اسلامک واقعات

حضرت صالح علیہ السلام کی قبر مبارک

حضرت صالح علیہ السلام ، سام بن نوح کی اولاد میں سے اور قوم ثمود کے پیغمبر تھے۔ قرآن میں حضرت نوحؑ اور حضرت ہودؑ کے بعد ان کا تذکرہ ہوا ہے۔ صالح عرب انبیاء میں سے تیسرے نبی ہیں جن کا تذکرہ قرآن کی مختلف سورتوں میں ہوا ہے ۔ تاریخی منابع کے مطابق آپ 16 سال کی عمر میں نبوت پر مبعوث ہوئے اور 120 سال کی عمر تک اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی لیکن ان کی دعوت کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی اور ان کی اونٹنی (وہ اونٹنی جسے صالحؑ نے معجزہ کے طور پر پہاڑ سے باہر نکالا تھا) کو مار ڈالا۔ حضرت صالحؑ سے پہلے وہ لوگ بت پرست تھے۔ قرآن مجید میں 9 دفعہ صالحؑ کا نام مختلف سورتوں میں جیسے سورہ اعراف، ہود اور بعض دوسری سورتوں میں نوحؑ اور ہودؑ کے بعد ذکر ہوا ہے۔ حضرت صالحؑ تقریباً سولہ سال کی عمر میں نبوت کے لئے مبعوث ہوئے۔ منقول ہے کہ آپ نے 120 سال کی عمر تک اپنی قوم کو توحید کی طرف دعوت دی لیکن انہوں نے آپ کی ایک نہ سنی۔ صالحؑ ان سے کہتے ہیں کہ میں تمہارے خداوں سے ایک درخواست کرتا ہوں اور تم لوگ میرے خدا سے ایک درخواست کرو تاکہ حقیقت واضح ہوجائے۔[8] جناب صالحؑ بتوں سے ایک درخواست کرتے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملتا ہے اس کے مقابلے میں جب بت پرستوں نے جناب صالحؑ سے کہا کہ اپنے خدا سے درخواست کریں کہ اس پہاڑ کے اندر سے ایک اونٹنی باہر لے آئے اللہ رب العزت کے حکم وہ اونٹنی جو حضرت صالحؑ کے معجزہ کے طور پر پہاڑ کے اندر سے نکلی، قرآنی آیات کے مطابق حضرت صالح نے اپنی قوم سے اس اونٹنی کو نہ مارنے کی درخواست کی تھی۔ لیکن انہوں نے اسے مار ڈالا اور اللہ تعالی نے اس نافرمانی کی وجہ سے عذاب نازل کیا۔ قرآنی آیات کے مطابق اللہ تعالی نے اس علاقے کے پانی کو یوں تقسیم کیا کہ ایک دن اونٹنی کو پینے کے لیے اور دوسرے دن لوگوں کے لیے اونٹنی اپنی باری پر پانی پینے آتی تھی اور دن کے آخر میں واپس جاتی تھی اور جس دن اونٹنی کی باری تھی اس دن لوگ اس کے دودھ سے استفادہ کرتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد قومِ ثمود کو اونٹنی کی موجودگی کھٹکنے لگی۔ اُنہیں اپنے ہرے بھرے نخلستانوں میں آزادی سے گھومتی پِھرتی اونٹنی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور جب وہ یہ دیکھتے کہ اپنی باری آنے پر اونٹنی ایک ہی سانس میں پورے کنویں کا پانی پی جاتی ہے، تو حیران ہو کر اسے جادو سے تشبیہ دیتے۔ آخرکار شیطان کے اکسانے پر اُنہوں نے اونٹنی سے جان چھڑوانے کی تدابیر سوچنی شروع کر دیں اور اس کا ایک ہی حل تھا کہ اُسے ہلاک کر دیا جائے، مگر کیسے؟ قومِ ثمود کے سردار یہ کام خود اپنے ہاتھوں انجام دینے کو تیار نہ تھے۔سو، اُنہوں نے دو نہایت اونچے اور مال دار خاندان کی آزاد منش عورتوں کو راضی کیا کہ وہ قوم کے کسی نوجوان سے یہ کام کروائیں،جس پراُن عورتوں نے دو اوباش اور شراب و شباب کے رسیا نوجوانوں کو اونٹنی کے قتل پر آمادہ کیا، جن کے ساتھ مزید سات اوباش نوجوان شامل ہوگئےاور پھر حسبِ پروگرام ایک دن یہ 9 افراد اونٹنی کے انتظار میں کنویں کے پاس گھات لگا کر بیٹھ گئے، جب کہ قوم کے لوگ اللہ کے عذاب کے ڈر سے چُھپ کر یہ منظر دیکھنے لگے۔ جب اونٹنی کنویں کے قریب آئی، تو مصدع نامی شخص نے تیر چلایا، جو اُس کی پنڈلی میں پیوست ہو گیا اور ٹانگ سے خون کا فوّارہ جاری ہو گیا۔ اونٹنی کو زخمی دیکھ کر باقی لوگ خوف زَدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر دونوں عورتیں آگے بڑھیں اور مَردوں کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیا، جس پر قبیلے کا سب سے قوی شخص، قدار بن سالف آگے بڑھا اور تلوار کے ایک بھرپور وار سے اونٹنی کی کونچیں (یعنی پچھلے پائوں کے اوپر کا حصّہ) کاٹ ڈالیں۔ اونٹنی شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑی اور ایک زوردار چیخ ماری۔ اسی اثناء میں زخمی اونٹنی کو گھیرے میں لے کر اُس پر نیزوں اور تلواروں کے لاتعداد وار کیے گئے، جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔ اُدھر اس کا بچّہ بھاگتا ہوا پہاڑ پر چڑھا اور چیخیں مارتا غائب ہو گیا۔

اونٹنی کے قتل کے بعد جب ان لوگوں نے دیکھا کہ کوئی عذاب نازل نہیں ہوا، تو مارے خوشی کے دیوانے ہوگئے اور جشن مناتے ہوئے چیخ چیخ کر حضرت صالح ؑکو چیلنج کرنے لگے کہ’’ تم جس عذاب سے ڈراتے ہو، اُسے لا کر دِکھائو۔‘‘ قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’آخر اُنہوں نے اونٹنی (کی کونچیں) کاٹ ڈالیں اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح ؑ جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (اللہ) کے پیغمبر ہو، تو اسے ہم پر لے آئو۔‘‘ (سورۂ اعراف77:)۔’’ ناقۃ اللہ‘‘ کے قتل کی خبر سُن کر حضرت صالح ؑآب دیدہ ہو گئے اور فرمایا’’اس بدنصیب قوم کو اب اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔‘‘ ادھر ثمود کے لوگوں کی دیدہ دلیری اور جرأت میں مزید اضافہ ہو گیا، اُن کے دل سے ڈر اور خوف نکل چُکا تھا۔حضرت صالح ؑکو اونٹنی کے قتل کا بڑا غم تھا اور اب اتمامِ حُجّت ہو چُکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اب عذاب آنا ہی تھا، لہٰذا حضرت صالح ؑنے اپنی قوم کو مطلع فرمایا کہ’’ اب تمہارے پاس عیش و عشرت کے صرف تین دن بچے ہیں، اس کے بعد ایک سخت عذاب تم پر نازل ہو گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’کہ جب اُنہوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں، تو (صالح ؑنے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھا لو۔ یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔‘‘ (سورۂ ہود65:)۔ حضرت صالح ؑکی بات سُن کر وہ لوگ ہنسی مذاق اور استہزا کرنے لگے اور طنزیہ استفسار کیا کہ’’ یہ تین دن ہم کیسے گزاریں گے؟‘‘ حضرت صالح ؑنے فرمایا ’’پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے۔ دوسرے دن رنگ سُرخ ہو جائے گا اور تیسرے دن، تمہارے چہروں پر نحوست پوری طرح عیاں ہو جائے گی یعنی وہ سیاہ پڑ جائیں گے اور چوتھے دن تم پر قہرِ الٰہی نازل ہوگا‘‘۔ اور پھر جب تینوں دن ایسا ہی ہوا، تو وہ خوف زَدہ ہو گئے اور انتظار کرنے لگے کہ اب کس قسم کا عذاب نازل ہونے والا ہے؟ ابھی چوتھے دن کا سورج طلوع ہی ہوا تھا کہ آسمان سے ایک بہت تیز چیخ کی آواز چنگھاڑ کی صُورت بلند ہوئی، جس نے اُن کے کانوں کے پردے پھاڑ دیئے، دل دہلا دیئے۔ چیخ کی آواز کے ساتھ ہی اُن کی روحیں، جسموں کا ساتھ چھوڑنے لگیں اور وہ اپنی اپنی جگہوں پر اوندھے پڑے سسک سسک کر ختم ہونے لگے۔

کچھ ہی دیر میں لاکھوں افراد پر مشتمل نہایت قوی اور طاقت وَر قوم جانوروں کے کھائے ہوئے بُھوسے کی طرح ڈھیر ہو چُکی تھی اور کفر و شرک میں مبتلا، غرور و تکبّر میں ڈوبے لوگوں کا شان دار اور بارونق شہر، شہرِ خموشاں میں تبدیل ہو کر ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بن گیا۔ آپؑ کا انتقال دو سو اسّی برس کی عُمر میں ہوا۔ مفسّرین میں اس پر مختلف آراء ہیں کہ قوم پر عذاب کے بعد حضرت صالح ؑنے کہاں قیام فرمایا۔ اکثر نے بیان فرما یا کہ ثمود کی ہلاکت کے بعد آپؑ اہلِ ایمان کے ساتھ شام تشریف لے گئے اور پھر فلسطین میں کچھ عرصہ قیام کے بعد مکّہ مکرّمہ آ گئے اور وہیں انتقال ہوا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ حضرت صالح،ؑ قوم پر عذاب کے بعد عمان (صلالہ) سے دو سو کلومیٹر دُور، ناسک کے مقام پر آباد ہو گئے، جہاں اُن کا انتقال ہوا۔ ناسک میں اُن سے منسوب ایک مزار بھی ہے، جہاں زائرین کثیر تعداد میں فاتحہ کے لیے آتے ہیں۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت صالح علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرما ئے

Leave a Comment