قصص الانبیا ء

حضرت علی ؓ  نے کس چیز کو برائی کی جڑ قرار دیا ہے؟

حضرت علی ؓ 

حضرت علی ؓ  نے کس چیز کو برائی کی جڑ قرار دیا ہے؟

حضرت علی ؓ  نے “لڑائی جھگڑے” کو تمام برائیوں کی جڑ کہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: “تمام برائیوں کی جڑ یہ ہے کہ آدمی ہر ایک سے لڑائی جھگڑا رکھے”۔  جو شخص ہر وقت لڑتا جھگڑتا ہے وہ نا کبھی خود سکون سے رہتا ہے۔  اور نا دوسروں کو رہنے دیتا ہے-لڑائی جھگڑے سے معاشرے میں کئی غلط عناصر جنم لیتے ہیں-لڑائی جھگڑا کرنے والے کو اللہ تعالی ویسے بھی پسند نہیں کرتے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: خواہ مخواہ لڑنے جھگڑنے سے پرہیز کرو ۔ کیونکہ یہ شک ، حبط اعمال اور گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ بعض اوقات انسان کے منہ سے ایسی بات نکل جاتی ہے جو خدا کی طرف سے ناقابل معافی ہوتی ہے”۔ زیادہ تر لڑائی جھگڑے خاندان میں ہی ہو رہے ہوتے ہیں-

ماں باپ میں لڑائی جھگڑا

ماں باپ آپس میں اکثر چھوٹی چھوٹی بات پر لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس سے ایک تو گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے دوسرا رشتے پر برا اثر پڑتا ہے اور تیسرا ان کی اولاد پریشان رہتی ہے۔ ماں باپ لڑتے وقت یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ ان کی اولاد ان کو دیکھ رہی ہے۔ اور پھر بچے بے چین اور پریشان رہتے ہیں۔  اور ہم لاشعوری طور پر ان کو غلط پیغام دے رہے ہوتے ہیں-

میاں بیوی میں لڑائی جھگڑا:
میاں بیوی کا مضبوط رشتہ چھوٹی موٹی لڑائیوں سے ہی بہت خراب ہوجاتا ہے۔ اور ان کے لڑائی جھگڑوں سے معاشرے پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں-ان کو دیکھ بھال کر چلنا چاہیے -اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے-

پڑوسیوں میں لڑائی جھگڑا:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے اتنے زیادہ حقوق بتائے ہیں-لیکن ہم نے ان حقوق کو تو کیا پورا کرنا بلکہ ہم اپنے پڑوسیوں سے لڑائی جھگڑے کر رہے ہوتے ہیں-اور جھگڑے بھی بہت چھوٹی باتوں پر ہو رہے ہوتے ہیں-

دوسری برائیاں:
لڑائی جھگڑے سے انسان میں اور بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں-جیسے کہ بدزبان ہو جانا ، بد اخلاق ہوجانا اور غصہ تیز ہونا-یہ سب بڑے بڑے گناہ خوبخود ہی آجاتے ہیں-جب آپ خود کو لڑائی جھگڑے میں پھنسا لیتے ہیں-

Leave a Comment