اسلامک واقعات

حضرت عائشہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کیسی تھی؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو اپنے ہاتھوں سے لقمے بنا کر کھلاتے تھے-جس وقت حضرت عائشہ کو آٹا گوندنا نہیں آتا تھا آپ خود ان کو آٹا گوند کر دیتے تھے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کا جوٹھا بھی کھا لیا کرتے تھے-گھر کے کاموں میں بھی ان کی مدد کروایا کرتے تھے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ کے ساتھ دوڑ بھی لگایا کرتے تھے-

ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ جارہے تھے-حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ بھی اس قافلے میں تھی-حضرت عائشہ کا ہاتھ اپنی گردن پر گیا تو وہاں ان کا ہار موجود نہیں تھا-انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو رکنے کا حخم دے دیا-پھر وہ ہار ڈھونڈنے لگے-یہاں تک کے شام پڑ گئی عیشاء بھی گزر گئی-اور پھر یہاں تک کہ فجر کا وقت ہونے والا تھا-اس وقت سب کے پاس پانی ختم ہو چکا تھا اور ارگرد گرد بھی کہیں پر پانی دستیاب نا تھا-تو سب نے حضرت ابوبکر کو بولنا شروع کر دیا-کہا کہ یہ آپ کی بیٹی کی وجہ سے ہوا ہے اس کی وجہ سے ہم منزل تک نہیں پہنچ سکے اور اب یہاں پانی بھی نہیں ہے کہیں اب ہم نماز کا کیا کریں- حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہہ حضرت عائشہ کے خیمے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کی گود میں سر رکھ کر سو رہے تھے-حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اشاروں اشاروں میں حضرت عائشہ کو ڈانٹنے لگے-اور اس سفر میں تیمم کی آیات نازل کی گئی-حکم دے دیا گیا کہ مٹی سے تیمم کر کے نماز پڑھی جائے-پھر حضرت عائشہ نے تھک کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ اب چلتے ہیں ہار کو رہنے دیں-

اور پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے کو آگے بڑھنے کی اجازت دی-جب حضرت عائشہ کا اونٹ اٹھایا گیا تو ہار حضرت عائشہ کے اونٹ کے نیچے سے ملا- رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ کی محبت نہیں کیا تھا بلکہ ہمیں سکھانے کے لیے بھی کیا تھا-ہماری تربیت کے لیے ہمیں بتایا تھا-کہ اپنی عورتوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے-مرد کو عورت کا محافظ بنایا گیا ہے-

Leave a Comment