اسلامک معلومات

حضرت شعیب علیہ السلام کی قبر مبارک

حضرت شعیب علیہ السّلام کی بعثت’’ مدین‘‘ میں ہوئی۔ مدین ایک قبیلے کا نام ہے اور اُسی قبیلے کے سبب بستی کا یہ نام مشہور ہوگیا۔ دراصل، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ایک بیٹے کا نام مدین تھا اور اُن کی نسل کو’’ اہلِ مدین‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی تیسری بیوی، قطورا کے بطن سے تھے اور اسی لیے یہ خاندان ’’بنی قطورا‘‘ کہلاتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے، مدین اپنے اہل وعیّال کے ساتھ اپنے سوتیلے بھائی، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے قریب ہی حجاز میں آباد ہوگئے تھے۔ یہ جگہ بحیرۂ قلزم کے مشرقی کنارے اور عرب کے شمال مغرب میں شام سے متصل حجاز کے آخری حصّے میں واقع تھی۔ حجاز سے شام، فلسطین اور مِصر کے سفر کے دَوران قبیلہ مدین کی اِس بستی کے کھنڈرات دِکھائی دیتے ہیں، جب کہ مدین نام کا ایک شہر آج بھی شرقی اُردن کی بندرگاہ، معان کے قریب موجود ہے۔ قرآنِ کریم میں حضرت شعیبؑ اور اُن کی قوم کا تذکرہ گیارہ مقامات پر آیا ہے۔ سورۃ الاعراف، سورۂ ھود، سورۃ الحجر، سورۂ الشعراء اور سورۂ عنکبوت میں آپؑ کا ذکر موجود ہے۔ دنیا میں جتنے بھی انبیائے کرامؑ مبعوث فرمائے گئے، اُن کی دعوت کا مشترکہ مقصد حقوق کی بہ احسن طریقے سے ادائی کی تعلیم عام کرنا تھا۔ حقوق دو قسم کے ہیں، ایک حقوق اللہ یعنی اللہ کی عبادت اور اُس کی ہدایات پر عمل اور دوسرا حقوق العباد، جس کا تعلق انسانوں سے ہے۔ دنیا میں قومِ لوطؑ کے بعد قومِ شعیبؑ وہ قوم تھی، جو دونوں حقوق پامال کررہی تھی۔ ایک طرف وہ اللہ اور اُس کے رسولؑ پر ایمان نہ لاکر حقوق اللہ کی خلاف ورزی کر رہی تھی، تو دوسری طرف، ناپ تول میں کمی،لُوٹ مار، رہزنی، ڈرانا دھمکانا، زمین پر فساد جیسے گھناؤنے جرائم کی مرتکب ہوکر حقوق العباد کی دھجیاں بکھیر رہی تھی۔قرآنِ کریم میں قومِ شعیبؑ کے تین طرح کے عیوب کا تذکرہ ملتا ہے۔۔ وہ لوگ کفروشرک میں مبتلا تھے اور درختوں کی پوجا کرتے تھے۔

2۔ بیوپار میں بے ایمانی اور ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔
3۔راستوں میں بیٹھ کر لُوٹ مار کرتے، لوگوں کے اموال چھینتے اور غنڈا ٹیکس وصول کرتے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں غنڈا ٹیکس کی بنیاد قومِ شعیبؑ ہی نے رکھی، تو بے جا نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی اصلاح اور توحید کی دعوت کے لیے اُن ہی کی قوم کے ایک نیک اور سچّے انسان، حضرت شعیب علیہ السّلام کو مبعوث فرمایا۔ پچھلی قوموں کی طرح قومِ شعیبؑ میں بھی مشرکانہ رسم وعقائد کا دَور دورہ تھا۔حضرت شعیبؑ نے پہلے اُنہیں توحید کی دعوت دی، پھر اُن کی حرکتوں پر اُنہیں متنبّہ کیا ’’ اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سِوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچُکی ہے، تو تم ناپ تول پوری طرح کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحبِ ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے اور ہر راستے پر مت بیٹھا کرو، جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے، اُسے تم ڈراتے اور راہِ حق سے روکتے ہو اور اس میں کبھی ( عیب) ڈھونڈتے ہو ۔ اور یاد کرو! جب کہ تم بہت تھوڑے تھے، پھر اللہ نے تم کو کثیر کردیا اور دیکھو! کیا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا۔‘‘

حضرت شعیبؑ کی توحید کی دعوت سُن کر قوم کے متکبّر سردار چراغ پا ہوگئے اور اُنہوں نے حضرت شعیبؑ کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اُن کی قوم کے متکبّر سرداروں نے کہا’’ اے شعیبؑ! ہم تم کو اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے باہر نکال دیں گے، ورنہ تم سب کو ہمارے مذہب پر واپس آنا پڑے گا۔‘‘ (سورۃ الاعراف88) اس کے ساتھ ہی اُن کی قوم کے وہ سردار، جو کافر تھے (وہ قوم کے لوگوں سے) کہنے لگے،’’ اگر تم شعیبؑ کے پیچھے چلے، تو یاد رکھو! اس صُورت میں تمہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘‘ قوم کے متکبّر سرداروں کی جارحانہ گفتگو کے بعد حضرت شعیبؑ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کے دِلوں پر مُہر لگ چُکی ہے اور اُن پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوگا، لہٰذا اُنہوں نے اپنے ربّ سے دُعا کی’’ اے پروردگار! ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے اور آپ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف89) درحقیقت ان الفاظ کے ساتھ حضرت شعیبؑ نے اپنی قوم میں سے جو کفّار تھے، اُن کی ہلاکت کی دُعا کی تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیا۔قوم شعیبؑ تین طرح کےعیوب میں مبتلا تھی اور اللہ تعالیٰ نے اُسے تین طرح کے عذاب سے نیست و نابود کیا۔ قرآنِ کریم میں تین طرح کے عذاب کا تذکرہ ہے، جو قومِ شعیبؑ پر آیا۔(1) زمینی بھونچال یا زلزلہ( 2) چنگھاڑ( 3) آگ کے بادل۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر پہلے تو سخت گرمی مسلّط فرمائی اور سات دن مسلسل اُن پر ہَوا بند رکھی، جس کی وجہ سے پانی اور سایہ بھی اُن کی گرمی نہ کم کر سکا اور نہ ہی درختوں کے جُھنڈ کام آئے، چناں چہ اس مصیبت سے گھبرا کر بستی سے جنگل کی طرف بھاگے، وہاں اُن پر بادلوں نے سایہ کرلیا۔

سب گرمی اور دھوپ کی شدّت سے بچنے کے لیے اُس سائے تلے جمع ہوگئے اور سُکون کا سانس لیا۔ لیکن پھر چند لمحوں بعد ہی آسمان سے آگ کے شعلے برسنے شروع ہوگئے، زمین زلزلے سے لرزنے لگی اور پھر آسمان سے ایک سخت چنگھاڑ آئی، تو اُس نے اُن کی روحوں کو نکال دیا (کلیجے پھٹ گئے) اور جسموں کو تباہ و برباد کردیا اور سب اوندھے گرے پڑے رہ گئے۔‘‘قوم پر عذاب آتا دیکھ کر حضرت شعیب علیہ السّلام اور اُن کے ساتھی یہاں سے چل دیئے۔ آپؑ مکّہ معظّمہ آگئے اور آخر تک یہیں قیام رہا۔ قوم کی انتہائی سرکشی اور نافرمانی سے مایوس ہو کر حضرت شعیب علیہ السّلام نے بددُعا تو کردی، مگر جب قوم پر عذاب آیا، تو پیغمبرانہ شفقت و رحمت کے سبب دِل دُکھا، تو اپنے دِل کو تسلّی دینے کے لیے قوم کو خطاب کرکے فرمایا کہ’’ مَیں نے تو تم کو تمہارے ربّ کے احکام پہنچادیئے تھے اور تمہاری خیرخواہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا تھا، مگر مَیں کافر قوم کا کہاں تک غم کروں۔ حضرت شعیبؑ نے طویل عُمر پائی۔ ، انتقال کے وقت آپؑ کی عُمر چار سو سال تھی۔ اُردن کے شہر’’ السلط‘‘ کے قریب وادیٔ شعیبؑ میں آپؑ سے منسوب ایک مزار ہے، جس پر حکومت نے شان دار مقبرہ اور اس سے متصل مسجد بھی تعمیر کروائی ہے۔

Leave a Comment