اسلامک معلومات

حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہ کا واقعہ

آپ کانام ‘برہ’ تھا۔ والد کا نام جحش اور والدہ کا نام امیمہ تھا ،جو عبدالمطلب کی صاحبزادی تھیں۔ اس طرح سیدہ زینب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سگی پھوپھی کی بیٹی تھی ۔امیمہ عبداللہ کی حقیقی بہن تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ سیدہ زینب اسلام اور ہجرت کے لحاظ سے السابقون الاولون میں شامل ہیں۔ یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکی کہ

آپ کی والدہ نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں۔ ایک روایت کے مطابق اسلام قبول کر لیا تھا لیکن دوسری روایت میں ہے کہ نہیں کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام ‘برہ’ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کرکے زینب رکھا ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے سے پہلے آپ کے منہ بولے بیٹے اور آزاد کردہ غلام سیدنا زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن بھی تھیں اور عرب کا دستور یہ تھا کہ آزاد کردہ غلاموں کو اپنے لیے شرم کا باعث سمجھتے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کا پیغام دیا تو سیدہ زینب اور ان کے بھائی نے صاف انکار کر دیا ۔اس پر قرآن حکیم کی یہ آیت نازل ہوئیں” کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہ جائے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ بڑی واضح گمراہی میں جا پڑا “۔اس آیت کے بعد یہ دونوں راضی ہوگئے اور اللہ کے حکم کے مطابق زینب کا نکاح غیر زید سے ہو گیا ۔نکاح تو ہوگیا لیکن سیدہ کے دل میں وہ نہ اتر سکے، اس لیے اکثر گھر میں لڑائی رہتی ،آپس میں نہ بنتی۔ زید ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زینب کی بے رخی کا گلہ کرتے۔ عرض کرتے میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں لیکن آپ منع فرما دیتے۔ فرماتے اس نے تمہیں میری خاطر قبول کیا ہے اس لئے اب چھوڑ نا اچھی بات نہیں ہوگی،

مجھے اپنے خاندان میں ندامت اور شرمندگی ہو گی ۔یہ سن کر زید چپ ہو جاتے مگر یہ جھگڑا ختم نہ ہوا تب انہوں نے طلاق دے دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوچا کہ زینب رضی اللہ عنہ کی دلجوئی اس طرح ممکن ہے کہ میں خود ان سے نکاح کر لوں لیکن جاہلوں اور منافقوں سے یہ اندیشہ تھا کہ لوگ یہ طعنہ دیں گے کہ اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی کو گھر رکھ لیا یعنی اس سے نکاح کر لیا۔حالانکہ لے پالک کسی طرح بھی بیٹے کے حکم میں شامل نہیں۔ عرب میں مدت سے ایک برا دستور چلا آرہا تھا یہ کہ اگر کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتے تو اس کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرنے کو وہ حد درجہ برا خیال کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس رسم کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل اور عمل سے ختم کردے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بذریعہ وحی اطلاع دی گئی کہ زید کے طلاق دینے کے بعد زینب آپ کے نکاح میں آئیں گی تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی کا وہ حکم نہیں ہے جو حقیقی بیٹے کی بیوی کا ہے۔ آخر ایک دن زید نے آکر آپ کو بتایا کہ اس نے تنگ آکر زینب کو طلاق دے دی ہے، یہ سن کر آپ خاموش ہو گئے۔جب سیدہ زینب کی عدت پوری ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید ہی کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور زینب کو آپ کے لئے نکاح کا پیغام دیں۔ اس سے آپ کا منشا یہ تھا کہ یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ جو کچھ ہوا ہے زید کی رضامندی سے ہوا ہے۔ سیدنا زید آپ کا پیغام لے کر ان کے گھر گئے اور دروازے کی طرف پشت کرکے کھڑے ہوگئے اگرچہ ابھی پردے کا حکم نہیں ہوا تھا ان کا اپنا بیان ہے کہ میرے دل میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کی عظمت بیٹھ گئی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود ان سے نکاح کرنا چاہتے تھے۔

یہ ان کا تقوی تھا انہوں نے کہا اے زینب تمہیں بشارت ہو کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طرف بھیجا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نکاح کا پیغام لایا ہوں۔ اس پر زینب رضی اللہ نے جواب دیا کہ میں اس پر اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتی جب تک میں اپنے رب سے مشورہ نہ کر لوں( مطلب یہ تھا کہ اس استخارہ کر لوں) پھر بتاؤں گی چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ اسی وقت اٹھیں اور نماز کے لیے گھر میں جو جگہ بنا رکھی تھی وہاں جاکر استخارہ کیا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کے ہم نے آپ کا نکاح آسمان پر کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اطلاع سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کو دی گئی۔آپ نے اسی وقت سجدے میں گر کر اللہ کا شکر ادا کیا ۔اس اطلاع کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہوگئے اور فرمایا تمہارا نام کیا ہے ؟سیدہ نے فرمایا برا ہے آپ نے زینب نام تجویز فرمایا ۔اس کا ہونا تھا کہ منافقین باتیں بنانے لگے، وہ تو ایسے موقع کی تاڑ میں رہتے تھے۔ چنانچہ کہنے لگے پیغمبر ایک طرف تو کہتے ہیں کہ بیٹوں کی بیویوں سے نکاح حرام ہے اور دوسری طرف خود اپنے بیٹے کی عورت سے نکاح کر لیا۔ حق تعالیٰ شانہ ان بد باطلوں کی رد میں آیت خاتم النبیین نازل فرمائی” محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے”۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس وضاحت کے بعد ان منافقین کے منہ بند ہوگئے۔

سیدہ رضی اللہ عنہ کا نکاح مدینہ میں تین ہجری میں ہوا۔ ایک روایت چار ہجری کی بھی ہے بعض حضرات نے پانچ ہجری بھی لکھا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے بعد ولیمے کا بھی اہتمام کیا چنانچہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بیوی کے ولیمے میں اس قدر اہتمام سے کام نہیں لیا جتنا سیدہ زینب کے ولیمے میں فرمایا ۔ایک بکری زبح فرمائی لوگوں کو دعوت ولیمہ دی، انہیں پیٹ بھر کر گوشت اور روٹی کھلائی ،کچھ لوگ کھا کر چلے گئے لیکن کچھ بیٹھے باتوں میں لگے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زبان سے تو انہیں کچھ نہ فرمایا لیکن وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ وہ سمجھ جائیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارک باد دی پھر تمام ازواج مطہرات کے حجروں میں تشریف لے گئے سب کو سلام کیا سب نے آپ کو مبارک باد دی، بالآخر وہ لوگ بھی اٹھ کر چلے گئے ۔ان کے اس قدر تاخیر سے جانے پر آیت حجاب نازل ہوئی اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر پردہ لٹکا دیا اور لوگوں کو گھر کے اندر جانے کی ممانعت ہوگئی ۔سیدہ کے نکاح کی چند خصوصیات بھی سن لیں:• جاہلیت کی رسم کہ متبنیٰ حقیقی بیٹے کا حکم رکھتا ہے مٹ گئی• اسلامی مساوات کا شاندار اظہار ہوا• آزاد کردہ غلام اور آقا کا فرق ختم ہوگیا• اس نکاح میں پردے کا حکم نازل ہوا•

نکاح کیلئے وحی آئی• یہ نکاح آسمان پر ہواسورہ احزاب کی آیت 37 سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، اس بنا پر سیدہ زینب دوسری بیویوں پر فخر کیا کرتی تھیں کہ تمہارے نکاح تو تمہارے گھر والوں نے زمین پر کیے جب کہ میرا نکاح میرے رب نے ساتوں آسمانوں سے اوپر کیا ۔صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ کسی عورت کو دیندار اور اللہ سے ڈرنے والا اور سچ بولنے والا نہیں پایا اور ان سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور کوئی صدقہ خیرات کرنے والا کسی کو نہیں پایا ۔وہ محنت کرکے صدقہ کرتی تھیں تاکہ اللہ کا قرب حاصل ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سیدہ زینب کی بہت خاطر داری فرماتے، ان کی صفات لحاظ فرماتے۔ ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ” تم میں سے سب سے جلد مجھ سے وہ ملے گا جس کا ہاتھ تم میں سے سب سے لمبا ہوگا “۔آپ کا اشارہ سخاوت کی طرف تھا لیکن ا زواج مطہرات نے اس کے ظاہری معنی مراد لیے اور اپنے بازوؤں کو ناپنا شروع کر دیا لیکن جب سب سے پہلے سیدہ زینب کا انتقال ہوا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا مطلب ان کی سمجھ میں آیا کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کما کر خیرات کیا کرتی تھیں، اپنا کفن بھی اپنی زندگی ہی میں تیار کرلیا تھا۔

آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر 53 سال تھی ۔یہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ کے بعد ازواج مطہرات سے دریافت کیا کہ ان کی قبر میں تدفین کے لیے کون داخل ہوگا، انہوں نے جواب دیا وہ لوگ جو زندگی میں ان کے پاس آتے تھے انہیں قبر میں اتاریں۔ چنانچہ سیدنا اسامہ بن زید ،سیدنا محمد بن عبد اللہ بن جحش اور عبداللہ بن ابی احمد بن جحش اور محمد بن طلحہ نے انہیں قبر میں اتارا ،آپ رضی اللہ عنہ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکاح کے وقت ان کی عمر 35 سال تھی 37 سال کی روایت بھی ملتی ہیں۔ آپ کے انتقال پر سیدہ عائشہ نے فرمایا” افسوس آج ایسی عورت گزر گئی جو پسندیدہ اوصاف والی ، عبادت گزار اور یتیموں اور بیواؤں کا سہارا تھیں۔ انتقال کے بعد آپ نے ایک مکان یادگار چھوڑا۔ آپ کے اس مقام کو خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اپنے زمانہ حکومت میں پچاس ہزار درہم میں خرید کر مسجد نبوی میں داخل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت کم احادیث روایت کیں ۔صرف گیارہ احادیث کی کتب میں ملتی ہیں ۔ آپ میں تقویٰ غضب کا تھا ،عبادت کا خاص شوق تھا ،عبادت نہایت خشوع و خضوع سے کرتی تھیں، کثرت سے روزے رکھتی تھیں، اپنے ہاتھ سے کماتی تھیں اور جو کماتی تھیں سب مساکین میں صدقہ کر دیتی تھیں۔

سیدنا عمر فاروق نے جب پہلی مرتبہ سیدہ زینب کو وظیفہ بھیجا تو انہوں نے خیال کیا کہ یہ سب ازواج مطہرات کا ہے اور فرمایا اللہ ان کی مغفرت فرمائے وہ خود ہی تمام امہات المومنین میں تقسیم کردیتے، اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ سب آپ کا ہے۔ سیدہ زینب نے فرمایا سبحان اللہ پھر اپنے اور اس مال کے درمیان ایک کپڑے کا پردہ ڈال دیا ،پھر مال لانے والوں کو فرمایا کہ اس کو یہاں ڈال دو اور اس پر ایک کپڑا ڈال دو، پھر فرمایا اب کپڑے کے نیچے ہاتھ ڈال کر جتنا ہاتھ میں آئے وہ لوگوں میں تقسیم کرتے جائیں، اس طرح کپڑے کے نیچے سے مٹھی بھر بھر کر مال لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا۔سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کوئی عورت ان سے زیادہ دیندار، پرہیزگار اور سخی نہیں دیکھی تھی ،اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہر دم سرگرم رہتی تھیں البتہ مزاج میں ذرا تیزی تھی اس کی بنا پر انہیں جلد ندامت بھی ہوتی تھی۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں جب سیدہ زینب کا انتقال ہوا تو مدینے کے فقراء اور مساکین میں ہلچل مچ گئی کیونکہ ان کے ہمدرد و غمگسار اور ان کے لئے دونوں ہاتھوں سے بے دریغ مال لٹا نے والی چلی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی ان پر ہزارہا رحمتیں ہوں۔

Leave a Comment