اسلامک واقعات

حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کی وفات

فجر کا وقت تھا-آپ رضی اللہ عنہہ مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے-ان کے بیچ ہی ابو لولو(مجوسی) چھپا بیٹھا تھا-اس نے خنجر سے آپ رضی اللہ عنہہ پر حملہ کیا-اس نے آپ رضی اللہ عنہہ پر سات وار کیے-اور آپ رضی اللہ عنہہ زمین پر گر گئے-پہلی صف والوں کو پتا چل گیا تھا لیکن پیچھے کسی کو کچھ نہیں پتا تھا-حضرت رحمان بن عوف نے جلدی سے آکر نماز دوبارہ شروع کی-

کچھ لوگ ابو لولو کے پیچھے بھاگے لیکن آگے جا کر ابو لولو نے اپنے آپ کو بھی قتل کر دیا-جب آپ رضی اللہ عنہہ کو گھر لایا گیا اور ان کو دودھ پلایا گیا تو دودھ آنکھوں نے باہر نکل گیا-آپ رضی اللہ عنہہ نے کہا کہ وقت آگیا ہے-پھر انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر سے کہا کہ جاو اماں عائشہ سے جا کر پوچھو کہ کیا حضرت عمر بن خطاب کو ان کے دونوں ساتھیوں (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہہ) کے ساتھ قبر کی جگہ مل سکتی ہے-اگر اجازت دیں تو مجھے وہاں دفنانا اگر اجازت نا دیں تو کوئی بھی عام سے قبرستان میں دفنا دینا-چناچہ حضرت عبداللہ بن عمر اماں عائشہ کہ پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ میرے بابا عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ساتھ قبر کی جگہ چاہتے ہیں تو اماں عائشہ رونے لگیں اور کہنے لگیں کہ عبداللہ یہ جگہ تو میں نے اپنے لیے رکھی تھی کہ اپنے خاوند اور باپ کے ساتھ ایک کونے میں سو جاوں گی لیکن اگر عمر کی یہ خواہش ہے تو عمر اس کا زیادہ حق دار ہے-پھر جب حضرت عبداللہ نے جواب پہنچایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے کہا کہ جب تم میری میت اٹھاو تو ایک دفعہ اور پوچھنا ہو سکتا ہے انہوں نے ابھی شرم کے مارے اجازت دی ہو

اور میرے مرنے کے بعد فیصلہ بدل لیں-جب طبیعت زیادہ بگڑی اور وہ گھبرانے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہہ ان کے پاس آئے-حضرت علی رضی اللہ کہنے لگے عمر موت سے ڈر گئے ہو؟ تو حضرت عمر نے جواب دیا موت سے نہیں ڈرا ہوں موت کے بعد کیا ہوگا اس سے ڈرا ہوں-یہ ان کے الفاظ تھے جن کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ میرے بعد کوئی رسول آتا تو وہ عمر ہوتا-جب ان کی میت کو لے جایا جا رہا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ نے سب کو ایک دروازے کے سامنے رکنے کا کہا-دروازہ کھٹکھٹایا- اماں عائشہ نے دروازہ کھولا ان سے پھر سے اجازت مانگی گئی انہوں نے پھر سے اجازت دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہہ کے بغل میں دفنایا گیا-

Leave a Comment