اسلامک واقعات

حضرت ایوب ؑ کی آزمائش

حضرت ایوب ؑ

۔حضرت ایوب ؑ کی آزمائش

حضرت ایوب ؑ  ، حضرت اسحاق بن ابراہیم علیہ اسلام کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی والدہ حضرت لوط علیہ اسلام کے خاندان سے ہیں۔ آپ علیہ اسلام بہت ہی نیک اور صابر پیغمبر تھے۔ حضرت  علیہ اسلام ہر مشکل پر صبر کرتے اور اپنے رب کے حضور شکر کرتے رہتے۔ آپ علیہ اسلام نے کبھی بھی اللہ سے شکایت نہیں کی تھی۔ آپ علیہ اسلام ہمیشہ خود کو اللہ کی حمد و ثناء میں مصروف رکھتے۔

حضرت ایوب علیہ اسلام کی آزمائش

اللہ تعالی نے حضرت ایوب علیہ اسلام کو بے تحاشا مال و دولت، جائداد، مکانات، سواریاں، اولاد اور خدام عطا کیے تھے۔ آپ کو اللہ نے دنیا جہان کی نعمتوں سے نواز رکھا تھا، لیکن آپ کبھی بھی اپنی دولت پر غرور نہ کرتے تھے بلکہ انسانیت کی بھلائ کے لئے استعمال کرتے تھے۔حضرت ایوب علیہ اسلام ہمیشہ ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے۔ آپ علیہ اسلام بہت سخی تھے۔

آپ علیہ اسلام کو اللہ تعالی نے بہت سی آزمائش میں ڈالا۔ ایک بار ایسا کرنا ہوا کہ آپ علیہ اسلام کا سارا مال، جائداد، مکانات غرض کہ ہر چیز اللہ نے آپ سے چھین لی اور آپ کو ایک موذی مرض میں مبتلا کر دیا۔ صرف آپ کی آنکھیں اور قلب حرکت کرنے کے قابل تھے۔ اور آپ کا باقی سارا جسم بیماری کی وجہ سے ساکت تھا۔ اس مشکل وقت میں بھی آپ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہتے اور اللہ کی حمد و ثناء کرتے۔ اس آزمائش میں سب نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تھا، سوائے آپ کی بیوی کے۔ آپ کی بیوی ہر طرح سے آپ کا خیال رکھتی۔حضرت ایوب ؑ کی خدمت میں مشغول رہتیں۔

آپ ؑ  کے صبر کا پھل اور حکمتیں

حضرت ایوب علیہ اسلام ایک عرصہ اسی بیماری میں مبتلا رہے لیکن کبھی بھی اللہ سے شکایت نہ کی۔ آپ علیہ اسلام یہی کہتے کہ اللہ کی نعمتیں تھی، اس نے واپس لے لی تو میں شکایت کیوں کروں؟ آپ علیہ اسلام کے صبر کو اللہ نے بہت پسند کیا، اور آپ علیہ اسلام کو اس آزمائش سے نکال دیا۔ اللہ نے آپ علیہ اسلام کو دوبارہ سے تندرست و جوان کر دیا۔ آپ سے موذی بیماری بھی دور کر دی اور اپ کی ساری چیزیں آپ علیہ اسلام کو واپس دے دی۔ آپ علیہ اسلام نے اللہ کا شکر ادا کیا اور پہلے سے زیادہ اللہ کی عبادت میں خود کو مصروف کر لیا۔

ہمیں بھی جان لینا چاہیے کہ آزمائش جتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ ہمیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے، اور وہی ہمیں اس آزمائش سے نکالتا ہے۔ ہمیں مشکل کے وقت اللہ دے شکایت کرنے کی بجائے۔ اس کی عبادت میں مشغول ہونا چاہیے۔ اور صرف اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اللہ کو ہم سے کچھ بھی چھین لینا مقصود نہیں ہوتا۔ وہ تو بس ہمیں پا لینے کی چاہ اور کھو دینے کے ڈر سے بچانا چاہتا ہے۔ اس لیے اگر کبھی ہم سے کچھ چھین لیا جائے تو ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔  کہ وہ ہمیں ہماری چیزیں لوٹا بھی دیگا۔

Leave a Comment