اسلامک واقعات

حضرت عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ سے پانچ وعدے

حضرت عیسی علیہ السلام اللہ رب العزت کے برگزیدہ پیغمبر تھے۔آپ علیہ السلام کی پیدائش فلسطین میں ہوئی ۔ جودیہ کے پہاڑوں میں واقع’’ بیتُ اللحم‘‘ فلسطین کا ایک بہت بڑا گاؤں ہے، جو سطحِ سمندر سے 800 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ بیتُ اللحم کے جنوب میں چند میل کی مسافت پر کوہِ سراۃ (کوہِ ساعیر) کے دامن میں وہ تاریخی مقام ہے، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام پیدا ہوئے ۔اس غار سے متصل کونے میں ایک پتھر نصب ہے، جس میں ایک گول سوراخ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس جگہ کھجور کا وہ درخت تھا، جس کے متعلق قرآنِ مجید میں ذکر ہے کہ’’ اے مریمؑ! اسے ہلائو، تو کھجوریں گریں گی۔حضرت عیسیٰ علیہ السّلام بنی اسرائیل میں مبعوث ہونے والے آخری نبی تھے۔ آپؑ نے اپنی قوم کو خاتم الانبیاء، حضرت محمّد مصطفیٰﷺ کی آمد کی خُوش خبری دی۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے’’ اور جب عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ نے کہا’’ اے بنی اسرائیل! مَیں تمہارے پاس اللّٰہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں اور ایک پیغمبر کی، جو میرے بعد آئیں گے، جن کا نام احمدؐ ہوگا، بشارت سُناتا ہوں‘‘( سورۃ الصف 6)۔حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے بعد تقریباً چھے سو سال تک کوئی نبی نہیں آیا۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے آقا، سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا اور اُن پر آخری آسمانی کتاب، قرآنِ مجید نازل فرمائی۔حضرت عیسیٰ علیہ السّلام پر انجیل نازل فرمائی گئی تھی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ اور ہم نے ان پیغمبروں کے بعد عیسیٰ ؑ ابنِ مریمؑ کو اپنے سے پہلی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والا بنا کر بھیجا اور ہم نے انجیل عطا کی۔ جس میں ہدایت اور نور تھا‘‘ (سورۃ المائدہ 46)۔’’

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام پر جب انجیل نازل ہوئی، تو آپؑ کی عُمر مبارک تیس سال تھی اور نبوّت کے تین سال بعد ،یعنی تینتیس برس کی عُمر میں اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو آسمان پر اُٹھا لیا‘‘ (ابنِ کثیر)۔قرآنِ کریم کی تیرہ سورتوں میں مختلف ناموں سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا تذکرہ موجود ہے۔26 مقامات پر عیسیٰ علیہ السّلام،23 مقامات پر ابنِ مریمؑ، 11 جگہوں پر مسیح ؑاور ایک مقام پر عبداللہ کہا گیا ہے۔ قرآنِ کریم کی انیسویں سورہ ’’سورۂ مریم‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی والدۂ محترمہ کے نام پر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا کوئی گھر تھا اور نہ ہی بیوی بچّے۔ آپؑ شہر شہر، قریہ قریہ دینِ حق کی تبلیغ فرماتے اور لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچاتے۔ حسبِ ضرورت اپنے معجزات سے اُن کی مدد بھی فرماتے، لیکن ان سب کے باوجود یہودیوں کی اکثریت آپؑ علیہ السلام کو اذیّت دینے اور تکذیب کرنے سے باز نہ آتی۔ دراصل، بنی اسرائیل آپؑ علیہ السلام کی نبوّت کے منکر رہے۔ البتہ اُن میں سے کچھ لوگ ایسے ضرور تھے، جو آپؑ کے پیروکار اور ہم درد و غم خوار تھے۔ وہ آپؑ علیہ السلام کے ساتھ دین کے کام میں مشغول رہتے۔ قرآنِ کریم نے اُنہیں’’ حواری‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ جب حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے اُن کا کفر محسوس کرلیا، تو کہنے لگے’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے؟‘‘ حواریوں نے جواب دیا’’ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں(آپؑ کے) مددگار ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آپؑ گواہ رہیے کہ ہم تابع دار ہیں‘‘ (سوۂ آلِ عمران، 25)۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے مخلص ساتھیوں کو یہ لقب دیا گیا ہے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو صحابی کے لقب سے نوازا گیا۔قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو صرف مریم علیہا السلام کا بیٹا کہا ہے اور یہ بھی کہ وہ انبیا کی ذریت میں سے تھے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو مریم علیہا السلام کی وساطت سے انبیا کی ذریت قرار دیا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی موت واقع نہیں ہوئی بلکہ اللہ نے انہیں لوگوں کی نظروں سے غائب کر دیا اور ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کی جگہ ان کا ایک ہم شکل مصلوب ہوا۔ ان کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا اور ان کا دوبارہ ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمّتی کی حیثیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا دوبارہ نزول، اُمّتِ مسلمہ کی قیادت و رہنمائی، فتنۂ دجال کی سرکوبی، خنزیر کا قتل، صلیب کا توڑنا، یاجوج ماجوج کا خاتمہ، فسق و فجور کا سدّ ِباب، امن و امان کا قیام، اسلام کا بول بالا، قُربِ قیامت کی وہ حقیقتیں ہیں کہ جن کے ظہور کا تذکرہ احادیث کی تمام کُتب، بہ شمول صحیح بخاری اور مسلم شریف میں موجود آپؑ دمشق میں منارۂ شرقیہ کے پاس اُس وقت اُتریں گے، جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی۔اُن کے دَور میں سب مسلمان ہو جائیں گے۔ دجال کا قتل بھی آپؑ کے ہاتھوں ہوگا اور یاجوج ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپؑ کی موجودگی میں ہوگا۔ بالاخر آپؑ ہی کی بددُعا سے اُن کی ہلاکت ہوگی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ قسم ہے اُس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور ایک وقت آئے گا کہ تم میں ابنِ مریمؑ علیہ السلام حاکم و عادل بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ اُٹھا دیں گے اور مال کی اتنی بہتات ہو جائے گی کہ کوئی اُسے قبول کرنے والا نہیں ہوگا (یعنی صدقہ اور خیرات لینے والا کوئی نہیں ہوگا)، حتیٰ کہ ایک سجدہ دُنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔یہ سب قرب قیامت کے حالات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے بیان فرما ئے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام یہود و نصاریٰ کے بھٹکے ہوئے لوگوں کو توحیدِ حق کی تعلیم دیتے رہے اور اُنہیں وعظ و نصیحت فرماتے رہے، لیکن یہودیوں نے نہ صرف اُن کی تکذیب کی، بلکہ مسلسل اہانت بھی کرتے رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی نبوّت کو تین سال ہی کا عرصہ گزرا تھا کہ بنی اسرائیل نے آپؑ کو اپنے لیے بڑی رُکاوٹ سمجھتے ہوئے قتل کا منصوبہ بنا لیا۔ قرآنِ کریم میں ہے’’اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدیر کرنے والوں سے بہتر ہے‘‘(سورۂ آلِ عمران 54)۔

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرِ نگیں تھا، یہاں اُن کی طرف سے جو حکم ران مقرّر تھا، وہ کافر تھا۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے خلاف اُس کے کان بھر دیئے۔ چناں چہ اُس نے یہودیوں کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُنہیں بہ حفاظت آسمان پر اُٹھا لیا اور اُن کی جگہ اُن کے ہم شکل کو سولی دے دی گئی۔ تاہم، وہ یہی سمجھتے رہے کہ اُنھوں نے مسیح ؑابنِ مریمؑ کو سولی پر لٹکایا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ مسیح علیہ السّلام کو، جو اللہ کے پیغمبر تھے، قتل کر دیا ہے، حالاں کہ اُنہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا اور نہ ہی سولی پر چڑھایا، بلکہ اُن کے لیے اُن (عیسیٰ ؑ) کا مشابہ بنا دیا گیا تھا۔ جو لوگ اُن کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ اُن کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیرویٔ ظن کے سِوا اُن کو اس کا مطلق علم نہیں اور اُنہوں نے عیسیٰ علیہ السّلام کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اُن کو اپنی طرف اُٹھا لیا اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے‘‘(سورۃ النساء 158-157)۔

حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں کہ قصّہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح علیہ السّلام کے قتل کا ارادہ کیا، تو آپؑ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے۔ حضرت مسیح علیہ السّلام بھی اُن کے پاس تشریف لے آئے۔ ابلیس نے یہود کے اُس دستے کو، جو آپؑ کے قتل کے لیے تیار کھڑا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا پتا بتایا، اس طرح چار ہزار افراد نے مکان کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے اپنے حواریّین سے فرمایا’’ تم میں سے کوئی شخص اس کے لیے آمادہ ہے کہ وہ باہر نکلے اور اُسے قتل کر دیا جائے اور پھر جنّت میں وہ میرے ساتھ ہو۔‘‘ ایک شخص نے اس قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ آپؑ نے اُسے اپنا کُرتا، عمامہ عطا فرمایا۔ پھر اس پر آپؑ کی مشابہت ڈال دی گئی۔ اور جب وہ باہر آیا، تو یہود اُسے پکڑ کر لے گئے اور سولی پر چڑھا دیا، جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر اُٹھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمّتی کی حیثیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا دوبارہ نزول، اُمّتِ مسلمہ کی قیادت و رہنمائی، فتنۂ دجال کی سرکوبی، خنزیر کا قتل، صلیب کا توڑنا، یاجوج ماجوج کا خاتمہ، فسق و فجور کا سدّ ِباب، امن و امان کا قیام، اسلام کا بول بالا، قُربِ قیامت کی وہ حقیقتیں ہیں کہ جن کے ظہور کا تذکرہ احادیث کی تمام کُتب، بہ شمول صحیح بخاری اور مسلم شریف میں موجود ہے۔ امام ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ ان احادیث کے راویان میں حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سمیت دیگر صحابۂ کرام شامل ہیں۔ ان احادیث میں آپؑ کے نزول کی تفصیل اور جگہ کا بیان ہے۔ آپؑ دمشق میں منارۂ شرقیہ کے پاس اُس وقت اُتریں گے، جب فجر کی نماز کے لیے اقامت ہو رہی ہوگی۔
اُن کے دَور میں سب مسلمان ہو جائیں گے۔ دجال کا قتل بھی آپؑ کے ہاتھوں ہوگا اور یاجوج ماجوج کا ظہور و فساد بھی آپؑ کی موجودگی میں ہوگا۔ بالاخر آپؑ ہی کی بددُعا سے اُن کی ہلاکت ہوگی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ قسم ہے اُس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ضرور ایک وقت آئے گا کہ تم میں ابنِ مریمؑ حاکم و عادل بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ اُٹھا دیں گے اور مال کی اتنی بہتات ہو جائے گی کہ کوئی اُسے قبول کرنے والا نہیں ہوگا (یعنی صدقہ اور خیرات لینے والا کوئی نہیں ہوگا)، حتیٰ کہ ایک سجدہ دُنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا‘سورۂ آلِ عمران کی آیت 55 میں اللہ عزّ و جل نے اپنے رسول، حضرت عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ سے پانچ وعدے فرمائے۔ سب سے پہلا وعدہ یہ تھا کہ اُن کی موت یہودیوں کے ہاتھوں قتل کے ذریعے نہیں ہوگی، بلکہ طبعی طور پر وقتِ مقرّرہ پر ہوگی اور یقیناً وہ وقت قیامت کے نزدیک آئے گا، جب حضرت عیسیٰ علیہ السّلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے۔ دوسرا وعدہ عالمِ بالا کی طرف اُٹھا لینے کا تھا۔ یہ اُسی وقت پورا کر دیا گیا۔

تیسرا وعدہ اُنھیں دشمنوں کی تہمتوں سے پاک کرنے کا تھا۔ وہ اس طرح پورا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہود کے سب الزامات کی تردید کردی۔
چوتھا وعدہ، آپؑ کے تابع داروں کو آپؑ کے منکرین پر قیامت تک غالب رکھنے کا تھا، چناں چہ تاریخ گواہ ہے کہ نصاریٰ اور مسلمان غالب رہے اور اُن ہی کی حکومتیں دُنیا میں قائم ہوئیں اور رہیں گی۔
پانچواں وعدہ، قیامت کے روز اُن مذہبی اختلافات کا فیصلہ فرمانے کا ہے ، جو آپؑ سے متعلق ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جس رات مجھے(آسمانوں پر) لے جایا گیا، تو مَیں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے ملاقات کی، وہ متحرّک اور جوش و جذبات والے تھے، اُن کے بال کچھ گھنگھریالے تھے، گویا شنوء(قبیلے) کے لوگوں میں سے ہوں۔ مَیں نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے ملاقات کی، وہ درمیانے قد، سُرخ و سفید چہرے والے تھے(اور یوں لگ رہے تھے) گویا غسل خانے سے(نہا کر) نکلے ہوں۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو دیکھا اور مَیں اُن کی اولاد میں سب سے زیادہ اُن سے مشابہ ہوں‘‘(صحیح بخاری)۔ مسندِ احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ دُنیا و آخرت میں عیسیٰ ؑابنِ مریمؑ سے سب سے زیادہ قریب تر میں ہوں، کیوں کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔ جب وہ اُتریں گے، تم اُنھیں دیکھو، تو پہچان لینا، درمیانے قد کے حامل، مائل بہ سُرخی و سپیدی، بَھرے جسم والے ہیں، گویا سَر سے پانی ٹپک رہا ہے، اگرچہ تَری نیچے تک نہیں پہنچتی، وہ تمام اُمّتوں کو ختم کر دیں گے، حتیٰ کہ اُن کے زمانے میں صرف اسلام رہ جائے گا اور زمین پر ایسی خوش حالی، برکت اور امن ہوگا کہ اونٹ اور شیر، چیتے اور گائیں، بھیڑ اور بکریاں ایک ساتھ چَریں گے۔ بچّے، بچیاں سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ ایک دوسرے کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، جب تک اللہ نے چاہا، یوں ہی ہوتا رہے گا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام وفات فرمائیں گے، تو مسلمان اُن پر نماز پڑھ کر اُنھیں دفنائیں گے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام چالیس سال تک دُنیا میں رہیں گے۔ آپؑ کو روضۂ اطہر میں دفنایا جائے گا، جہاں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ مفتی محمّد شفیعؒ تحریر فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں انبیائے کرامؑ میں سے سب سے زیادہ ذکر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا کیا گیا ہے۔ سورۂ آلِ عمران کے گیارہویں رکوع میں حق تعالیٰ نے انبیائے سابقینؑ کا ذکر ایک ہی آیت میں اجمالاً کرنے پر اکتفا فرمایا۔ اُس کے بعد تقریباً تین رکوع اور بائیس آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اور اُن کے خاندان کا ذکر کیا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی نانی کا ذکر، اُن کی نذر کا بیان، والدہ کی پیدائش، اُن کا نام، تربیت کا تفصیلی ذکر، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا بطنِ مادر میں آنا، پھر ولادت کا مفصّل حال، ولادت کے بعد ماں نے کیا کھایا، پیا اُس کا ذکر، اپنے خاندان میں بچّے کو لے کر آنا، اُن کے طعن و تشنیع، نومولود مسیح ؑکو بہ طورِ معجزہ گویائی عطا ہونا، قوم کو دعوت دینا، اُن کی مخالفت، حواریّین کی امداد، یہودیوں کا نرغہ، زندہ آسمان پر اُٹھایا جانا وغیرہ۔ پھر احادیثِ متواترہ میں اُن کی مزید صفات، شکل و صورت، ہیئت، لباس وغیرہ کی پوری تفصیلات۔ یہ ایسے حالات ہیں کہ قرآن و حدیث میں کسی نبی اور رسول کے حالات اس تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں بھی قرب قیامت میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ساتھ بھی نصیب فرما ئے ۔آمین ثم آمین۔پیارے دوستو ہم امید کرتے ہیں آپ کو ہماری آج کی یہ ویڈیو پسند آئی ہو گی، دوستو ہمارے چینل کی نشریات اللہ پاک کے احکامات کو ماننے اور حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقوں کے مطابق ذندگی گزارنے , انبیاء کرام کے واقعات ، اولیا کرام ،نیک لوگوں کے قصے اور روزمرہ ذندگی سے مطلق سبق آموز واقعات سے مطلق ہوتی ہیں ، ہمارہ تعلق کسی بھی فرقے یا گروہ سے نہیں ہیں اور ہمارا مقصد اللہ تعالی کا پیغام تمام انسانیت تک پہنچانا ہے جس کیلے ہم انبیاکرام کے واقعات ، صحابہ کرام کے واقعات اور اولیاۓ کرام کے واقعات کو تصدیق شدہ کتابوں سے یا علماۓ کرام سے لیکر آپ تک پہنچاتے ہیں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی کو اللہ پاک معاف فرمائے ۔یاد رہے کہ ٹیکنالوجی کا دور ہے۔۔ جس طرح دین اور امت مسلمہ کے دشمن ہماری نوجوان نسل کو اپنے طریقہ کار کےذریعے بےراہ روی کا شکارکررہے ہیں۔۔ ان کو دین سے دور کر رہے ہیں۔۔۔اور غیر اخلاقی اور فحش مواد کو عام کر رہے ہیں ۔ تو آئیں ہم بھی چینل کے ساتھ مل کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی باتوں اور دین کی باتوں کو لوگوں میں پھیلا تے ہیں ۔۔ ۔ ۔ اگر ہم اس دنیا سے چلے بھی جائیں گے تو یہ علم ہمیشہ باقی رہے گا جو بہت سارے نوجوانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنتا رہے گا۔۔۔ اور اسکے نور سے ہماری قبر میں بھی ہمشہ نور رہے گا۔۔۔ ہمیں اسکا اجر ہمشہ ملتا رہے گا۔۔۔ یہ سب سے بہترین صدقہ جاریہ ہے۔۔۔

Leave a Comment