اسلامک واقعات

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے ایثار اور حکمرانی کا طریقہ

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک بہت قیمتی نگینے کی انگوٹھی تھی-وہ نگینہ اتنا قیمتی تھا کہ اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا-لیکن ایک دفعہ ان کی ریاست میں سخت قحط پڑا

اور لوگ فاقوں میں رہنے لگے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے وہ قیمتی نگینے کی انگوٹھی بیچ دی اور اس سے اناج خریدا اور پھر وہ اناج اپنی رعایا میں بٹوا دیا-تو ان کے رفقا نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے اتنی قیمتی انگوٹھی بیچ دی؟ تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا:”مجھے وہ نگینہ بہت عزیز تھا لیکن میرے نفس نے گوارا نہیں کیا کہ میرے لوگ فاقوں سے مر رہے ہوں اور میں اتنی قیمتی انگوٹھی پہنوں-کسی بھی حاکم کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی عوام کا خیال رکھے جب عوام تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ اپنے آرام کو ترک کر دے اور عوام کی فلاح کا کام کرے”

حضرت عم بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ ایک ایسے حکمران تھے جن کا ذکر آج بھی کتابوں میں ملتا ہے لوگ آج بھی ان کے حکمرانی کے اصول اپناتے ہیں-خاص طور پر مغربی دنیا-ان کے پاس حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے تمام اصولوں کے خاکے موجود ہیں-حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی حکمرانی کی تعریف ایک زمانہ کرتا ہے-ان کا دل اپنی رعایا کے لیے بے حد نرم تھا-وہ راتوں کو بھیس بدل کر اپنی ریاست کی گلیوں میں گھوما کرتے تھے کہ کسی کوئی پریشانی تو نہیں کسی کو کوئی مدد تو طلب نہیں-مرتے وقت بھی انہوں نے اپنوں کے لیے وصیت میں کچھ نا چھوڑا تھا بلکہ سب کچھ اپنی رعایا پر خرچ کرنے کا حکم دیا تھا-ان کی موت کے وقت انہوں نے بہت میلا کرتا پہن رکھا تھا

جب ان کے رشتہ داروں نے ان کی زوجہ سے ان کا کرتا تبدیل کروانے کا کہا تو وہ یہ بتاتے ہوئے رو پڑی تھیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پاس اس ایک کرتے کے سوا اور کوئی کرتا نہیں ہے-وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیت المال سے ایک آنا بھی نہیں نکالتے تھے-ہمارے حکمران اگر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی پیروی کریں اور ان کے اصول اپنائے تو ہمارے ملک میں بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے-لیکن آپ رحمتہ اللہ کا دل بہت صاف تھا-آپ کے دل میں اپنی رعایا کے لیے بے پناہ محبت اور ہمدردی تھی-

Leave a Comment