قصص الانبیا ء

حضرت اویس قرنیؒ

حضرت اویس قرنیؒ کا شمارجلیل القدر تابعین اور چالیس پیشواؤں میں ہوتا ہے۔ حضورِ اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اویس اور احسان  مہربانی کے اعتبار سے بہترین تابعین میں سے ہیں۔ جس کی تعریف آپؐ نے فرما دی اس کی تعریف دوسرا کوئی کیا کر سکتا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت میں ایک شخص ایسا بھی ہے۔

جس کی شفاعت سے بنو ربیعہ اور بنو مظہر کی بھیڑوں کے بال کے برابر گنہگاروں کو بخش دیا جائے گا۔ بنو ربیعہ اور بنو مظہر دو قبیلے ہیں جن میں بکثرت بھیڑیں پائی جاتی تھیں۔ صحابہ کرامؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ وہ کون شخص ہے اور کہاں مقیم ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ کا ایک بندہ ہے۔ پھر صحابہ کرامؓ کے اصرار کے بعد فرمایا وہ حضرت اویس قرنیؒ ہیں۔
صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ وہ کبھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تو آپؐ نے فرمایا کبھی نہیں۔ لیکن چشمِ ظاہری کی بجائے چشمِ باطنی سے اُس کو میرے دیدار کی سعادت حاصل ہے۔اُس کا مجھ تک نہ پہنچنے کی دو وجوہات ہیں، اول غلبہ حال اور دوئم تعظیمِ شریعت۔
پھر جب صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ کیا ہم اُن سے شرفِ نیاز حاصل کر سکتے ہیں۔

آپؐ نے فرمایا نہیں البتہ جنابِ عمرؓ اور جنابِ علیؓ سے اُن کی ملاقات ہو گی۔ اُن کی شناخت یہ ہے کہ اُن کے پورے جسم پر بال ہو نگے اور ہتیھلی کی بائیں طرف پر ایک درہم کے برابر سفید رنگ کا داغ ہو گا۔ لیکن وہ برص کا داغ نہیں ہے۔ لہذا جب اُن سے ملاقات ہو تو۔ میرا سلام پہچانے کے بعد میری اُمت کے لیے دُعا کرنے کا پیغام بھی دینا۔

حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کی حضرت اویس قرنیؒ سے ملاقات

حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ جب قوفہ پہنچے تو آپؒ کا پتہ معلوم کیا۔ تو کسی اجنبی نے کہا کہ میں اُن سے پوری طرح تو واقف نہیں۔ البتہ ایک دیوانہ آبادی سے دور عرفہ کی وادی میں اُونٹ چرایا کرتا ہےاور خشک روٹی اُس کی غذا ہے۔ لوگوں کو ہنستا ہوا دیکھ کر خود روتا ہے اور روتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر خود ہنستا ہے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضرت اویس قرنیؒ نماز میں مشغول ہیں۔ اور ملائکہ اُن کے اُونٹ چرا رہے ہیں۔ فراغتِ نماز کے بعد جب اُن کا نام دریافت کیا تو جواب دیا کہ عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اپنا اصل نام بتائیے تو آپؒ نے جواب دیا کہ اویس ہے۔

حضورِ اکرمؐ کی بتائی ہوئی نشانی کا پورا ہونا

حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ دکھائیں۔ اُنہوں نے جب ہاتھ دکھایا تو حضورِ اکرمؐ کی بیان کردہ نشانی کو دیکھ کر آپؓ نے دستِ بوسی کی۔ آپؓ نے حضورِ اکرمؐ کا لباس مبارک پیشں کیا۔ پھر آپؐ کا سلام پہنچا کر اُمتِ محمدیﷺ کے حق میں دُعا کرنے کا پیغام بھی دیا۔

حضرت اویس قرنیؒ کی حضرت محمدﷺ سے محبت

حضرت عمرؓ نے آپؒ سے حضورِاکرمؐ کی زیارت نہ کرنے کے بارے میں سوال کیا۔ تو اویس قرنیؒ نے آپؓ سے پوچھا کہ جنگِ اُحد میں حضورِاکرمؐ کا کون سا دانت مبارک شہید ہوا تھا۔ اور آپ نے اتباع نبیؐ میں اپنے تمام دانت کیوں نہ توڑ ڈالے۔ یہ کہہ کر اپنے تمام ٹوٹے ہوئے دانت دکھا کر کہا۔ کہ جب آپؐ کا دانت مبارک شہید ہوا تو میں نے اپنا ایک دانت توڑ ڈالا۔

پھر خیال آیا کہ شاید کوئی دوسرا دانت مبارک شہید ہوا ہو۔ اس طرح ایک ایک کر کے جب تمام دانت توڑ ڈالے تو اُس وقت مجھے سکون نصیب ہوا۔
یہ دیکھ کر دونوں صحابہؓ پر رقت طاری ہو گئی۔ اور یہ اندازہ ہوگیا کہ پاسِ ادب کا حق یہی ہوتا ہے۔ گو حضرت اویس قرنیؒ دیدارِ نبویؐ سے مشرف تو نہ ہو سکے۔ لیکن اتباعِ رسالت کا مکمل حق ادا کر کے دنیا کو درسِ ادب دیتے ہوئے رخصت ہو گئے۔

Leave a Comment