قصص الانبیا ء

حضرت شیث علیہ السلام کا مزار

حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی، ہابیل کو قتل کردیا، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے کوّے کے ذریعے بھائی کی لاش دفنانے کا طریقہ بتایا، جس پر عمل کرتے ہوئے اُس نے لاش دفنا دی۔ اب اُسے اپنے والد کے غصّے کا خوف تھا۔ اس موقعے پرشیطان نے قابیل کو گھر سے بھاگ جانے کی ترغیب دی، کیوں کہ اُسے یہ خوف لاحق تھا کہ اگر قابیل، حضرت آدمؑ کے پاس رہا، تو کہیں توبہ و استغفار کے بعد دوبارہ راہِ حق پر نہ آ جائے۔ چناں چہ اُس نے قابیل سے کہا’’ اب تجھے تیرے والد زندہ نہیں چھوڑیں گے، تجھے قتل کر ڈالیں گے، تُو یہاں سے بھاگ جا۔‘‘ قابیل کو تو پہلے ہی اس بات کا خوف تھا، لہٰذا وہ یمن فرار ہوگیا، جہاں اُس نے سکونت اختیار کی اور بعدازاں اُس نے شادیاں بھی کیں، جن سے اولادِ کثیر پیدا ہوئی۔ قابیل نے اپنے والد کے دینِ حق سے بغاوت کرکے پہلے آتش پرستی شروع کی، پھر شیطان نے اُسے پتھر سے بُت بنانے کا طریقہ سِکھا دیا، یوں قابیل اور اُس کی اولاد نے ایک اللہ کو چھوڑ کر بُت پرستی شروع کردی۔ دنیا میں قتل و غارت، حسد و فساد اور بُت پرستی کی بنیاد قابیل ہی نے رکھی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا’’دنیا میں جب بھی کوئی ظلم سے قتل ہوتا ہے، تو اُس کا ایک گناہ، حضرت آدم علیہ السّلام کے بیٹے، قابیل کی گردن پر ضرور ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یہ وہ شخص ہے، جس نے ظالمانہ قتل کی ابتدا کی اور یہ ناپاک طریقہ جاری کیا‘حضرت آدمؑ کو جب بیٹے کے قتل کی خبر ملی، تو وہ بہت غم زدہ ہوگئے، کیوں کہ ہابیل نہایت سعادت مند، فرماں بردار، نیک اور شائستہ نوجوان تھا۔ اُس کے ان ہی اوصافِ حمیدہ کی بناء پر حضرت آدمؑ کو اُمید تھی کہ وہ اللہ کے دین کو آگے بڑھانے میں اُن کا معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ ، ہابیل کی شہادت کا بنیادی سبب یہی تھا کہ قابیل کو بھی اندازہ ہو چُکا تھا کہ والد کے بعد نبوّت کا تاج نیک سیرت، ہابیل ہی کے سَر سجے گا اور اسی حسد نے اُسے بھائی کے قتل پر اُبھارا۔ ہابیل کے قتل کے بعد، حضرت آدمؑ اور اماں حوّاؑ بہت اداس رہا کرتے اور بیٹے کو یاد کرکے گھنٹوں آنسو بہایا کرتے تھے۔ حضرت آدمؑ، اللہ تعالیٰ سے دُعا فرمایا کرتے تھے کہ’’ اے اللہ! مجھے ایسی اولاد عطا فرما، جو تیرے دین کو دنیا میں پھیلانے میں میری معاون و مددگار ہو اور میرے بعد بھی تیرے پیغام کو دنیا میں عام کرے، میری صحیح جانشین ہو اور دنیا میں تیری وحدانیت کی عَلم بردار ہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کی دعائوں کو شرفِ قبولیت بخشا اور ایک نیک ،صالح بیٹے کی بشارت سے مطلع فرمایا، چناں چہ کچھ ہی عرصے بعد حضرت شیث علیہ السّلام پیدا ہوئے۔ حضرت آدمؑ اور امّاں حوّاؑ اُن کی پیدائش پر بےحد خوش تھے۔

یہ حضرت آدم علیہ السّلام کے تیسرے بیٹے تھے اور اُس وقت اُن کی عُمر 130سال تھی۔ امّاں حوّا علیہ السّلام نے صاحب زادے کا نام ’’شیث ‘‘ رکھا، جس کے عربی میں معنیٰ’’عطیۂ خداوندی‘‘ کے ہیں، یعنی’’ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کیا گیا خُوب صورت و خُوب سیرت تحفہ۔‘‘ حضرت شیث علیہ السّلام حُسن و جمال، شکل و صُورت اور عادات و اطوار میں اپنے والد سے بہت زیادہ مشابہ تھے۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حوّاؑ کو آپؑ سے بہت محبّت تھی۔اللہ ربّ العزّت نے حضرت شیث علیہ السّلام کو نبوّت کے عظیم منصب پر فائز فرمایا اور اولادِ کثیر سے نوازا۔پھر یہ کہ اُن کی اولاد نہایت فرماں بردار اور نیک بھی تھی، جو اپنے والد کے ساتھ تبلیغِ دین کے کاموں میں مصروف رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر 100صحیفے نازل کیے اور چار کتابیں۔ ان 100صحیفوں میں سے 50صحیفے حضرت شیث علیہ السّلام پر اُترے.۔

حضرت شیث علیہ السّلام نے اپنی پوری زندگی والد کی دی ہوئی تربیت کے تحت اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی میں صَرف کی۔ آخری عُمر میں زیادہ ضعیف ہونے کی وجہ سے گوشہ نشین ہوگئے تھے، لیکن اولاد آپؑ کے کام کو آگے بڑھاتی رہی۔ حضرت شیث علیہ السّلام اپنے بھائی، قابیل کی اولاد کے کفر و شرک میں مبتلا ہونے اور شیطان کا آلۂ کار بنے رہنے کی وجہ سے بڑے فکرمند رہتے تھے اور اُنہیں راہِ راست پر لانے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے، جنہوں نے اپنے باپ، قابیل کی شکل کے بُت بنا کر اس کی پوجا شروع کردی تھی۔ دنیا میں موجود تمام انسان یعنی بنی آدمؑ، حضرت شیثؑ ہی کی اولاد ہیں، کیوں کہ ہابیل تو محض 20برس کی عُمر میں اپنے بھائی، قابیل کے ہاتھوں شہید کردئیے گئے تھے اور اُنہوں نے کوئی وارث بھی نہیں چھوڑا تھا، جب کہ دوسرے بیٹے، قابیل کی اولاد شیطان کی پیروکار، اللہ کی نافرمان اور کفر پر گامزن تھی، جسے طوفانِ نوحؑ میں غرق کردیا گیا تھا۔ ۔حضرت شیث علیہ السّلام لوگوں کو نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ’’ سچّا مومن وہ ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہو، نیک اور بَد کو جانتا ہو، بادشاہِ وقت کا حکم بجا لاتا ہو، والدین کے حقوق ادا کرتا اور اُن کی خدمت کرتا ہو، صلۂ رحمی کرتا ہو، غصّے پر قابو رکھتا ہو، محتاجوں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آتا ہو، گناہوں سے پرہیز کرتا ہو، مصیبت کے وقت صبر کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اُس کا شُکر ادا کرتا ہو۔

حضرت شیث سے بہت سے ہنر منسوب ہیں ۔ کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ شیث کا مزار اقدس لبنان کے ایک گاؤں بنام شیث نبی میں واقع ہے جہاں بعد میں ایک مسجد ان کے نام پر قائم کی گئی تھی۔ تیرھویں صدی عیسوی اور بعد میں آنے والے عرب جغرافیہ دانوں کی روایات کے مطابق شیث نبی کا مزارفلسطین کے ایک شہر رملہ کے شمال مشرق میں واقع ایک گاؤں بشیت میں تھا۔بلاشبہ، 1948میں اسرائیل کے معرض وجود میں آنے کے وقت یہ گاؤں غیر آباد ہو گیاتھا۔ لیکن آج بھی تین کونوں والا مینار شیث کے مزار پر قائم و دائم ہے۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت شیث علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے بہترین جزائےخیر عطا فرما ئے

Leave a Comment