اسلامک واقعات

حضرت سلیمان علیہ السلام کی قبر مبارک

حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ ٓپ کی پیدائش یروشلم میں ہوئی سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے متحدہ اسرائیل پر 970 قبل از مسیح سے لے کر 931 قبل از مسیح تک حکومت کی۔ ان کے بعد ملک اسرائیل کے دو حصے (شمالی اور جنوبی) ہو گئے۔داؤد علیہ السلام کی طرح اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو بھی بہت سے معجزے عطا کر رکھے تھے۔آپ جانوروں کی بولیاں سمجھ لیتے تھے،ہوا پر آپ کا قابو تھا۔ آپ کا تخت ہوا میں اڑا کرتا تھا۔ یعنی صبح اور شام مختلف سمتوں کو ایک ایک ماہ کا فاصلہ طے کر لیا کرتے تھے۔سلیمان علیہ السلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ کی حکومت صرف انسانوں پر ہی نہ تھی، بلکہ جن بھی آپ کے تابع تھے۔سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصی اور بیت المقدس کی تعمیر شروع کی۔ جن دور پہاڑسے پتھر اور سمندر سے موتی نکال نکال کر لایا کرتے تھے۔ یہ عمارتیں آج تک موجود ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے جنوں سے اور بھی بہت سے کام لیے۔سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں یمن کے علاقے پر ملکہ سباکی حکومت تھی، ایک دن سلیمان علیہ السلام کا دربار لگا ہوا تھا، جس میں تمام جن وانس، چرند، پرند اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے، دیکھا کہ ہدہد غیر حاضر ہے آپ نے فرمایا ہد ہد نظر نہیں آتا اگر اس نے اس غیر حاضری کی معقول وجہ بیان نہ کی تو اسے سخت سزا دی جائے گی، ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ ہدہد بھی حاضر ہو گیا، سلیمان علیہ السلام کے دریافت کرنے پر ہدہد نے بتایا کہ میں اڑتا ہوا یمن کے ملک میں جا پہنچا تھا، جہاں کی حکومت ملکہ سبا کے ہاتھ میں ہے۔ خدا نے سب کچھ دے رکھا ہے اس کا تخت بہت قیمتی اور شاندار ہے لیکن شیطان نے اس کو گمراہ کر رکھا ہے، وہ خدائے واحد کی بجائے آفتاب کی پرستش کرتی ہے۔سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اچھا تو میرا خط اس کے پاس لے جا، تیرے جھوٹ اور سچ کا امتحان ابھی ہو جائے گا چنانچہ ہدہد آپ کا خط لے کر ملکہ سبا کے پاس پہنچا اور خط اس کے آگے ڈال دیا، ملکہ نے خط پڑھ کر درباریوں کو بلایا اور خط کا مضمون پڑھ کر سنایا، جس میں درج تھا۔

” یہ خط سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور اللہ کے نام سے شروع کیا جاتا ہے جو بڑا مہربان اور رحم والا ہے۔ تم کو سرکشی اور سربلندی کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اور تم میرے پاس خدا کی فرماں بردار بن کر آؤ۔ “
ملکہ سبا نے بہت سے تحفے تحائف سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھیجے۔ آپ نے ان تحائف کو دیکھ کر فرمایا کہ ملکہ نے میرے پیغام کا مقصد نہیں سمجھا۔ آپ نے ملکہ کے سفیروں کو دیکھ کر فرمایا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میرے پاس کس چیز کی کمی ہے، یہ تحفے واپس لے جاؤ اور اپنی ملکہ سے کہو کہ اگر میرے پیغام کی تعمیل نہ کی تو میں عظیم الشان لشکر لے کر وہاں پہنچوں گا اور تم کو رسوا اور ذلیل کرکے تمہارے شہر سے نکال دوں گا۔جب قاصد سلیمان علیہ السلام کا پیغام لے کر ملکہ کے پاس گئے تو اس نے یہی مناسب سمجھا کہ خود سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جائے۔ جب سلیمان علیہ السلام کو ملکہ کی روانگی کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ دربار والوں میں کوئی ایسا ہے جو ملکہ کا تخت یہاں لے آئے۔ ایک جن نے کہا کہ آپ کے دربار برخاست ہونے تک میں تخت لاسکتا ہوں اور میں امین بھی ہوں۔ آپ کے وزیر آصف بن برخیا نے کہا کہ میں آنکھ جھپکتے تک اس کا تخت پیش کر سکتا ہوں۔ اس نے اسم اعظم پڑھا تو ملکہ سبا کا تخت حاضر ہو گیا۔

اور جونہی سلیمان علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو ملکہ کا تخت وہاں موجود تھا۔ اس پر سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور فرمایا کہ خدا کا یہ فضل میری آزمائش کے لیے ہے تاکہ وہ دیکھے کہ اس حالت میں بھی اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا نہیں۔ اب آپ نے حکم دیا کہ اس کی شکل بدل دی جائے جب ملکہ سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچی تو اس سے پوچھا گیا، کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے جیسا یہ ہے،اس نے کہا یہ تو وہی ہے۔ ملکہ سبا نے سلیمان علیہ السلام کے پیغمبرانہ جاہ و جلال کو دیکھ کر دین حق قبول کر لیا۔

داؤد علیہ السلام کے انتقال کے وقت، سلیمان علیہ السلام کی عمر پچیس سال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت دونوں میں سلیمان علیہ السلام کو داؤد علیہ السلام کا جانشین بنایا۔ یوں نبوت کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت بھی ان کے قبضے میں آ گئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ سلیمان علیہ السلام کے حکم سے جنوں کی ایک جماعت ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) بنانے میں مصروف تھی کہ سلیمان علیہ السلام کی وفات کا وقت آن پہنچا، آپ ایک لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو گئے اور انتقال فرما گئے۔ جنوں کو آپ کی موت کی خبر نہ ہوئی اور وہ اپنے کام میں لگے رہے۔ آخر ایک عرصہ کے بعد جب ان کی لاٹھی کو دیمک نے چاٹ لیا تو وہ بودی ہو کر ٹوٹ کر گر پڑی اور سلیمان علیہ السلام جو لاٹھی کے سہارے کھڑے تھے وہ بھی گر پڑے۔ اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام تو مدت سے انتقال کرچکے ہیں۔آپ یروشلم میں ہی دفن کیے گئے۔ ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت سلیمان علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائےخیر عطا فرمائے

Leave a Comment