اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت علی رضی اللہ تعالی نے کس طرح مرحب کو مات دی؟

مرحب جب خندق پار کر کے آیا تو اس نے کہا کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے؟ تو ہر طرف خاموشی ہی رہی یہاں تک کہ بڑے بڑے جنگجو بھی خاموش رہے-تو حضرت علی رضی اللی عنہہ اٹھے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی یا رسول اللہ میں جاوں گا-تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چپ کروا کے بیٹھا دیا اور کہا کہ کیا تمھیں نہیں پتا تم وہ امر ہے-

مرحب بہت طاقت ور تھا-اور حضرت علی رضی اللہ عنہہ اس وقت تئیس سال کے تھے-مرحب نے پھر سے پکارا کہ کوئی ہے جو میرا مقابلہ کر سکے-تو سب بیٹھے رہے کوئی نہیں کھڑا ہوا-یہاں تک حضرت عمر رضی اللہ عنہہ جیسے شاہ سوار بھی نا کھڑے ہوئے-حضرت علی رضی اللہ عنہہ پھر سے کھڑے ہو گئے کہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاوں گا-تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پھر بیٹھا دیا فرمایا کہ وہ امر ہے (یعنی زیادہ طاقت ور ہے)-مرحب نے پھر سے پکارا کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے-حضرت علی رضی اللہ عنہہ تیسری بار کھڑے ہوگئے-حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بیٹھنے کا کہا لیکن حضرت علی رضی اللہ نے کہا کہ وہ امر ہے میں پھر بھی جاوں گا-تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور ان کے لیے دعا دی- جب حضرت علی رضی اللہ عنہہ مرحب کے مقابل آکر کھڑے ہوئے تو اس نے پوچھا تم کون ہو؟ تو آپ رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: میں علی ہوں- اس نے کہا علی ابو مطلب؟ (ابو مطلب کے بیٹے) تو علی رضی اللہ نے فرمایا نہیں علی ابو طالب ( ابو طالب کا بیٹا)-تو مرحب نے کہا جاو میں تم سے نہیں لڑتا-

اس کی وجہ یہ تھی کہ مرحب حضرت علی رضی اللی عنہہ کا رشتہ دار تھا-دوسرا اس کو حضرت علی بڑے کمزور لگے تھے-مرحب نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہو کسی اور کو بھیجے تو حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے اسے یقین دلایا کہ وہ اس کو ہرا دیں گے-مرحب نے کہا میں تم سے نہیں لڑنا چاہتا-حضرت علی رضی اللہ عنہہ نے کہا میں تو لڑنا چاہتا ہوں-تو اس کو غصہ آیا-اس نے آپ رضی اللہ عنہہ پر حملہ کیا-بہت وار کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہہ کی ڈھال ٹوٹ گئی جس سے وہ اپنا بچاو کر رہے تھے اور تلوار ڈھال کو چیرتی ہوئی ان کے کندھے پر جا لگی اور آپ رضی الکہ عنہہ کا کندھا زخمی ہوگیا-حضرت علی کو حیدر کہا جاتا تھا یعنی شیر جو پلٹ پلٹ کر وار کرتا ہے-تو آپ نے پلٹ کر وار کیا اور وہ ایسا مضبوط وار تھا کہ پہلی ہی ضرب میں مرحب کی نا صرف ڈھال ٹوٹی بلکہ اس دو حصوں میں چیر دیا-پھر آپ رضی اللہ عنہہ نے اس کی لاش پر اپنا پاوں رکھا اور کہا:کہ یہ ہے پتھر کا پجاری اور میں ہوں محمد کے رب کا پجاری-

Leave a Comment