اسلامک معلومات

حضرت عبداللہ بن ام مقتوم رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن

حضرت عبداللہ بن ام مقتوم رضی اللہ عنہ

حضرت عبداللہ بن ام مقتوم رضی اللہ عنہ: ایک دفعہ ایک آیت اتری کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور گھر بیٹھے برابر نہیں۔عبداللہ بن ام مقتوم رضی اللہ عنہ پاس بیٹھے تھے وہ نابینا تھے۔ انہوں نے یا اللہ یہ کیا کہہ دیا آپ نے میں تو نابینا ہوں میں کہاں جاؤں؟ میرے لئے کوئی گنجائش نکال۔ ایک آدمی کی خاطر جبرائیل علیہ السلام ایک لفظ لے کر واپس آئے۔ کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کہہ رہے ہیں کہ اب اس آیت کو یوں پڑھا جائے۔

گھر بیٹھنے والے جو معذور نہیں اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے برابر نہیں۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قریش کے کچھ سردار بیٹھے ہوئے تھے اور گفتگو کر رہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن ام مقتوم رضی اللہ عنہ وہ آ گئے۔ اب وہ نابینا تھے لیکن بہرے نہیں تھے ۔

جن کے پاس ایک حس نہیں ہوتی اللہ ان کی کوئی دوسری حس تیز کر دیتا ہے۔ اندازہ تو آپ رضی اللہ عنہ کو ہو گیا تھا کہ گفتگو ہو رہی ہے اور کن لوگوں سے ہو رہی ہے۔ اور آپ رضی اللہ عنہ بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت عبداللہ بن ام مقتوم رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ نا ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے بد دل ہو کر چلے گئے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کی طرف عطاب نازل ہوا ۔

آپ کے لیے وحی کا نزول

اے نبی ﷺ  آپ کو کیا معلوم وہ تزکیا حاصل کرتا آپ کی گفتگو سے بلند مقام حاصل کرتا ۔یا یہ کہ وہ نصیحت اخذ کرتا۔آپ کا معاملہ یہ پے کہ جو سننے کو تیار نہیں ہیں تو آپ ان کی فکر میں رہتے ہیں خود کو ہلکان کرتے پیں۔ اور اگر وہ پاکی اختیار نہیں کرتے تو آپ پر کوئی الزام نہیں۔ اور وہ جو آپ کے پاس دوڑ کر آیا ہے اس کے دل میں خشییت بھی ہے۔ آپ ایسا نا کیجیے ۔ اور یہ قرآن تو ایک یاد دہانی ہے جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔

Leave a Comment