اسلامک معلومات اسلامک واقعات اسلامک وظائف

حضرت موسی علیہ السلام کے شہر کا گناہ گار نوجوان

حضرت موسی علیہ السلام کے کے شہر میں ایک نوجوان رہتا تھا-جو کہ غلط کاموں میں پڑ گیا تھا-لوگ اس سے تنگ آگئے اور اسے شہر سے باہر نکال دیا گیا-اس وقت شہر سے باہر نکالا جانا بہت بڑی سزا تھی-جہاں وہ گیا اس وقت اس نوجوان کے پاس کوئی روزگار نہیں تھا اور نا ہی وہ وہاں کسی کو جانتا تھا-شروع شروع میں تو وہ رہ لیا لیکن جب پیسے اور غذا وغیرہ ختم ہوئی تو اسے فاقے کرنا پڑے-

اس نے مدد کے لیے دائے جانب دیکھا تو کوئی نا ملا پھر اس نے بائیں جانب دیکھا تو وہاں بھی کوئی نا تھا-پھر اس نوجوان نے آسمان کی طرف دیکھا-اور اللہ سے معافی مانگی-تو چناچہ وہ شخص مر گیا-اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو پیغام پہنچایا کہ میرا ایک دوست جنگل میں مر گیا ہے-اس کو شہر لے آو اور جو اس کی نماز جنازہ میں شامل ہوگا اس کو معاف کر دیا جائے گا-لوگ تو ویسے ہی ہر چیز کے لیے شورٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اور فری کی چیز کو ویسے بھی کوئی انکار نہیں کرتا یہ تو پھر اللہ کی معافی تھی تو کافی لوگ راضی ہوئے-جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ تو وہی نوجوان ہے جس کو انہوں نے شہر سے نکالا تھا تو وہ حضرت موسی علیہ السلام سے سوال کرنے لگے-کہ بھلا ایک گناہ گار کی نماز جنازہ ادا کرنے سے ان کو کیسے معافی مل سکتی ہے-تو حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالی نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی اس شخص کو مارنے ہی والے تھے اللہ نے اس کی موت کا پروانا جاری کر دیا تھا لیکن اس سے پہلے اس نوجوان نے دائیں دیکھا اور پھر بائیں دیکھا اور پھر آسمان کی طرف اللہ کو دیکھا اور معافی مانگی تو اللہ تعالی فرماتے ہیں

کہ اگر وہ نوجوان اس وقت مجھے ساری دنیا کو معاف کرنے کا کہتا تو میں معاف کر دیتا-یعنی اللہ تعالی اتنے رحیم ہیں-اللہ تعالی کو اس نوجوان کی چھوٹی سی ادا بھا گئی اور اللہ نے اس کے گناہ معاف کر دیے-اس سے ہمیں کیا پتا چلتا ہے کہ گناہ کرنے کے بعد پچھتاتے نا رہیں اس سے معافی مانگے آپ جتنی دفعہ معافی مانگے گے وہ اتنی دفعہ معاف کرے گا-کیونکہ اللہ سے بڑھ کر رحیم کوئی نہیں-وہ ساری کائنات کا مالک جس کے قبضے میں ہماری جان ہے ہماری زبان سے صرف استغفار سنتا ہے اور ہمارے بد ترین گناہ معاف فرما دیتا ہے-

Leave a Comment