اسلامک واقعات

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبر مبارک

سیدنا اسماعیل علیہ السلام اللہ کے نبی، ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے تھے۔ ۔قرآن نے انہیں صادق الوعد کا لقب دیاحضرت ہاجرہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ بچے ہی تھے کہ ابراہیم ان کو ان کی والدہ ہاجرہ کو اس بنجر اور ویران علاقے میں چھوڑ آئے جو اب مکہ معظمہ کے نام سے مشہور ہے۔ اور عالم اسلام کا قبلہ ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ ایک طویل عرصہ تک اولاد جیسی نعمت سے محروم تھے کیونکہ آپ کی بیوی حضرت سارہ ؓبانجھ اور حضرت ابراہیمؑ کی زندگی میں اولاد کی کمی پوری کرنے سے قاصر تھیں، آخر حضرت”ھاجرہ” کے ذریعہ حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کی کمی پوری ہوئی اور اللہ تعالی نے انہیں حضرت اسماعیل ؑ سے نوازا ۔ ایسی صورتحال میں حضرت ابراہیم ؑ کی اپنے بیٹے کے ساتھ محبت واشتیاق میں ایک خاص قسم کی جھلک نمودار ہوتی تھی، کیونکہ آپ کئی سالوں کے انتظار کے بعد صاحبِ اولاد ہوئے تھے، حضرت اسماعیل ؑ بھی باپ کی ایسی خاص محبت وشفقت کے سائے میں پروان چرھنے لگے پھر اچانک اللہ پاک کی طرف سے حکم ملا کہ اے ابراہیم ؑ اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کو خدا کی راہ میں ذبح کرو۔حضرت ابراہیمؑ کو پروردگار کی طرف سے حکم ملا کہ وہ اپنے اکلوتے فرزند حضرت اسماعیل ؑ کو خدا کی راہ میں قربان کریں، آپ ؑ نے اللہ تعالی کا یہ حکم پاتے ہی اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور قربان گاہ کی طرف چل دیئے۔جب حضرت ابراہیمؑ اپنے اکلوتے اورفرمانبردار بیٹے کو قربانی کی جگہ لے جارہے تھے توراستہ میں شیطان ایک بوڑھے آدمی کی صورت میں ظاہر ہوا اور نصیحت کرنے والے انداز میں کہنے لگا: اے ابراہیم، آخر تم اپنے بیٹے سے کیا چاہتے ہو؟

حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں اُسے خدا کی راہ میں قربان کردوں اُس(شیطان) نے کہا: واہ، کیا تم اپنے اس بیٹے کو ذبح کرنا چاہتے ہو جس نے پلک جھپکنے کی دیر کیلئے بھی اپنے خدا کی نافرمانی نہیں کی؟!

حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا: اللہ تعالی نے مجھے اس کام کا حکم دیا ہے۔اُس(شیطان) نے کہا: ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک شیطانی الہام تھا اور شیطان ہی نے تجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔حضرت ابراہیم ؑ برہم ہوئے اور فرمایا: وائے ہو تجھ پر، جس نے مجھے مقام نبوت سے ہمکنار فرمایا ہے اُسی نے مجھے اس کام کا حکم بھی دیا ہے۔بوڑھے آدمی(شیطان) نے دوبارہ اپنی بات تکرار کی تو حضرت ابراہیم نے اُسے پہچان لیا اور اپنے ہاتھوں میں کچھ کنکریاں اٹھائیں اور اُ سے مار کر بھگا دیا۔حضرت ابراہیم ؑ ایمان کی قوت اور راسخ ارادہ کے ساتھ اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں مشغول ہوگئے۔ جب آپ نے اپنے صابر وبردبار فرزند کو زمین پر لٹایا اور حضرت اسماعیل کے گلے پر چھری چلانے کا ارادہ کیا تو عین اسی وقت اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور حضرت ابراہیم ؑ کو ان کے ایمان، تسلیم اور اخلاص کے ساتھ اللہ کے حکم کی تعمیل میں کامیابی پر رضایت الہی کی بشارت دی گئی۔ پھر حضرت جبرائیل قربانی کیلئے ایک بھیڑ لائے اور حضرت ابراہیم ؑ نے اُسے ذبح کیا ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو حجازِ مقدّس اور اس کے آس پاس کی تمام آبادیوں، نیز قومِ جرہم، قومِ عمالیق اور اہلِ یمن کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ آپؑ، ہمارے پیارے نبی، حضرت محمّد مصطفیٰﷺ کے جدّ ِ اعلیٰ ہیں قرآنِ مجید میں حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے تین اوصاف نہایت صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔(1)تعمیرِ کعبہ کے دَوران اپنے والد، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے شانہ بشانہ شریک رہے۔(2)آپؑ وعدے کے بڑے پکّے اور سچّے تھے(3)آپؑ لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے رہتے تھے تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتے ہیں’’ (اے نبیؑ)کتاب میں اسماعیلؑ کا بھی ذکر کیجیے۔بے شک، وہ وعدے کے سچّے اور (ہمارے)بھیجے ہوئے نبی تھے اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تعلیم دیتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ(برگزیدہ) تھے۔ٓپ نے اپنے والد کے ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کی۔خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خانۂ کعبہ کی صفائی، امامت اور آنے والے زائرین کی خدمت سمیت تمام کام حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے سپرد فرمائے اور ان کو نصیحت و ہدایات دیتے ہوئے بیت اللہ شریف کا متولّی مقرر فرمایا۔

پھر آپؑ خود واپس مُلکِ شام چلے گئے۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی وفات کے بعد آپؑ کے بیٹے، نابت بن اسماعیلؑ کعبے کے متولّی بنے۔۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے 137سال کی عُمر میں وفات پائی۔آپؑ کو کعبۃ اللہ کے صحن میں میزابِ رحمت اور حجرِ اسود کے درمیان اپنی والدہ کے پہلو میں سُپردِ خاک کیا گیا۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت اسما عیل علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائےخیر عطا فرما ئے

Leave a Comment