اسلامک معلومات

حضرت فاطمہ ؓ  کا واقعہ

حضرت فاطمہ ؓ  کا واقعہ

حضرت فاطمہ ؓ  کا واقعہ

حضرت فاطمہ ؓ  کا واقعہ: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک روایت ہے کہ نبوت کے پہلے سال پیدا ہوئیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ نبوت سے تقریبا ایک سال بعد پیدا ہوئیں۔ اسم گرامی فاطمہ اور لقب زہرا ہے۔ ان کی تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی زیر نگرانی ہوئی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی چال ڈھال بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھی۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبے میں نماز پڑھ رہے تھے۔

قریش کے چند لوگوں نے شرارت کی ۔ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو انہوں نے اونٹ کی اوجری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک پر رکھ دی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہی رہے۔ اس بات کی سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی۔ آپ رضی اللہ عنہ کا بچپن تھا فورا وہاں پہنچی اور اس بوجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر سے اتارا اور ناراضی کا اظہار فرمایا۔ پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے مدینے کی طرف ہجرت کی۔ پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے خود ہجرت فرمائی اور پھر بعد میں اپنے گھر کے افراد کو بلایا۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا نکاح

دو ہجری کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے نکاح کا ارادہ فرمایا۔ حضرت فاطمہ کے ساتھ سب سے پہلے نکاح کی درخواست حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کی۔ پھر ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نا دیا۔ علی رضی اللہ عنہ نے خواہش کا اظہار کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں شرف عطا فرما دیں۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی عمر پندرہ سال کی ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ نکاح کی تقریب سادگی کا اعلئ نمونہ تھی۔

غلام کا واقع

ایک دفعہ فتوحات کے بعد کچھ غلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک غلام مانگ لیں۔ تا کہ وہ گھر کے کام کاج کر دیا کرے۔ چناچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی ۔ تو ان کا مطالبہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹی تمہیں اپنے کام اپنے ہاتھوں سے کرنے چاہیے۔ میں تمہیں ایک وظیفہ بتا دیتا ہوں۔ جس وقت تم رات کو آرام کرنے لیٹو تو اس وظیفے کو پڑھ لیا کرو۔

تیتس بار سبحان اللہ، تیتس بار الحمداللہ، اور چونتس بار اللہ اکبر ۔ یہ سو کلمات ہیں اور تمہارے لئے خادم سے بہتر ہیں۔ اس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اللہ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راضی ہوں۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو مجھے محبوب ہے کیا آپ رضی اللہ عنہ کو بھی محبوب ہے؟ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں جی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے عائشہ محبوب ہے تم بھی اسے رکھنا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ہے وہ ہمیں بھی محبوب ہونا چاہیے۔

Leave a Comment