قصص الانبیا ء

حضرت علی ؓ  نے کونسی تین چیزوں کو مومن کی زینت قرار دیا ہے؟

حضرت علی ؓ  نے

حضرت علی ؓ  نے کونسی تین چیزوں کو مومن کی زینت قرار دیا ہے؟

حضرت علی ؓ  نے تین چیزوں کو مومن کی زینت قرار دیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں۔

خدا کا تقوی اور پرہیزگاری:
اللہ پر کامل یقین رکھنا-اور مکمل بھروسہ کرنا۔اور اس بات کا یقین رکھنا کہ اللہ تعالی نے جو تقدیر میں لکھ دیا ہے وہی ہمارے لیے بہتر ہے۔اور اس کی رضا میں راضی رہنا۔جب کوئی مشکل آئے تو صبر کا مظاہرہ کرنا اور اس سے دعا کرنا۔آج کا انسان بہت بے صبرا اور جلد باز ہے۔وہ کچھ بھی کرتا ہے تو فورا نتیجہ چاہتا ہے۔اور جب جلدی نتیجہ نہیں ملتا تو شکوے شکایات کرتا ہے- یاد رکھیں کہ خدا کا تقوی و پرہیزگاری مومن کی زینت ہے-

راست گفتاری

راست گفتاری سے مراد “صدق اور حق بات کہنا” ہے۔مومن کی زینت ہے کہ وہ جب بھی بولتا ہے سچ بولتا یے-کیونکہ اللہ تعالی نے جھوٹوں پر اللہ لعنت کی ہے۔تو جو اللہ تعالی کی لعنت اور غضب سے بچنا چاہتا ہے وہ حق بات کہے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ مومن دھوکا نہیں دیتا اور جھوٹ نہیں بولتا۔لیکن آج کے زمانے میں جھوٹ اور دھوکا بہت عام ہو گیا ہے۔ہر کوئی ایک دوسرے سے اوپر جانا چاہتا ہے اور اسی دوڑ میں ایک دوسرے کو نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں۔

امانت داری:
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:”جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں۔اور جس شخص میں معاہدہ کی پابندی نہیں ۔ اس میں دین نہیں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت داری کو دین کا حصہ قرار دیا ہے-اور یہ بات واضح کی ہے کہ جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان بھی نہیں ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:” تو جو امین بنایا گیا۔ اس کو چاہیے کہ اپنی امانت ادا کرے ۔اور چاہیے کہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرے۔” امانت کے معاملے میں بھی اللہ تعالی سے ڈرنا چاہئے-کیونکہ جو امانت میں خیانت کرتا ہے۔اللہ تعالی نے اس شخص کے لیے بہت سخت سزا سنائی ہے۔

Leave a Comment