اسلامک واقعات دلچسپ وعجیب

حضرت سلیمان ؑ اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر ایمان آفروزواقعہ

حضرت سلیمان

معزز خواتین وحضرات! اللہ تعالیٰ نے جنا ت کو وہ قوت و طاقت عطا کی ہے جس کے باعث وہ سخت سے سخت کام سر انجام دے لیتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب یہ ارادہ کیا کہ ہیکل کے ارد گرد ایک شہر بسایا جائے اور ہیکل کی تعمیر بھی از سرِ نو شایانِ شان طریقے سے کی جائے۔ تعمیر شہر اور ہیکل کے لیے بیش قیمت بھاری پتھروں کی ضرورت تھی۔ یہ کام جن ہی کر سکتے تھے۔

آمدو رفت کے وسائل کے بغیر وہ یہ بھاری اور قیمتی پتھر دور دراز سے اکٹھے کر کے لاتے اور تعمیر شہر اور ہیکل میں صرف کرتے۔حضرت سلیمان علیہ السلام فنِ تعمیر میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ پر شکوہ عمارات، عظیم الشان قلعے اور عبادت گاہوں کے لیے ضروری تھا کہ ان کی پائداری و استحکام میں کوئی شبہ نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تعمیرات کی مضبوطی کے لیے گارے چونے کے بجائے پگھلی ہوئی دھات استعمال کرنا چاہتے تھے، لیکن اتنی بڑی تعداد میں دھات کہاں سے میسر آئے پھر اسے پگھلایا کیسے جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے آسانی پیدا کی اور انھیں پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے عطا کیے۔ والد کے ہاتھ میں لوہا موم ہو جاتا تھا اور فرزند کو پگھلے ہوئے تانبے کے ذخیرے مل گئے کہ تانبا پگھلانا بھی آسان نہیں اور پھر یہ گرم بھی نہ تھا، تاکہ آسانی سے اس سے برتن اور دوسرے آلات بنا لیے جائیں۔ یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ان چشموں سے آگاہ کیا، جن کا تانبا پانی کی طرح مائع حالت میں تھا۔ اس سے پہلے یہ چشمے کسی کے علم میں نہ تھے۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایات ہے کہ یہ چشمہ اتنی دور جاری ہوا، جس کی مسافت تین دن اور تین رات میں طے ہو سکے۔ یہ چشمے یمن میں تھے۔ حضرت عابدؓ سے روایات ہے کہ یمن سے جاری اس چشمے سے تین دن اور تین رات کی مسافت تک، پگھلا ہوا تانبا بہتا رہا۔حضرت سلیمان کی فن تعمیر سے دلچسپی نے ان کی رعایا کو رہائشی سہولتیں مہیا کیں۔ آپ نے کئی شہر بنائے اور بسائے۔حضرت قتادہؒ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا حکم ہوا تو یہ ہدایت بھی کی گئی کہ لوہے کی آواز سنی نہ جائے۔ آپ نے کئی تدابیر کیں جو ناکام رہیں۔

تعمیراتی شور اٹھتا ہی رہا۔ آپ نے سنا کہ سمندر میں ضحر نام کا شیطان ہے جو یہ ترکیب بتا سکتا ہے۔ آپ نے نقشِ سلیمان سے اس کے کندھوں کے درمیان مہر لگائی یہ بے بس ہو کر آپ کا حکم بجا لانے پر مجبور ہو گیا۔کہا جاتا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی تعمیر حضرت سلیمان کے عہد میں انھی کی زیرِ نگرانی ہوئی، لیکن یہ درست نہیں حضرت یعقوب علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی اور عرصۂ دراز کے بعد جب ان کے نشان بھی معدوم ہو گئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے خدا کے حکم سے مسجد اور شہر کو از سرِ نو بسایا۔ ’’ایک اور روایت کے مطابق بیت المقدس کی تعمیر بھی حضرت ابراہیم کے ذریعے بیت اللہ کی تعمیر سے چالیس سال بعد ہوئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو بیت المقدس کی تعمیر کی یہ بھی بیت اللہ کی طرح نئی اور ابتدائی تعمیر نہ تھی۔ بلکہ سلیمان علیہ السلام نے بنائے ابراہیمی پر اس کی تجدید کی ہے‘‘۔ ۴۴ ؎یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ کو ہزاروں صدیوں بعد، جب اس کے نشانات غائب ہو چکے تھے، اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے دوبارہ بنایا اور بسایا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ان پر شکوہ عمارات کی تعمیر میں سرکش اور باغی جن بے چون و چرا ہمہ وقت مصروف عمل رہتے۔ اللہ رب العزت قرآن کر یم میں ارشاد فرما تے ہے کہ’’اور شیطان (سرکش جنوں ) میں سے ہم نے مسخر کر دیے جو اس سلیمان علیہ السلام کے لیے سمندروں میں غوطے مارتے یعنی بیش قیمت بحری اشیا نکالتے اور اس کے علاوہ اور بہت سے کام انجام دیتے اور ہم ان کے لیے نگہبان و نگراں تھے۔ ‘‘حضرت سلیمان علیہ السلام جو کام چاہتے ان جنوں سے لیتے، جو جن اپنی سرکشی کی عادت کی بنا پر ان کا حکم ماننے سے انکار کرتا فوراً آگ میں بھسم کر دیا جاتا۔ بے شک جنات آگ سے بنے ہیں، مگر خالص اور تیز آگ انھیں بھی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

اللہ رب العزت ارشاد فرما تے ہے کہ ’’ اور جنوں میں سے وہ تھے جو اس کے سامنے خدمات انجام دیتے۔ اس کے پروردگار کے حکم سے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم کی خلاف ورزی کرے۔ ہم اس کو دوزخ کا عذاب چکھائیں گے۔ وہ اس کے لیے بتاتے جو کچھ وہ (سلیمان علیہ السلام ) چاہتا تھا۔ قلعوں کی تعمیر، ہتھیار اور تصاویر اور بڑے بڑے لگن جو حوض کی مانند تھے اور بڑی بڑی دیگیں جو اپنی بڑائی کی وجہ سے ایک جگہ جمی رہیں۔ اے آلِ داؤد علیہ السلام! شکر گزاری کے کام کرو۔ میرے بندوں میں سے تم سے شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں۔ ‘‘ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر بہت بڑا تھا۔ جن بہت بڑے حوض تعمیر کرتے جس میں پانی موجود رہتا۔ پھر بڑی بڑی دیگیں بناتے جو اتنی وزنی تھیں کہ ہلائی نہ جا سکیں، ممکن ہے کہ یہ دیگیں اور چولھے پتھروں، چٹانوں کو تراش کر جن بناتے ہوں تاکہ ان میں اتنی بڑی فوج کے لیے کھانا تیار کیا جا سکے۔آلِ داؤد علیہ السلام قولاً اور فعلاً دونوں طرح اللہ کا شکر ادا کرتی۔ یہ حضرت داؤد علیہ السلام ہی کا حصہ تھا کہ انھوں نے اپنے اہل و عیال میں نفل نماز کی تقسیم اس طرح کی تھی کہ ان کے گھر میں ہر لمحہ کوئی نہ کوئی فرد مصروفِ عبادت ہوتا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام دونوں کو ہی خدا نے اپنے بہت سے انعامات سے نوازا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت سخت اجسام کو موم کر دیا جیسے کہ پہاڑ اور لوہا، جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ان لطیف اجسام کو مفتوح کر دیا جو دکھائی بھی نہ دے سکیں۔ مثلاً ہوا، جنات وغیرہ۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے جہاں حضرت داؤد علیہ السلام کے قائم کردہ علمی، مذہبی،

معاشرتی احکام و روایات کی پاسداری کی اور انھیں آگے بڑھایا وہیں ان کی تشنہ خواہشات کی تکمیل بھی کی اور ان میں سب سے اہم بیت المقدّس کی تعمیر کی خواہش تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ حضرت داؤد علیہ السلام کو اپنے لیے ایک گھر بنانے کا حکم دیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے حکم کی تعمیل کی تو وحی نازل ہوئی کہ تم نے میرے گھر سے پہلے اپنا گھر بنا لیا۔ آپ نے فوراً ہی تعمیر مسجد کے لیے کام شروع کر دیا، بنیادیں بھری گئیں۔ دیواریں کھڑی کی گئیں لیکن جب تمام دیواریں مکمل ہو گئیں تو اچانک کھڑی دیواروں کا ایک تہائی حصہ گر گیا۔ آپ نے اللہ سے فریاد کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ مسجد کی تعمیر تیرے نصیب میں نہیں۔ آپ غمزدہ ہوئے تو یہ نوید دی گئی کہ اسے تیرا بیٹا سلیمان علیہ السلام مکمل کرے گا۔بیت الَمَقدِس، یعنی پاک مقدس گھر، مسلمانوں کا قبلۂ اول، حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد اس شہر میں رکھی کہ جسے بیشتر انبیا کی سر زمین ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یروشلم، جو تینوں الہامی مذاہب کے ماننے والوں یعنی عیسائی یہودی اور مسلمانوں کے لیے بے حد قابلِ احترام ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام نے یہاں ۳۳ برس تک نظامِ حکومت سنبھالے رکھا، اگرچہ آپ کا زیادہ تر دور پر آشوب رہا۔ جنگ و جدل کا بازار بھی گرم رہا لیکن ایک فائدہ یہ ہوا کہ اسرائیلی جو تفرقوں میں بٹے، ایک دوسرے کے دشمن ہو رہے تھے۔ بیرونی دشمنوں سے مقابلے کے لیے آپس کے اختلافات بھلا کر متحد ہو گئے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی خواہش تھی کہ ان میں اتحاد و یگانگت بڑھانے کے لیے ایک عظیم الشان عبادت گاہ کا قیام ضروری ہے کہ جہاں یہ تمام اکٹھے عبادت کریں۔ اسرائیلی روایات کے مطابق انھیں خواب میں اشارہ دیا گیا تھا کہ ان کی آرزو ضرور پوری ہو گی لیکن ان کے بیٹے سلیمان کے دورِ حکومت میں، چنانچہ اسی مقام پر جسے حضرت داؤد علیہ السلام منتخب کر گئے تھے۔ تعمیر مسجد کا کام شروع کیا گیا۔’’

جب سلیمان نے بیت القدس ( مسجد اقصیٰ) بنانے کی تیاری کی تو حیرام بادشاہ صور کو کہلا بھیجا کہ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی جو مراد بیت المقدس بنانے کی تھی وہ تو لڑائیوں کے شغل کی وجہ سے پوری نہیں ہونے پائی مگر اب میں چاہتا ہوں کہ اس کو پورا کروں۔ میری قوم میں صیدانیوں کی طرح لکڑی کاٹنے کے کام جاننے والے نہیں ہیں، چنانچہ حیرام نے ایک مردِ عارف بھیجا جو معدنیات کے کام اور نقاشی وغیرہ میں استاد تھا… اور اپنے لڑکوں کو اجازت دی کہ جبل لبنان سے دریا تک ازر اور سرو کی لکڑیاں پہنچا دیں۔ مدتِ تعمیر میں البتہ اختلاف ہے۔ بعض مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ ہیکل کی تعمیر میں تیرہ برس صرف ہوئے۔قصص القرآن میں عرصہ تعمیر سات سال بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس بات میں بھی تضاد پایا جاتا ہے کہ تعمیر میں کتنے نفوس شامل تھے۔ کیا صرف جن میں شامل تھے یا جن و انس دونوں نے اس کی تعمیر میں کام کیا تھا۔ ایک روایت کے مطابق تیس ہزار نفر (جن و انس) اس کام میں مسلسل مصروف رہے تب کہیں جا کر یہ عمارت مکمل ہوئی۔اسرائیلی روایات کے مطابق دو لاکھ افراد اس کی تعمیر میں مصروف عمل رہے۔ تورات میں کئی مقامات پر ان تعمیری خدمات کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔’’اور یہی باعث ہے جس سے سلیمان بادشاہ نے لوگوں کی بیگار لی کہ خداوند کا گھر (مسجد اور شہر یروشلم) اور اپنا قصر (قصرِ سلیمان) اور (شہر) ملو اور یروشلم کی شہر پناہ…..اس کے سرداروں کے شہر بنائے اور جو کچھ سلیمان کی تمنا تھی سو یروشلم میں اور لبنان میں اور اپنی مملکت کی ساری زمین میں بنائے‘‘اس کی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ جیسے برِ صغیر میں مغل بادشاہوں کا دورِ حکومت بڑا شاندار رہا۔ لیکن شاہ جہاں نے فن تعمیر کے حوالے سے بڑا کام کیا اور انجینئر بادشاہ کے لقب سے مشہور ہوا،

اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے فنِ تعمیر میں دلچسپی کے باعث ایسی عظیم الشان عمارات اور شہر تعمیر کیے اور بستیاں بسائیں جو انھی سے مخصوص ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل اپنی پرانی روش پر آ گئے۔ بت پرستی پھر رواج پا گئی اور ساتھ ہی تمام برائیاں بھی عود آئیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بیٹے رجعام کی تخت نشینی کو پانچ سال ہوئے تھے کہ شاہِ مصر نے یروشلم پر حملہ کیا اور ہیکل سلیمانی سے تمام نایاب و قیمتی اشیا بھی سمیٹ لے گیا۔ ۷۴۰ قبل مسیح میں پھر ہیکل سلیمانی سے تورات و دیگر صحائف غائب ہوئے۔ ہیکل میں موجود تابوت سکینہ ایسا غائب ہوا کہ جس کا علم آج تک نہ ہو سکا۔ جواہر التفسیر اور دائرۃ المعارف کے مطابق تابوتِ سکینہ اور حضرت موسیٰ کا عصا بحیرہ طبریہ میں ہے اور قیامت کے قریب دونوں کا ظہور ہو گا۔دین اسلام کے ظہور کے بعد حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں اکثر انبیا اسی سرزمین پر مبعوث ہوئے۔ بیت المقدس کے کھنڈرات پر آپ ؓنے ایک سادہ سی مسجد تعمیر کرائی اور وہ مقام تلاش کیے جہاں سے آپﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے اور اپنے ہاتھوں سے صفائی کی۔ حضرت بلالؓ نے اذان دی اور آپؓ نے نماز پڑھائی۔یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں مذاہب کے لیے اس مقام کی عظمت اور عقیدت ڈھکی چھپی نہیں۔ حضورِ اکرمﷺ نے اس مقام کی فضیلت اس طرح بیان کی ہے کہ مسجد حرام مکہ مکرمہ، مسجدِ نبوی، مدینہ منورہ کے بعد اگر کوئی تیسرا سفرِ زیارت جائز ہے تو وہ مسجد اقصیٰ کا ہے۔ اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب ۲۵ ہزار نمازوں کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کا قبلۂ اول کہ حضورﷺ ہجرت کے بعد سترہ ماہ تک اسی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے،

امامت کراتے رہے۔ دورانِ نماز ہی، آپ کی خواہش کے مطابق قبلہ کا رخ خانہ کعبہ کی جانب کر دیا گیا۔ معراج کے لیے بھی آپ اسی مقام سے عرشِ بریں پر لے جائے گئے تھے۔ یہیں آپ نے سابقہ انبیائے کرام علیہ السلام کی نماز کی امامت کروائی تھی۔ ہیکل سلیمانی یا بیت المقدس، جِسے مسلمان مسجد اقصیٰ اور حرم شریف کے نام سے اور یہودی بیت اللحم کے نام سے پکارتے ہیں۔ موجودہ تعمیر پانچویں اموی خلیفہ عبد المالک بن مروان نے ۶۹۰ء میں شروع کرائی۔ عموماً مسجد اقصیٰ سے مراد پورا رقبہ حرم لیا جاتا ہے۔ بیت المقدس کے خاص خاص مقامات کا مختصر ذکر تاکہ اندازہ ہو سکے کہ اس مقام کی اہمیت کیا ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے ان کے پیروکاروں نے اسے کسی انداز میں تعمیر کیا تھا۔مسجد اقصیٰ بیت المقدس کے جنوب مشرقی گوشے میں واقع ہے۔ اس کی عمارت بہت وسیع ہے۔ سنگ مر مر سے تعمیر کردہ اس مسجد کے پندرہ دروازے ہیں۔بیت القدس میں استعمال ہونے والی لکڑیاں کوہِ لبنان پر تراشی جاتیں اور بیت المقدس بھیجی جاتیں۔ سنگ تراش بھی تعمیر کے لیے بڑے بڑے پتھروں کی وہیں تراش خراش کرتے اور پھر شہر لاتے، حضرت سلیمان نے پائداری کے خیال سے بہت گہری بنیادیں کھدوائیں، تمام عمارت میں سنگِ مرمر استعمال کیا، سرو کے شہتیر اور تختے کام میں لائے گئے، دیواروں اور چھتوں کو سونے کی چادروں سے منڈھ دیا گیا۔ ہیکل کے اندرونی حصے کو مقدس کمرہ قرار دیا گیا اور یہاں تابوتِ سکینہ محفوظ کیا گیا، ہیکل کے دروازے پر سونے کی چادریں چڑھا دی گئیں، اللہ رب العزت ہمیں بھی اپنی حکمتوں کو من وعن تسلیم کر نے اور اپنی رضا والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما ئے۔۔۔آمین ثم آمین السلام علیکم ورحمتہ اللہ

Leave a Comment