اسلامک معلومات

حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ عنہ

حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ عنہ

حضرت زینب بنت محمد رضی اللہ عنہ

حضرت زینب بنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔  خدیجہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کے پانچ برس بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک تیس برس تھی۔ جب اعلان نبوت ہوا اس وقت حضرت زینب رضی اللہ عنہ دس برس کی ہو چکی تھیں۔

حضرت زینب بنت محمد کا نکاح

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا نکاح ابو العاص سے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قبول فرمائی اور حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا نکاح ان کے خالہ زاد ابو العاص سے کر دیا۔ یہ نکاح اعلان نبوت سے پہلے ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو کفار آپ سے دشمنی پر اتر آئے۔

دشمنی کا ایک طریقہ انہوں نے یہ اپنایا کہ ابو العاص سے زور دے کر کہا کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کو طلاق دے دیں۔ اور قریش کی جس عورت سے چاہیں گے ان سے آپ کی شادی کروا دیں گے۔ اس پر ابوالعاص نے کہا میں زینب رضی اللہ عنہ کو طلاق نہیں دوں گا۔ قریش نے اس رشتے کو ختم کروانے کے لئے بہت زور لگایا لیکن ابوالعاص انکار کرتے رہے۔ اگرچے وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھےلیکن پھر بھی انہوں نے قریش کا مطالبہ نا مانا۔

آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت

حضرت زینب بنت محمد کا مقام بہت بلند ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بلند مقام کی خبر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدے کی بنیاد پر ابوالعاص نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کو اپنے بھائی کے ساتھ مدینے روانہ کیا۔ راستے میں بہت سے کفار نے روکنے کی کوشش بھی کی۔ جس کی وجہ سے حضرت زینب کو بہت سی تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس طرح ہجرت کے دوران انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسا سلوک ان کے مسلمان ہونے کی بنا پر کیا گیا۔ یہ تکالیف انہوں نے اللہ کے راستے میں اٹھائیں۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری بیٹیوں میں سب سے افضل زینب ہے۔ اسے میری وجہ سے مصیبت میں مبتلا ہونا پڑا۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ کے افضل ہونے کی خوشخبری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دی۔

Leave a Comment