اسلامک واقعات

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور سامری جادوگر

کوہ طور سے نیچے اترتے ہوئے ایک سرخ چٹان میں سامری جادوگر کے بچھڑے کی چھوی موجود تھی ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی تھی اور یہ نشانی قیامت تک موجود رہے گی۔ میں کوہ طور سے نیچے اترتے ہوئے ایک موڑ پر رکا اور سامنے چٹانوں کی طرف دیکھنے لگا ،چٹانوں کے اندر بچھڑے کی چھوی موجود تھی، یہ سامری جادوگر کا بچھڑا تھا ۔

سامری کا نام بھی موسیٰ تھا۔ وہ پیدائشی طور پربد صورت اور بددینت تھا۔ وہ مصر کے علاقے سامرہ کا رہنے والا تھا، یہ علاقہ کائروں اور سکندریہ کے درمیان تھا ۔بائبل میں اس علاقے کو’ گوشن’ کا نام دیا گیا ۔سامراہ گوشن کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ گاؤں میں بنی اسرائیل رہتے تھے۔ سامری جادوگر پیدا ہوا تو اس کی ماں اسے ایک غار میں چھوڑ آئی۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا حضرت جبرائیل امین امین امین غار میں تشریف لائے اور انہوں نے اپنے انگلی سامری جادوگر کے منہ میں ڈال دی، انگلی سے دودھ نکلنا شروع ہو گیا ۔ بعد ازاں حضرت جبرائیل امین امین اس وقت تک سامری جادوگر کی پرورش کرتے رہے جب تک اس نے اپنی ٹانگوں پر دوڑنا شروع کر دیا ۔یہ اس کے بعد اپنی بستی میں واپس آیا اور لوگوں میں گھل مل گیا ۔وہ غار سے آتے وقت حضرت جبرائیل امین امین کے گھوڑے یعنی برعا کے پاؤں کی مٹی ساتھ لے آیا تھا۔ وہ یہ مٹی جہاں ڈالتا تھا وہاں معجزے شروع ہوجاتے تھے۔ وہ ان معجزوں کی وجہ سے جادوگر مشہور ہو گیا۔ حضرت موسیٰٰ جب بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر گوشن سے نکلے تو سامری جادوگر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ حضرت موسیٰ ‘ریڈ سی ‘پہنچے، اللہ تعالیٰ نے سمندر چیر کر ان کے لیے راستہ بنایا ،بنی اسرائیل راستے سے گزر کر صحرائے سینا میں داخل ہوگئے اور فرعون سمندر میں ڈوب کر مر گیا ،اس وقت سامری جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ حضرت موسیٰ اپنے ساتھیوں کے ساتھ طور کے دامن میں پہنچ گئے، اللہ کی وحی نازل ہوئی ،اللہ تعالیٰ نے انہیں کوہ طور کی چوٹی پر جا کر چالیس دن اعتکاف کا حکم دیا ،حضرت موسیٰٰ نے اپنی قوم اپنے بھائی حضرت ہارون کے حوالے کی اور آپ کوہ طور کی چوٹی پر تشریف لے گئے۔

حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں نرم دل بھی تھے اور وہ دباؤ میں بھی آ جاتے تھے، سامری بددیانتی اور فسادی تھا چنانچہ اس نے بنی اسرائیل کے زیورات جمع کیے انھیں ملا کر ایک چھوٹا سا بچھڑا بنایا اور بچھڑے کے پیٹ میں حضرت جبرائیل امین کے گھوڑے کے پاؤں کی مٹی رکھ دی، بچھڑے نے بولنا شروع کر دیا ۔سامری نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا حضرت موسیٰ پہاڑ پر گم ہوگئے ہیں ،وہ پہاڑ پر جس اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوتے تھے وہ نعوذ باللہ یہ بچھڑا ہے۔ ہم سب پر لازم ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واپس لوٹنے تک اس بچھڑے کی پرستش کریں ۔لوگ گمراہ ہوگئے اور انہوں نے بچھڑے کو سجدہ شروع کر دیا ۔
اللہ تعالیٰ نے بیک وقت دو موسیٰ پیدا فرمائے تھے۔ ایک موسیٰ کلیم اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون کی گود اور محل میں پالا تھا۔ جب کہ دوسرے موسیٰ یعنی سامری جادوگر کی پرورش حضرت جبرائیل امین نے فرمائی تھی۔ اللہ ان دونوں کے ذریعہ ہم انسانوں کو بتانا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی کو توفیق عنایت کر دے تو وہ فرعون کی گود میں پل کر بھی موسیٰ کلیم اللہ بن جاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق نہ ہو تو پھر حضرت جبریل امین کی نگرانی میں چلنے اور ان کی انگلی چوسنے والا موسیٰ سامری جادوگر ثابت ہو جاتا ہے۔ اللہ یہ بھی پیغام دینا چاہتا ہے ناموں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، حیثیت صرف توفیق کی ہوتی ہے۔ سامری اور کلیم اللہ دونوں کا نام موسیٰ تھا لیکن ایک کافر ثابت ہوا اور دوسرے موسیٰ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی پہلی کتاب نازل فرمائی۔

اب موسیٰ علیہ السلام توراۃ لے کر واپس آئے تو انہوں نے جب اپنی قوم کو کفر و شرک میں ملوض دیکھا تو آپ غصے میں آ گئے۔ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ لئے تھے اور ان سے فرمایا تھا یہ لوگ جب گمراہ ہو رہے تھے تو تم میرے پیچھے کیوں نہیں آئے اور تم نے میرے حکم کی کیوں نا فرمانی کی۔ حضرت ہاروں نے کہا میں ان سے ڈر گیا تھا ، مجھے خطرہ تھا کہ یہ مجھے قتل کر دیں گے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جس جگہ یہ ڈائیلاگ ہوا تھا وہ جگہ آج بھی کوہ طور کے دامن میں موجود ہے ۔مقامی لوگ اس مقام کو حضرت ہارون کا مقام قرار دیتے ہیں لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال اردن کے شہر پیٹرا کے قریب جبلِ ہارون پر ہوا تھا اور آپ کا مزار بھی وہاں موجود ہے۔ طور کے دامن میں مقامِ ہارون ہے، کومان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی اس مقام پر مقیم تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی پر دونوں بھائیوں کے درمیان تکرار بھی اسی مقام پر ہوئی تھی۔ بہرحال اللہ کے حکم پر بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے کافروں کو قتل کردیا ۔حضرت موسیٰ نے بچھڑا توڑ کر پگلا دیا ۔آپ نے جس جگہ وہ پگھلا ہوا مواد پھینکا تھا اللہ تعالیٰ نے وہ جگہ عبرت کے لئے محفوظ کر دی۔

سامری کے بارے میں اس کے بعد دو روایات ہیں۔ پہلی روایت کے مطابق بنی اسرائیل نے اسے قتل کر دیا تھا جب کہ دوسری روایت کے مطابق وہ صحرائے سینا سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔وہ سفر کرتا کرتا یمن کے ایک علاقے ‘حضرموت ‘پہنچ گیا ۔اس نے وہاں اپنا قلعہ تعمیر کرایا اور اپنے شاگردوں کو جادو کی تعلیم دینے لگا۔ یہ علاقہ اس وقت کو مان کے شہر سلالہ میں موجود ہے ۔سامری جادوگر کی قبر اور قلعہ آج بھی سلالہ میں ہے۔ دنیا بھر سے جادوگر آخری چِلے کے لیے یہاں آتے ہیں اور جادو سیکھ کر جاتے ہیں۔

سلالہ کی خواتین لمبا برقع پہنتی ہیں ۔یہ برقع ان کے پیچھے گھسیٹتا رہتا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے سامری جادوگر کے شاگرد خواتین کے پاؤں کے نشان لے کر ان پر جادو کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ خواتین نے تین ہزار دو سو سال پہلے ایسے لمبے برقعے پہننا شروع کر دیے تھے جو ان کے پیچھے ان کے پاؤں کے نشان مٹاتے چلے جاتے تھے ۔یہ روایت بھی آج تک قائم ہے اور سلالہ کا جادو بھی۔ آج بھی سلالہ میں بے شمار جادوگر مل جاتے ہیں۔ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی طرف واپس آتے ہیں۔

سامری جادوگر کا بچھڑا توڑنے کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ستر لوگوں کا وفد بنایا اور ان کو ساتھ لے کر توبہ کے لئے کوہ طور پر دوبارہ تشریف لے گئے۔ طور پر اللہ تعالیٰ ان 70 لوگوں سے مخاطب ہوا اور ان کو بتایا بے شک میں تمہارا رب ہوں اور میں نے ہی تم کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی۔ یہ آواز سن کر بنی اسرائیل کے 70 لوگ اکڑ گئے اور انہوں نے کہا ہم اس وقت پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک ہم بھی تمہاری طرح اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو سمجھانے کی بے تحاشہ کوشش کی لیکن وہ نہ مانے یہاں تک کہ غیرتِ خداوندی کو جوش آ گیا، پہاڑ پر ایک خوفناک چیخ کی آواز آئی، زلزلہ آیا ، ان 70 لوگوں کے دل پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے ۔زلزلے کے آثار آج تک پہاڑ پر موجود ہیں۔ حضرت موسیٰٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰٰ سے انہیں دوبارہ زندہ کرنے کی درخواست کی کہ اللہ نے انہیں دوبارہ زندہ کر دیا اور وہ لوگ موسیٰٰ علیہ السلام کے ساتھ زندہ سلامت پہاڑ سے نیچے آ گئے ۔کوہ طور اس لحاظ سے دنیا کا واحد مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ستر لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندگی عطا کی تھی ۔
حضرت الیاس علیہ السلام کا غار اس جگہ سے زیادہ دور نہیں تھا۔ حضرت الیاس علیہ السلام کون تھے اور وہ یہاں کیوں تشریف لائے تھے ؟ ہم کوہ طور سے نیچے اتر رہے تھے تو ہمیں پورے پہاڑ پر صرف ایک ایسی جگہ دکھائی دی جہاں درختوں کا جھنڈ بھی تھا، پانی بھی تھا اور سائے کے آثار بھی تھے جبکہ باقی پورا پہاڑ بے آب و بیاں تھا۔ درختوں کی اس جھنڈ میں حضرت الیاس علیہ السلام نے قیام فرمایا تھا ۔یہ درخت، یہ سایہ اور پانی کے آثار حضرت الیاس علیہ السلام کا معجزہ تھے ۔ بائبل حضرت الیاس علیہ السلام کو کو’ اِلیہ ‘کے نام سے مخاطب کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا اور بے شک اللہ اس پیغمبروں میں سے ہے جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم ڈرتے نہیں، کیا بال کو پوچھتے ہو اور چھوڑتے ہو سب سے اچھے پیدا کرنے والے اللہ کو جو رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا ، پھر انہوں نے اسے جھٹلایا تو وہ ضرور پکڑ میں آئیں گے۔ حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے ۔یہ حضرت ہارون کے سلسلے سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ کی پیدائش لبنان کے شہربال بت میں ہوئی اپنے انتقال بھی بال بت میں فرمایا تھا اور آپ کا مزار بھی وہیں ہے ۔بالبت کا پرانا نام ‘ہیلیو پولِس’ تھا۔ یہ یونانی نام ہے اور اس کا مطلب ہے ‘سورج کا شہر’ اس شہر کے لوگ سورج کی پوجا کرتے تھے۔ شہر میں سورج دیوتا کا مندر بھی تھا ۔یہ شہر آج کل شام اور لبنان کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ دمشق سے سو کلومیٹر اور بیروز سے 80 کلو میٹر دور ہے، آبادی پچاس ہزار ہے۔ لوگ خوبصورت اور خوش حال ہیں۔ یہ شہر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کو حق مہر میں دیا تھا ۔حضرت

ابراہیم علیہ السلام نے بھی بالبت میں قیام فرمایا تھا ۔آپ کی مناسبت سے یہاں مقامِ ابراہیم بھی موجود ہے۔ شہر کا سب سے بڑا بت ‘بال ‘کہلاتا تھا ۔مورخین کا خیال ہے فتح مکہ سے قبل خانہ کعبہ میں موجود سب سے بڑا بت دراصل بال تھا۔ تورات میں بال کو بریس اور بالِ فغوب لکھا ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے حضرت الیاس علیہ السلام اعتکاف کے لئے کوہ طور پر تشریف لائے تھے، آپ نے پہاڑوں کے دامن میں مقام پر قیام فرمایا تھا ۔یہ مقام آج تک آپ کے دم قدم سے ہرا بھرا ہے جبکہ باقی پورے پہاڑ پر گھاس کا تنکہ تک موجود نہیں ۔یہ روایت میں پایا جاتا ہے کہ آپ کیتھرین کے مقام پر بھی تشریف لائے اور آپ نے جہاں قیام فرمایا تھا آج اس جگہ چرچ قائم ہے۔

Leave a Comment