قصص الانبیا ء

حضرت علی ؓ کی ذہانت

حضرت علی ؓ کی ذہانت کا واقعہ

حضرت علی ؓ کی ذہانت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ہلکی داڑھی والاشخص حضرت عمر بن الخطابؓ اورحضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ زبان ذکر و تسبیح میں مشغول تھی۔ .حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے صبح کس حال میں کی؟

آدمی کا عجیب جواب

اس آدمی نے عجیب انداز سے جواب دیاکہ
میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں. حق بات سے کراہت کرتا ہوں۔ بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں.اور میرے لیے زمین پر وہ چیز ہےجو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے۔
.یہ سن کر حضرت عمرؓ طیش میں آ گئے اور اللہ کے دین کی خاطر انتقام لینے پر آمادہ ہو گئے  اس آدمی کو پکڑ کر سخت سزا دینے لگے۔

حضرت علی ؓ کی ذہانت

تو حضرت علیؓ نے ہنستے ہوئے کہا۔ اے امیر المومنین! یہ شخص جو یہ کہتاہے کہ وہ فتنہ کو پسند کرتاہے۔ اس سے اس کی مراد مال و اولاد ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے۔
اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃ (الانفال:28)۔ حق کو ناپسند کرتا ہے اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وَجَآئتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ (ق:19)۔ بغیر وضو کے نماز پڑھتاہے اس سے مراد نبی کریمؐ پر صلوٰۃ (درود) بھیجنا ہے، ظاہر ہے کہ صلوٰۃ کے لیے وضو ضروری نہیں ہے۔ اور اس نے جو یہ کہا ہے۔ کہ اس کے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے۔ اس سے اس کی مراد بیوی بچے ہیں۔

ظاہر ہے کہ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد ہے۔ وہ ذات تو یکتا بے نیاز ہے. نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔

 حضرت عمر بن الخطابؓ کے چہرے پر خوشی

حضرت عمر بن الخطابؓ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اورہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ آپؓ نے خوشی سے جھومتے ہوئے فرمایا۔ وہ جگہ ہی کیا ہے جہاں ابوالحسن نہ ہو یعنی علی بن ابی  طالبؓ۔ اس واقعہ سے حضرت علیؓ کی ذہانت کا معلوم ہوتا ہے۔

Leave a Comment