قصص الانبیا ء

حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی سمجھ جاتے تھے

hazrat sulaiman

حضرت سلیمان علیہ السلام

چیونٹی اور ہود ہود کا واقع:

حضرت سلیمان پرندوں کی بولی سن کر سمجھ جاتے تھے کہ وہ ایک دوسرے سے کیا کہہ رہے ہیں. کہ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر سمیت روانہ ہوئے۔

اس لشکر میں انس و جن چرند ، پرند ہر قسم کی مخلوق شامل تھی۔ جن اور انسان آپ کے ساتھ چل رہے تھے اور پرندے اپنے پروں سے لشکر پر سایا کیے ساتھ ساتھ اُڑ رہے تھے۔

. محفوظِ سفر

اول آخر پورا لشکر بعدِ سکوں سے چھاؤں میں رواں دواں تھا۔ ہر فرد اپنی اپنی جگہ محفوظِ سفر تھا۔ نہ کوئی لشکر سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا تھا اور نہ کوئی پیچھے رہنے کا خیال دل میں لاتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ لشکر ایک ایسی جگہ پر پہنچا. جہاں پر چیونٹیوں کی رہائش یعنی ان کا گھر تھا۔ ایک چیونٹی بولی اے چونٹیوں اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤں۔

نعمتوں پر شکر

کہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں بےدہانی میں کچل نہ ڈالے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام یہ ساری باتیں اس چونٹی کی سن کر مسکرانے لگے اور اپنے رب سے دعا فرمانے لگے۔ اے اللہ پاک مجھے ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی توفیق دے .

جن سے تو نے مجھے نوازا ہے مجھے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں خصوصیت عطا ہوئی مملاقات و نبوت اور جانوروں کی بولیوں سے نوازا ہے مجھے عملِ صالحہ کی توفیق دے۔ اور اپنے نیک بندوں کے ساتھ میرا شمار فرما۔

دعا کو قبول فرمایا

اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کی اس دعا کو قبول فرمایا۔
ایک بار حضرت سلیمان نے تمام پرندوں کو اپنے دربار میں حاضر ہونے کو کہا اور ان سے کہا کہ وہ اپنے وہ کمالات دکھائیں جن میں وہ ماہر ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ حکم سن کر تمام پرندے دربار میں حاضر ہو گے۔ اور سب نے اپنا اپنا کمال بیان کرنا شروع کیا۔
جب ہودہود کی باری آئی تو وہ کہنے لگا حضور! مجھ میں یہ کمال ہے کہ میں آسمان کی بلندیوں پر بہت اونچا اُڑتا ہوں۔

جال میں پھنستے وقت

تو اتنی دور سے بھی زمین کے اندر تمام چیزوں کو دیکھ لیتا ہوں۔ اور بتا سکتا ہوں زمین کے کس حصے میں پانی ہے اور کس حصے میں نہیں ہود ہود کا یے بیان سن کر کوّا بولا: اے اللہ کے پیغمبر ہود ہود جھوٹ بولتا ہے اگر اس کی نظر اتنی تیز ہے تو یہ جال میں پڑے ہوئے دانے کو لپکتے ہوئے جال کو کیوں نہیں دیکھ لیتا اور اس میں کیوں پھنس جاتا ہے اس کو جال اس وقت کیوں نظر نہیں آتا اگر اس کو جال نظر آتا تو اس میں کیوں پھنستا؟

موت اور تقدیر کا پردہ

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس بات پر ہود ہود سے پوچھا کے کوے کی اس بات کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟
ہود ہو د نے عرض کی: اے نبی علیہ السلام! نظر تو میری اتنی ہی تیز ہے جتنا کے میں نے بتایا ہے مگر جال میں پھنستے وقت میری نظر پہ(قضاء) یعنی موت اور تقدیر کا پردہ پڑ جاتا ہے۔

Leave a Comment