قصص الانبیا ء

حضرت داؤد علیہ السلام کون تھے؟

حضرت داؤد علیہ السلام کون تھے؟

حضرت داود علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام سے 1000 (ہزار سال) قبل مسیح اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے 500 (پانچ سوسال) بعد نازل ہوئے۔ آپ علیہ السلام نے شروع میں اپنے خاندان کی بھیڑوں کی چوپانی کرنے لگے۔

دیو ہیکل دشمن

بنی اسرائیل کے دیو ہیکل دشمن جالوت نے اسرائیل کے خلاف فوجی مہم جوئی کی اور اسرائیلی اس وجہ سے پریشان اور گھبرائے۔ تاہم حضرت داود علیہ السلام نے جالوت کو للکارا اور اُس کو جنگ میں قتل کر ڈالا۔

یہ بڑی قابلِ فخر بات تھی کہ ایک چھوٹے لڑکے نے جو بھیڑوں کا چرواہا تھا۔ اُس نے ایک دیوہیکل فوجی کو مار ڈالا۔ اس لیے حضرت داود علیہ السلام بہت زیادہ مشہور ہوگے۔ تب بنی اسرائیل نے اپنے دشمن کو شکست دی۔

قرآن شریف نے ہمیں اس جنگ کے بارے میں بتایا ہے۔ جو درج ذیل ہے۔

دشمن کو شکست

پھر انہوں نے ان (جالوتی فوجوں) کو اللہ کے امر سے شکست دی، اور داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کر دیا اور اﷲ نے ان کو (یعنی داؤد علیہ السلام کو) حکومت اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں جو چاہا سکھایا، اور اگر اﷲ (ظلم و جور روا رکھنے والے اَمن دشمن) لوگوں کے ایک گروہ کو (تکریمِ اِنسانیت اور اَمن کا تحفظ کرنے والے) دوسرے گروہ کے ذریعے نہ ہٹاتا رہتا تو زمین (پر انسانی زندگی بعض جابروں کے مسلسل تسلّط اور ظلم کے باعث) برباد ہو جاتی مگر اﷲ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ سورۃ البقرہ 251

 

طویل اور مشکل تجربات

اس جنگ کے بعد حضرت داود علیہ السلام ایک جنگجو کے طور پر بہت مشہور ہوگے۔ اس طرح حضرت داود علیہ السلام طویل اور مشکل تجربات کے بعد بادشاہ بن گے۔ کیونکہ اُن کے دشمن کافی تھے۔

حضرت داود علیہ السلام کے بنی اسرائیل میں اور باہر دوسری قوموں میں دشمن موجود تھے۔ کتاب مقدس میں پہلا (1) اور دوسرا (2) سموئیل کی کتابوں میں اُن کی مشکلات اور فتوحات کا ذکرپایا جاتا ہے۔ حضرت سموئیل علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ اُنہوں نے حضرت داود علیہ السلام کو مسح (مخصوص) کیا تھا۔

 

مشہور موسیقار

حضرت داودؑ ایک مشہور موسیقار تھے۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں خوبصورت حمد اور نظمیں لکھیں۔

قرآن شریف سورة صٓ (سورة 38 – سعد کا خط) میں مندرجہ ذیل آیت میں ذکر آیا ہے۔

(اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے۔

Leave a Comment