اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت الیاس علیہ السلام کا تعارف اور ان کا مزار مبارک

حضرت الیاس علیہ السّلام اللہ تعالیٰ کے نبی اور حضرت ہارونؑ کی اولاد میں سے تھے۔ آپؑ تقریباً نو سو قبلِ مسیح اُردن کے شہر’’جِلعاد‘‘ میں پیدا ہوئےآپؑ، حضرت حزقیل علیہ السّلام کے بعد اور حضرت الیسع علیہ السّلام سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصّوں میں بٹ چُکی تھی۔ایک حصّہ یہودا یا یہودیہ کہلاتا تھا اور اس کا مرکز، بیت المقدِس تھا اور دوسرا حصّہ، اسرائیل کہلاتا تھا،

جس کا پایۂ تخت سامرہ (موجودہ نابلس) تھا۔ اُس وقت اسرائیل میں جو بادشاہ حکم راں تھا، اُس کا نام اخی اب ‘‘ تھا۔ اُس کی بیوی، ایزبل،’’ بعل‘‘ نامی بُت کی پرستار تھی اور اُس نے بعل کے نام پر ایک بڑی قربان گاہ تعمیر کر کے بنی اسرائیل کو بُت پرستی کی راہ پر لگا دیا تھا۔ حضرت الیاس علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ اس خطّے میں جا کر توحید کی تعلیم دیں اور اسرائیلیوں کو بُت پرستی سے روکیں ۔قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے ’’اور الیاسؑ بھی پیغمبروں میں سے تھے، جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ’’ تم ڈرتے کیوں نہیں، کیا تم بعل کو پکارتے (اور اُسے پوجتے ہو) اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو۔ یعنی اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے باپ، دادا کا پروردگار ہے‘‘، تو اُن لوگوں نے اُن کو جھٹلا دیا۔سو، وہ دوزخ میں حاضر کیے جائیں گے۔ ہاں! اللہ کے خاص بندے مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے اور ہم نے بعد کے لوگوں میں (الیاسؑ) کا ذکر باقی رکھا۔ اِل یاسین ( الیاسؑ) پر سلام ہو۔ بلاشبہ ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ (سورۂ صافات 132۔123)حضرت الیاس علیہ السّلام نے مُلکِ شام کے سب سے مشہور شہر ’’بعلبک‘‘ (Baalbek) کو رُشد و ہدایت کا مرکز بنایا۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بعل دیوتا کا بُت اسی شہر میں تھا اور یہ بُت پرستی، ستارہ پرستی اور کفر و شرک کا سب سے بڑا اور قدیم مرکز تھا۔ اس شہر کا نام بعلبک بھی اسی بُت، بعل کے نام سے منسوب تھا،

چناں چہ حضرت الیاس علیہ السّلام نے اس کفرستان سے وعظ و نصیحت کا آغاز کیا۔ حضرت الیاس علیہ السّلام نے اسرائیل کے بادشاہ’’اخی اب‘‘ اور اُس کی رعایا کو بعل نامی بُت کی پرستش سے روکااور اُنھیں توحید کی دعوت دی مگر ایک، دو افراد کے سوا کسی نے آپؑ کی بات نہیں مانی، بلکہ آپؑ کو طرح طرح سے پریشان کرنے لگے، یہاں تک کہ اخی اب اور اُس کی بیوی، ایزبل نے آپؑ کو شہید کرنے کے بھی منصوبے بنائے، جس پر آپؑ نے ایک دُور افتادہ غار میں پناہ لی اور عرصۂ دراز تک وہیں مقیم رہے۔ بعدازاں، آپؑ نے دُعا فرمائی کہ اسرائیل کے لوگ قحط سالی کا شکار ہو جائیں تاکہ اس قحط کو دُور کرنے کے لیے آپؑ اُن کو معجزات دِکھائیں، تو شاید وہ ایمان لے آئیں۔ چناں چہ اُنہیں شدید قحط میں مبتلا کر دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السّلام، اللہ تعالیٰ کے حکم سے اخی اب سے ملے اور اُس سے کہا کہ’’ یہ عذاب، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے ہے اور اگر تم اب بھی باز آ جائو، تو یہ عذاب دُور ہو سکتا ہے۔ میری سچّائی کے امتحان کا بھی یہ بہترین موقع ہے۔ تم کہتے ہو کہ اسرائیل میں تمہارے معبود، بعل کے ساڑھے چار سو نبی ہیں، تم ایک دن اُن سب کو میرے سامنے جمع کر لو۔ وہ بعل کے نام پر قربانی پیش کریںاور مَیں اللہ کے نام پر قربانی کروں گا، جس کی قربانی کو آسمانی آگ آ کر بھسم کر دے گی اُس کا دین سچّا ہو گا۔‘‘ سب نے اس تجویز کو خوشی خوشی مان لیا۔ چناں چہ کوہِ کرمل کے مقام پر یہ اجتماع ہوا۔ بعل کے جھوٹے نبیوں نے اپنی قربانی پیش کی اور صبح سے دوپہر تک بعل سے التجائیں کرتے رہے،

مگر کوئی جواب نہ آیا۔ اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السّلام نے اپنی قربانی پیش کی۔ اس پر آسمان سے آگ نازل ہوئی، جس نے حضرت الیاس علیہ السّلام کی قربانی کو جلا کر بھسم کر دیا۔ یہ دیکھ کر بہت سے لوگ سجدے میں گر گئے، کیوں کہ اُن پر حق واضح ہو گیا تھا، لیکن بعل کے جھوٹے نبی اب بھی نہ مانے۔ اسی طرح، بادشاہ کی بیوی، ایزبل بھی حضرت الیاس علیہ السّلام پر ایمان لانے کے بجائے، الٹی اُن کی جان کی دشمن ہو گئی۔حضرت الیاسؑ کو اُس کے عزائم کا پتا چلا، تو آپؑ روپوش ہو گئےاور کچھ عرصے بعد بنی اسرائیل کے دوسرے مُلک، یہودیہ میں تبلیغ شروع کر دی، کیوں کہ رفتہ رفتہ بعل پرستی کی وبا وہاں بھی پھیل چُکی تھی۔ وہاں کے بادشاہ نے بھی آپ کی بات نہ سُنی ،یہاں تک کہ وہ حضرت الیاس علیہ السّلام کی پیش گوئی کے مطابق تباہ و برباد ہوگیا۔ چند سال بعد آپؑ دوبارہ اسرائیل تشریف لائے اور بادشاہ کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کی، مگر وہ بدستور اپنی بداعمالیوں میں مبتلا رہا۔ یہاں تک کہ اُنہیں بیرونی حملوں اور مہلک بیماریوں کا شکار بنا دیا گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو واپس بلا لیا۔ آ پ کا مزار بعلبک میں ہی واقعہ ہیں ۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت الیاس علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرما ئے۔آمین ثم آمین

Leave a Comment