اسلامک معلومات قصص الانبیا ء

حضرت دائود ؑ کی توبہ

حضرت دائود ؑ

حضرت دائود ؑ کی توبہ

حضرت دائود ؑ  کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا بادشاہ بنایا۔  پھر انہیں نبوّت اور رسالت کے عظیم منصب پر فائز کیا۔انہے دانائی بخشی۔آپؑ نڈر اور قوی ہونے کے ساتھ ساتھ حکمرانی اور فیصلہ کرنے کی قوت بھی رکھتے تھے۔  جو کے تحفہ خداوندی تھا۔

حضرت دائود ؑ  کی عبادت و ریاضت

حضرت داؤد علیہ السلام ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ہمدو ثنا میں لگے رہتے۔ان کو عبادت و ریاضت سے اس قدر لگاؤ تھا کہ ان کی شعوری کوشش تھی کہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں وہ خود یا گھر کا کوئی نہ کوئی فرد عبادت میں مشغول رہے۔یعنی گھر میں کوئی بھی ایسا لمحہ نہ گزرے جس میں گھرانے کا کوئی فرد عبادت میں مشغول نہ ہو۔ایک دفعہ ایسا ہوا کے حضرت داؤد کے دل میں احساس فخر جاگا اور وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی عبادت گذاری پر خوش ہوئے۔پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کے یہ عبادت گذاری کی توفیق بھی میری ہی عطا کی ہوئی ہے۔اگر میری مدد شامل نہ ہو تو یہ تیرے بس میں نہیں ہے۔

دو جھگڑا کرتے ہوئے افراد

حضرت داؤد اپنے نظام الاوقات کے مطابق اپنی عبادت میں مصروف تھے آپ کے خاندان کے کسی اور فرد کی عبادت کا وقت نہ تھا کہ اچانک آپ کی عبادت گاہ میں دو جھگڑا کرتے ہوئے افراد دیوار پھلانگ کر آ گے۔ آپ علیہ السلام گھبرا گئے لیکن انہوں نے کہا ہم اپنے مقدمے کے فیصلے کے لیے آپکے پاس آئیں ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ میرے اس بھائی کے پاس نناوے دنبیان ہیں جب کے میرے پاس صرف ایک ہے

۔یہ زبردستی مجھ سے میری دنبی لینا چاہتا ہے اور اپنے ریوڑ میں شامل کرنا چاہتا ہے۔آپ نے فرمایا یہ تیری دنبي اپنی دُنمبیوں میں ملانے کے لیے تُجھ سے مانگتا ہے۔بے شک ظلم کرتا ہے۔
یہ وقت آپ کا عبادت کا تھا نہ کے عدالت لگانے کا۔اپنے مدعی کا بیان سنا اور فیصلہ سنا دیا۔ مقدمہ بہت معمولی نوعیت کا تھا سب لوگ جانتے تھے کے اسکا فیصلہ کیا ہوگا لیکن فریق کا دیوار پھاند کر آنا قابل غور تھا۔حضرت داؤد جان گئے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو کے آپکا امتحان لینے آئیں ہیں

توبہ استغفار

” پس اُنہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کی۔اور سجدے میں گر پڑے اور رجوع ہوئے”
اس واقع کا پاس منظر یہ ہے کے جیسے ہی حضرت داؤد کے دل میں خواہش نے سر اٹھایا جو کے نبی کی شایانِ شان نہیں تھی اسی وقت حضرت داؤد سجدہ ریز ہو گئے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔حضرت داؤد جانتے تھے کہ استغفار اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل ہے اس لیے سر بسجود ہوکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور حق و باطل کے درمیان فیصلے کی قوت بھی اسی کی عطا جانتے۔

Leave a Comment