اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت موسی علیہ السلام کی قبر مبارک۔

حضرت موسی علیہ السلام اللہ رب العزت کے بر گزیدہ پیغمبر تھے۔ٓپ کی پیدائش مصر میں ہوئی۔حضرت موسیٰ ؑکانسب مبارک موسیٰ بن عمران بن قاہث بن عازر بن یعقوبؑ بن اسحاق ؑ بن ابراہیم ؑ ہیں ۔ حضرت موسیٰؑ کی پیدائش مِصر میں ہوئی۔ حضرت ہارونؑ آپؑ کے حقیقی بڑے بھائی تھے۔ حضرت موسیٰؑ کی دُعا کی بہ دولت اللہ تعالیٰ نے اُنھیں بھی نبوّت عطا فرمائی اور حضرت موسیٰؑ کا مددگار بنایا۔اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت موسیؑ کی حیاتِ طیبہ کے واقعات قرآنِ کریم کی مختلف سورتوں میں بیان فرمائے ہیں، کہیں تفصیل سے اور کہیں اختصار کے ساتھ۔ جب کہ آپ ؑکا اسمِ مبارک قرآنِ پاک میں 128بار آیا ہے۔اللہ رب العزت نے حضرت موسی ؑ کو عصا کا معجزہ عطا فرما یا تھا ۔اس کا یہ معجزہ تھا کہ فرعون کے ساحروں کے مقابلے میں سانپ یا اژدہا بن گئی تھی۔ حضرت موسیٰ کا عصا جنتی آس کا تھا آپ کے قد کے برابر دس ہاتھ لمبا تھا اور اس میں دو شاخیں تھیں تاریکی میں روشن ہوجاتیں اس عصا کو آدم ( علیہ السلام) جنت سے لائے تھے۔ آدم کے بعد انبیا میں نسلاً بعد نسلٍ چلا آیا حتیٰ کہ شعیب کو مرحمت فرمایا۔ یہ لاٹھی حضرت آدم علیہ السلام کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل سمیت مصر چھوڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لیے دریائے نیل پار کر رہے تھے تو فرعون بھی اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کرتے ہوئے دریائے نیل میں اتر پڑا مگر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دریا پار کروانے کے بعد دریا کے پانی کو چلا دیا اورفرعون کو اس کے لشکرسمیت ڈبوکر ہلاک کر دیا۔ اس سارے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما یا ہے کہ اوربنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے۔ پھر فرعون اوراس کے لشکر ظلم اورزیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا میں نے مان لیا کہ خداوندِحقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی سرِاطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں(جواب دیا گیا) اب ایمان لاتا ہے!حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اورفساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔

اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان ِ عبرت بنے، اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ہم فرعون کی لاش کو محفوظ رکھیں گے تاکہ بعدمیں آنے والے لوگوں کے لیے وہ باعث عبرت ہو۔ اپنے آپ کو خداکہلوانے والے کی لاش کو دیکھ کر آنے والی نسلیں سبق حاصل کریں۔ چنانچہ اللہ کا فرمان سچ ثابت ہوا اور اس کا ممی شدہ جسم 1898ء میں دریائے نیل کے قریب تبسیہ کے مقام پر شاہوں کی وادی سے اوریت نے دریافت کیا تھا۔ جہاں سے اس کو قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔ اس وقت یہ ممی محفوظ رکھنے کے لیے تسلی بخش حالت میں تھی حالانکہ ا س کے کئی حصے شکستہ ہو گئے تھے۔ اس وقت سے ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں سیاحو ں کے لیے سجی ہوئی ہے۔ اس کا سر اورگردن کھلے ہوئے ہیں اورباقی جسم کو ایک کپڑے میں چھپاکرر کھا ہواہے اللہ تعالیٰ کایہ فرمان کہ ہم فرعون کی لاش کوسامانِ عبرت کے لیے محفوظ کر لیں گے صرف قرآن مجید میں موجود ہے، اس سے پہلے کسی دوسری آسمانی کتاب میں اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ٓاس کے بعد بھی حضرت موسی اپنی قوم بنی اسرائیل کی تربیت واصلاح میں مشغول رہے ۔۔ جب ملک الموت حضرت موسی علیہ اسلام کے پاس آئے تو حضرت موسی علیہ اسلام نے پوچھا اے ملک الموت تو میری زیارت کو آیا ھے یا میری روح قبض کرنے۔ ملک الموت بولے روح قبض کرنے آیا ھوں۔ حضرت موسی علیہ اسلام نے فرمایا تو کس راہ سے میری روح قبض کرے گا۔ملک الموت بولے تمھارے منہ سے حضرت موسی علیہ اسلام نے کہا تجھ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ میں نے منہ سے خدا سے تکلم کیاانہوں نے کہا کہ میں آنکھ سے نکال لوں گا تو حضرت موسی علیہ اسلام کہنے لگے آنکھ سے میں نے خُدا کا نور دیکھا ھے انہوں نے کہا اچھا ہم پیر کی راہ سے نکالے گے حضرت موسی علیہ اسلام نے کہا کہ میں پیر سے چل کر کوہ طور پر گیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں خُدا کے حکم سےتیری روح قبض کروں گا۔پس حضرت موسی بہت غصے میں آئے اور کہا اے عزرائیل کتنے ہزار کلام میں نے خُدا سے بلا واسطہ کیے کوئی بیچ میں واسطہ نہ تھا۔ پس آپس کی عزت کی قسم ھے کہ جلدی جان دینا پسند نہ کرونگا۔ اللہ سبحان تعالی سے میرا اور بھی سوال ھے ملک الموت یہ سن کر چلے گئے۔ جناب باری تعالی میں عرض کی کہ خُدایا تجھ کو خوب معلوم ھے جو موسی نے مجھ کو کہا کہ اس وقت میں جان دینا پسند نہ کرونگا۔ پھر خطاب آیا کہ اے موسی تو میری طرف آنے کو راضی نہیں ھے۔ وہ فورا بول اُٹھے اے میرے پروردگار میں تیرے پاس آنے پر راضی ھوں مگر ایک بار تیرے دیدار کی تمنا رکھتا ھوں کہ میں کوہ طور پر جاکر مناجات اور شکر کروں اور وہی تیرا کلام سنوں پس حضرت موسی نے کوہ طور پر جا کر عرض کی خدایا میں اپنی آل اور امت تجھ کو سونپی اُس کو تو اپنی رضا پر رکھیو اور ان کو مال حرام سے باز رکھیو۔ اور ان کو روزی میں حلال دیجیو۔ کیوں کہ میری امت ناتواں ھے۔ پس ندا آئی اے موسی زمیں پر عصا مار۔ جب عصا مارا تو پھٹ کر دریا نکلا پھر حکم ھو اکہ دریا میں عصا مارو۔جب مارا تو اُس کے اندر سے سیاہ پتھر برآمد ھوا پھر حکم ھوا کہ اِس پتھر پر عصا مارو۔جب مارا تو وہ پتھر دو ٹکڑے ھو گیا۔اُس میں ایک کیڑا نکلا وہ کیڑا منہ میں گھاس لیکر اللہ کا ذکر کرتا ھوا تسبیح کر رہا تھا کہ اے پروردگار تو مجھ کو دیکھتا ھے اور میرا کلام سنتا ھے اور جگہ میری جانتا ھے اور روزی پتھر کے اندر پہنچاتا ھے۔کسی کو محروم اور بھوکا نہیں رکھا اپنے فضل وکرم سے۔۔ پس جناب باری تعالی سے ارشاد ھو کہ اے موسی میں پتھر کے اندر کیڑے کو روزی پہچاتا ھوں اس کو بھی نہیں بھولا تو میں تیری امت کو کیونکر بھولوں گا۔

یہ سن کر حضرت موسی بہت خوش ھو کر کوہ طور سے نیچے اتر آئے اور راہ میں کیا دیکھتے ہیں سات آدمی ایک قبر کھود رہے ہیں ۔ان سے پوچھا تم کس واسطے یہ قبر کھود رہے ھو۔انہوں نے کہا حضرت موسی سے کہا جو صاحب قبر ھے وہ تمھارے قد کے برابر ھے ایک بار تم قبر میں اُتر کر تو دیکھو تمہارے قد کے برابر ھوئی کہ نہیں۔ تب حضرت موسی نے قبر میں اُتر کر دیکھا اور پھر کہا یہ کیا خوب جگہ ھے کاش یہ قبر میرے لیے ھوتی تو کیا خوب تھا۔

اسی وقت جبرائیل نے ایک سیب بہشت سے لاکر حضرت موسی کے سامنے رکھ دیا انہوں نے اس کو سونگھا اور فورا جان بحق تسلیم ھو گئے۔ اور فرشتوں نے آپ کو نہلا دھلا کر بہشت کا کفن پہنایا اور جنازہ پڑھ کر اُسی قبر میں دفن کرکے قبر کو چُھپا دیا۔ آپ کی وفات جبل موٓب میں ہوئی اورآپ مسجد خلیل فلسطین میں سپرد خاک ہیں ۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت موسی علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرما ئے۔۔۔۔۔۔۔آمین ثم آمین ۔۔۔

Leave a Comment