اسلامک واقعات

حضرت عزیر ؑ  اور ان کے گدھے کا واقعہ

حضرت عزیر ؑ 

حضرت عزیر ؑ  اور ان کے گدھے کا واقعہ

“حضرت عزیر ؑ  اور ان کے گدھے کا واقعہ: آپ کا نام عزیز بن جروہ تھا۔  آپ کے والد کا نام سروخا تھا۔ اللہ تعالی نے آپ کو بہت سے معجزے عطا کئے۔ آپ بیمار لوگوں کے لئے شفا کی دعا کرتے۔  تو لوگ تندرست ہو جاتے۔ آپ بڑے متقی اور زیرک انسان تھے۔ جب آپ چالیس برس کے ہوئے تو اللہ تعالی نے آپ کو حکمت و دانائ عطا فرمائ۔  آپ کو سب سے زیادہ تورات یاد تھی اور تورات کا علم بھی سب سے زیادہ تھا۔ آپؑ دوسروں کی مدد کرتے اور اللہ تعالی کی راہ میں نیک عمال کرتے۔  آپ کی قبر مبارک دمشق میں ہے۔”

حضرت عزیر علیہ اسلام اور انکا گدھا:

“ایک روز حضرت عزیر اپنی زمینوں سے واپس گھر جا رہے تھے۔  واپسی پر گرمی کی شدت محسوس ہونے پر ایک ویرانے میں ٹھہر گئے۔ آپ اپنے گدھے کے ساتھ اس ویرانے میں داخل ہوئے۔  کھانے کا ٹوکرا پاس ہی پڑا تھا۔ آپ نے پاس موجود پیالا نکالا اور انجیر اور انگور کو نچوڑ کر ان کا رس پیالے میں ڈالا ۔ اور پھر پاس موجود خشک روٹی کے چند ٹکڑے بھی اس میں ڈال دئیے۔ تاکہ وہ ٹکڑے نرم اور میٹھے ہو جائے۔

اور پھر سستانے کے لئے سیدھا لیٹ گئے۔  آپ نے دیکھا کہ آس پاس بہت سی پرانی اور بوسیدہ ہڈیاں پڑی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ جگہ پہلے بہت سے لوگوں کا مسکن ہوا کرتی تھی۔ ہڈیوں کو دیکھ کر حضرت عزیر علیہ اسلام یونہی سوچ میں پر گئے۔  کہ اللہ قیامت کے روز کیسی ان بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ جوڑے گا۔ حضرت عزیر علیہ اسلام کو اللہ پر ہرگز کوئ شق نہ تھا ۔ بلکہ وہ تو بس اس طریقہ پر حیریت کرتے ہوئے یہ فرمایا۔ آپ ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ آپ کو نیند آنے لگ گئ۔”

آپ ؑ اور سو سالا نیند

“کچھ دیر بعد جب آپ کی آنکھ کھلی۔  تو آپ نے دیکھا کہ آپ نے روٹی کے جو ٹکڑے انجیر اور انگور کے رس میں ڈالے تھے۔  وہ اب نرم اور میٹھے ہو چکے ہیں۔ آپ سمجھے کہ شاید تھکاوٹ کی وجہ سے آپ تھوڑی دیر سو گئے تھے۔

جب آپ ؑ نیند سے بیدار ہوئے

جب آپ کی نظر اپنے گدھے پر پڑی تو آپ حیرت زدہ رہ گئے۔  آپ کا گدھا مردہ حالت میں موجود تھا ۔ اور اس کی ہڈیاں مکمل بوسیدہ ہو چکی تھی۔ جیسے اس کو وفات پائے سالوں گزر گئے ہوں۔ حضرت عزیر علیہ اسلام کافی پریشان ہوئے اور ابھی آپ یہ معاملہ سمجھ ہی نہ پائے۔  کہ ایک فرشتہ ظاہر ہوا۔ اور گدھے کی ہڈیوں کو حکم دیا کہ آپس میں دوبارہ سے جڑ جائے۔  اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری ہڈیاں دوبارہ سے اپنی پہلی والی جگہ پر جر گیئں،

ان پر دوبارہ سے گوشت اور بال آ گئے۔ حضرت عزیر علیہ اسلام دیکھتے ہیں کہ اللہ کے حکم سے گدھا دوبارہ زندہ ہو گیا۔ فرشتے نے پھر آپ علیہ اسلام کو پریشان دیکھا تو آپ سے پوچھا “کتنی دیر سوئے؟” آپ علیہ اسلام نے فرمایا “ایک دن یا شاید دن کا کچھ حصہ۔” تو فرشتے نے آپ کو بتایا کہ “آپ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ نہیں۔  بلکہ 100 سال سوئے ہیں۔ اللہ کے حکم سے جبریل علیہ اسلام نے آپ کو سو سال کے لئے سلا دیا تھا۔” آپ فرشتے کی بات سن کر بہت زیادہ حیران ہوئے۔  اور پھر آپکو یاد آیا کہ “اللہ نے اس سب کے ذریعے آپ کو دیکھایا ہے۔  کہ وہ کیسے قیامت کے روز مردوں کو دوبارہ زندہ کریں گا۔”

Leave a Comment