اسلامک واقعات دلچسپ وعجیب قصص الانبیا ء

حضرت موسی علیہ اسلام کی وفات اور بنی اسرائیل کی ہجرت کا واقعہ

حضرت موسی

معزز خواتین وحضرات! سیدنا موسیؑ تمام صبر آزما حا لات میں ایک اولو العزم پیغمبر کی طرح ہر قسم کی ایذاءرسانی و مخالفت کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ بنی اسرائیل کی رشد ہدایت اور ان کی اصلاح میں مشغول و منہمک تھے کہ داعی اجل کو لبیک کہنے کا وقت آپہنچا۔بخاری و مسلم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ ؑکی وفات کا وقت قریب آیا تو موت کا فرشتہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا

اور کہا کہ اپنے پروردگار کی جانب سے پیغام اجل کوقبول فرمائیے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اس کے طمانچہ رسید کر دیا جس سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی، تب اس نے دربار الٰہی میں جا کر شکایت کی کہ تیرا بندہ موت نہیں چاہتا اور یہ کہ اس نے میرے طمانچہ رسید کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی آنکھ پھر درست ہو گئی اور اس کو حکم ملا کہ موسیٰ ؑکے پاس دوبارہ جاﺅ اور کہو کہ اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ کسی بیل کی کمر پر تم اپنا ہاتھ رکھ دو جس قدر بال تمہاری مٹھی میں آجائینگے ہم ہر ایک بال کے عوض تمہاری عمر میں ایک سال کا اضافہ کر دینگے۔ فرشتہ نے دوبارہ حاضر ہو کر حضرت موسیٰ کو خدائے تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے دریافت کیا کہ بار الٰہا ! اس کے بعد کیا انجام ہو گا؟ حضرت حق سے جواب ملا کہ آخر کار پھر ” موت“ ہے۔ تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اگر طویل سے طویل زندگی کا آخری نتیجہ موت ہی ہے تو پھر وہ شے آج ہی کیوں نہ آجائے اور دعاءکی الہ العلمین اس آخری وقت میں ارض مقدس سے قریب کر دے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اس جگہ ہوتا تو تم کو حضرت موسیٰ کی قبر کا نشان دکھاتا کہ وہ سرخ ٹیلہ کثیب احمرکے قریب اس جگہ دفن ہیں۔اریحاءمیں سرخ ٹیلہ کے قریب ایک قبر ہے جس کو حضرت موسیٰ کی قبر بتایا جاتا ہے۔ میدان تیہ کے سب سے قریب وادی مقدس کا علاقہ اریحا کی بستی ہے اور اسی جگہ وہ کثیب احمر (سرخ ٹیلہ) کاقع ہے جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔

اس واقعہ میں انسانی موت و حیات کے مسئلہ کو ایسے انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی خدمت میں جب موت کا فرشتہ حاضر ہوا تو بشری شکل و صورت میں تھا ، حضرت موسیٰ اؑس کو اس حالت میں اس طرح نہ پہچان سکے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام عذاب کے فرشتوں کو ابتداءنہ پہچان سکے۔ حضرت موسیٰ کو یہ ناگوار گزرا کہ ایک اجنبی شخص بغیر اجازت کیوں ان کے خلوت کدہ میں گھس آیا اور اس کو موت کاپیغام دینے کا کیا حق ہے اور طیش میں آکر منہ پر طمانچہ مار دیا، فرشتہ بشکل انسان تھا لہٰذا بشری اثرات نے کام کیااور آنکھ مجروح ہو گئی۔ مگر جس طرح عذاب کے فرشتوں نے آہستہ آہستہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کواپنی اصل حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا، موت کے فرشتہ نے حضرت موسیٰ ؑ کو آگاہ نہ کیا اور فوراً غائب ہو گیا اور درگاہ الٰہی میں جا پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو پھر ملکوتی ہیئت پر واپس کر دیا، اور اس طرح وہ اس عیب سے بری ہو گیا جو بشری شکل و صورت میں آنکھ مجروح ہو جانے سے پیدا ہوگیا تھا۔فرشتہ موت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خیالات سے آشنا ہوئے بغیر خود ہی یہ سمجھ لیا کہ حضرت موسیٰ موت کے نام سے خفا ہو گئے اور وہ موت نہیں چاہتے اور دربار الٰہی میں جاکر یہ شکایت کر دی کہ تیرا بندہ موت نہیں چاہتا۔ خدائے تعالیٰ نے فرشتہ کی غلط فہمی اور حضرت موسیٰ کی جلالت شان دونوں کے اظہار کے لئے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ حضرت موسیٰ کو جا کر ہمارا پیغام سناﺅ ادھر فرشتہ پیغام حاصل کر رہا تھا اور ادھر حضر ت موسیٰ نے اجنبی شخص کے غائب ہو جانے پر فوراً یہ محسوس کر لیا کہ در حقیقت یہ معاملہ انسانی معاملات سے جدا دوسرے عالم کا ہے۔

چنانچہ جب فرشتہ اجل نے دوبارہ حاضر ہو کر حضرت موسیٰ ؑ کو پیغام الٰہی سنایا تو ان کا لہجہ اور طرز گفتگو بالکل دوسرا ہوگیااور انجام کا ر وہ رفیق اعلیٰ سے جا ملے اور قربت موت کی جو چند گھڑیاں تھیں وہ موت سے قبل اس طرح سامان عبرت و موعظت بنیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سوبیس سال کی ہوئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات اور حضرت موسیٰ ؑ کی ولادت کے درمیان تقریباً ڈھائی سو سال کا عرصہ ہے۔ بنی اسرئیل عرصہ دراز قبل از مسیح حجاز میں آکر بس گئے تھے اور تیما ، وادی قرنی ، فدک خیبر اور مدینہ (یثرب) میں انہوں نے مکانوں، مذہبی صومعوں، جائیدادوں ، مذہبی درسگاہوں اور فوجی چھاﺅنیوں اور قلعوں کے ذریعہ اپنا مستقل تمدن قائم کر لیا تھا اور بقبول عرب مورخین بنی قریظہ بنی نضیر، بنی قینقاع اور بنی حارث بڑے بڑے یہود قبائل نے ان مقامات کو اپنا مستقل موطن بنا لیا تھا اور وہ یہیں رہ پڑے تھے ۔ ایک یہ کہ وہ کونسا ناگزیر واقعہ پیش آیا کہ جس کی وجہ سے ”یہود“ کو وہ سرزمین چھوڑنی پڑی جس کو ”فلسطین“ کہتے ہیں اور جس کے متعلق یہود کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ ”ارض مقدس“ ہے اور وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں؟ دوسرے یہ کہ اگر کسی ناگزیر حالت میں ان کو اپنی یہ محبوب سرزمین چھوڑنی ہی پڑی تھی تو پھر وہ کونسا سبب تھا جس نے انکو مجبور کیا کہ وہ قریب کے سرسبز و شاداب اور پر کیف علاقوں کو چھوڑ کر ایسے علاقہ میں آکر آباد ہوئے جہاں گھاس پات اور زندگی کے لئے سامان خورش بھی وسعت کے ساتھ مہیا نہیں تھا،

حالانکہ ”مصر“ ان کی سرزمین سے قریب تھا، عراق ان کا قدیم دارالہجرة اور نزدیک تھا اور شام ان کے شمال میں متصل ہی آباد تھا اور یہ سب مقامات بے حد سرسبز و شاداب و متمدن سروسامان کامرکز تھے۔پہلے سوال کا جواب تو تاریخ یہ دیتی ہے کہ فلسطین کی محبوب ، مقدس اور پیاری سرزمین سے یہو دکو 71قبل مسیح طیطس رومی کے زمانہ میں جبراً نکلنا پڑا۔ اس بادشاہ نے فلسطین پر فوج کشی کر کے بلا د فلسطین کو تہہ و بالا کر ڈالا، بیت المقدس کوبرباد کر دیا ۔ اس ”ہیکل“ کو جس پر یہود کو ناز تھا اور جس کی مضبوطی اور پر شوکت تعمیر کی وہ مثالیں دیا کرتے تھے اور جس کے سازو سامان اور مکلل مذہب ظرف پر وہ فخر کیا کرتے تھے ”ظالم “ نے اس کو کھود کر پھینک دیا تھا اور اس کے تمام بیش قیمت سازو سامان کو لوٹ لیا تھا۔”یہود“ تو راة میں پڑھ چکے اور اپنے پیغمبروں کی زبانی سن چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ ایک زمانہ میں اپنے اس ”عہد“ کو بنی اسرائیل کے بھائیوں بنی اسمٰعیل میں پھر تازہ کر یگا اور ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہ یثرب میں آئے گا اور یہ اس کا دارالہجرة بنے گا۔ اور اس کی دعوت الٰہی کا مرکز بھی قرار پائے گا اور یہ کہ بت پرستوں کے مقابلہ میں اس کی مجاہدانہ زندگی کامیاب ہوگی اور ابراہیم ؑ، اسمٰعیل ؑ، اسحق ؑ، اور یعقوب ؑ و موسیٰ ؑ، کے اعلان حق کو دوبارہ اسی کے ہاتھوں سر بلندی نصیب ہوگی ۔ اس لئے جب وہ اس ”بت پرست بادشاہ “ کے ہاتھوں عاجز و درماندہ ہوئے تو انہوں نے اپنی سر بلندی کی آخری پناہ ”حجاز“ کی اس سرزمین ”یثرب“ (مدینہ) کو سمجھا اور اس راہ پر اپنا موطن بنا لیا جو اس نبی کے ظہور کے شہر اور فلسطین کے درمیان تھی اور اس طرح وہ نبی منتظر کے انتظار اور اپنے کھوئے ہوئے وقار کی واپسی کے لئے زندگی بسر کر نے لگے۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی اکرم ﷺ کے ماسوا کوئی نبی اور پیغمبر ایسا نہیں آیا جس نے ”بت پرستوں “ سے جہاد کیا ہو اور انجام کار ان کو نامرادی کا منہ دیکھنا پڑا ہو۔ پھر یہ بنی قیدار کون ہیں ؟ سلع کس جگہ واقع ہے ؟ جزیروں اور پہاڑوں کا بار بار تذکرہ کیوں ہے؟ اور بنی اسرائیل کے گیت کے علاوہ ”نیا گیت“ کونسا ہے ؟ یہ تمام باتیں پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ ایسی ”شریعت“ اور”ایسے نبی“ کی بشارت کا ذکر ہے جو جزیرہ عرب میں حجاز کے خطہ سے تعلق رکھتا ہے۔ تو کیا پھر یہی وہ بات نہیں ہے جس کو قرآن عزیز نے زندہ تاریخی شہادت کے طورپر یہود کو مخاطب کرتے ہوئے اس طرح بیان کیا ہے۔ترجمہ: اور جب کہ ان کے پاس اللہ کی جانب سے کتاب آئی جو اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس ہے اور یہ محمد کے نام سے کافروں کے مقابلہ میں فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے پھر جب ان کے پاس جانی پہچانی بات آپہنچی تو اس کا انکار کر نے لگے، سواللہ کی لعنت ہو انکار کرنیوالوں پر۔ (بقرہ)یعنی جب ان اہل کتاب (یہود) کی یثرب کے بت پرستوں سے جنگ ہوا کرتی تھی اور اہل کتاب کو شکست ہو جاتی تو وہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ خدا بنی منتظر کو جلد بھیج کر ہم اس کے ساتھ مل کر بت پرستی کا قلع قمع کریں اورتیرے وعدہ کے مطابق حق کو کامیابی حاصل ہو لیکن جب وہ پیغمبر بر حق تشریف لائے اور مبعوث ہو گئے تو وہ اس حسد میں اس کا انکار کرنے لگے کہ یہ اسمعیلی کیوں ہے،

اسرائیلی کیوں نہیں۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ بعض علماءیہود اس وسوسہ میں گرفتار تھے کہ اگرچہ اس پیغمبر کی بعثت اور ظہور کا مقام کوہ سلع کے قریب بتایا گیا ہے مگر اس کا ظہور بنی اسرائیل ہی میں سے ہونا چاہئے اور اسی لئے وہ یہاں آکر بس گئے تھے کہ خدا کا وہ وعدہ ہم ہی میں سے پورا ہو ، لیکن انہوں نے یہ فراموش کر دیا تھا کہ اسی توراة میں اس نبی منتظر کے لئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے ایک نبی برپا کرونگا“اسی جانب قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ترجمہ: یہ محمد کو اسی طرح جانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کے بیٹا ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ (بقرہ)الحاصل یہ وجہ تھی کہ صدیوں پہلے بنی اسرائیل جب جبراً و قہراً فلسطین کی سرزمین سے نکالے گئے تو انہوں نے مصر، شام اور عراق کے سر سبز و شادات اور متمدن ممالک کو چھوڑ کر حجاز کی سرزمین کو ترجیح دی ۔ بہرحال ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک تمام اہل اسلام کی طرف سے حضرت موسی ؑ کو جزائے خیر عطا فرما ئے۔۔۔۔آمین۔ ثم آمین۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ

Leave a Comment