رہے۔ حضرت ہودؑ مسلسل پچاس برس یا اس سے بھی زیادہ درس و نصیحت میں مصروف رہے۔

قومِ عاد کے تیرہ قبائل میں سے’’ لقمان‘‘ اور’’ خلجان‘‘ نامی قبائل نہایت طاقت وَر تھے اور اُنھیں حکم ران کی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت ہودؑ نے جب دعوتِ حق دی اور کفر و شرک چھوڑ کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلایا، تو لقمان قبیلے نے سخت مزاحمت کی اور حضرت ہودؑ کے دشمن ہوگئے۔ اس کے برعکس، دوسرے قبیلے، خلجان نے حضرت ہودؑ کی باتوں پر غور و خوض کیا اور اُن میں سے اکثر جلد ہی آپؑ کی دعوت کو قبول کرکے ایمان لے آئے۔۔‘‘ حضرت ہودؑ نے اپنی قوم کو راہِ حق پر گام زَن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر قوم نے اُن کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا، تو بالآخر اُنھوں نے بارگاہِ الٰہی میں مدد کے لیے دستِ دُعا دراز کیے، جسے قرآنِ کریم نے یوں بیان کیا ’’نبیؑ نے دُعا کی کہ’’ اے پروردگار! اُنہوں نے مجھے جھوٹا کہا ہے، پر تُو میری مدد فرما۔‘‘ (المومنون39:) اللہ نے اپنے نبیؑ کی فریاد کے جواب میں فرمایا’’ (اے نبیؑ) یہ بہت جلد اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے۔‘‘ اور اللہ کے عذاب کا کوڑا برسا یہاں تک کہ آسمان پر کالے بادل چھاگئے اور قوم عاد کے جاہل لوگ کہنے لگے اس سے ہمارے لیے مفید بارش برسے گی۔ مگر ہود نے ان سے کہا کہ : یہ بادل رحمت کے نہیں بلکہ غضب کے ہیں۔

مگر انہوں نے آنحضرت کی ایک بھی نہ سنی ۔ کچھ دیر بعد ہود کا کہا سچائی میں بدلتا گيااور تیز ہوائيں چلنی لگی جن کی رفتار انتی زیادہ تھی کہ گھوڑوں، مال مویشیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دے مارتی تھی۔سات دن رات یہ تیز ہوائيں چلتی رہی اور اس دوران ریت کا طوفان اٹھا اور تمام مکانوں اور انسانوں پر گرا اور سب لوگ ہلاک ہو گئے صرف حضرت ہود اور ان کے چند اصحاب جنہوں نے امن کی جگہ پناہ لی تھی بچ گئے۔اس واقعے کے بعد حضرت ہود سرزمین ” حضرموت” چلے گئے اور وہاں باقی عمر گزاری ۔ یہ واقع شوال کے مہینے میں رونما ہوا ۔ٓپ نے وہیں وفات پائی۔آپ کا مزار کرک اردن میں واقعہ ہیں ۔ ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت ھود علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائےخیر عطا فرما ئے۔۔۔۔

Leave a Comment