اسلامک واقعات

حضرت اسحاق علیہ السلام کی قبر مبارک۔

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ ایک سو برس اور آپؑ کی اہلیہ، حضرت سارہؑ کی عُمر نوّے سال تھی، جب اُن کے ہاں حضرت اسحاق علیہ السّلام پیدا ہوئے۔ اُن دِنوں حضرت ابراہیم علیہ السّلام مُلکِ شام میں رہائش پزیر تھے، جب کہ بڑے صاحب زادے، حضرت اسماعیل علیہ السّلام 14سال سے مکّہ مکرّمہ میں اپنی والدہ، حضرت ہاجرہؑ کے ساتھ مقیم تھے۔ ایک دن اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی ایک جماعت کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ قومِ لوطؑ پر عذابِ الہٰی نازل کریں، جو حد سے گزر چُکی تھی۔ یہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پاس آئے اور اُنہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک سعادت مند بیٹے کی خُوش خبری سُنائی ۔چوں کہ حضرت سارہؑ بوڑھی تھیں، فرشتوں کی اس خُوش خبری پر اُنہیں بڑی حیرت ہوئی اور تعجب بھی، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں یوں فرمایا’’ ہم نے اس کو (حضرت سارہؑ کو) اسحاق علیہ السّلام کی اور اسحاق علیہ السّلام کے بعد یعقوب علیہ السّلام کی خُوش خبری دی، تو اُنھوں نے کہا’’اے ہے! میرے بچّہ ہوگا، مَیں تو بڑھیا ہوں اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہیں۔یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘اُنھوں(فرشتوں) نے کہا’’ کیا تم اللہ کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہلِ بیت! تم پر اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں۔‘‘(سورۂ ھود71:73) حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی اس خُوش خبری پر بڑے حیران ہوئے، کیوں کہ وہ بہت بوڑھے ہو چُکے تھے ۔ لہٰذا، اُنہوں نے بھی ازراہِ تعجّب فرشتوں سے فرمایا’’ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا، تو تم خُوش خبری دینے لگے۔اب کاہے کی خُوش خبری دیتے ہو؟‘‘(اُنہوں نے)کہا’’ ہم آپؑ کو سچّی خُوش خبری دیتے ہیں۔ آپؑ مایوس نہ ہوں۔‘‘(سورۃ الحجر 54:55)غرض، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی پیدائش کے 14سال بعد اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو ایک اور سعادت مند فرزند، حضرت اسحاق علیہ السّلام عطا فرمائے، جس پر حضرت ابراہیم علیہ السّلام بار بار اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرتے تھے۔قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’(ابراہیم علیہ السّلام نے کہا) اللہ کا شُکر ہے، جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحاق ؑ بخشے۔بے شک میرا پروردگار دُعائوں کو سُننے والا ہے۔‘‘(سورۂ ابراہیم 39:)حضرت اسحاق علیہ السّلام کی پیدائش اُسی سال ہوئی، جس سال حضرت ابراہیم علیہ السّلام اور حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے اللہ کا گھر، خانۂ کعبہ تعمیر کیا۔حضرت اسحاق علیہ السّلام کے نبی ہونے کی گواہی خود قرآنِ کریم میں دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ اور ہم نے اُن کو اسحاق علیہ السّلام کی بشارت بھی دی کہ وہ نبی اورنیکو کاروں میں سے ہوں گے اور ہم نے اُن پر اور اسحاق علیہ السّلام پر برکتیں نازل کی تھیں اور اُن دونوں کی اولاد میں صالح لوگ بھی ہیں اور اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والے(یعنی گنہ گار) بھی۔‘‘ (سورۂ الصٰفٰت 112:113) حضرت اسحاق علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوّت عطا فرمائی اور آپؑ کی اولاد’’ بنی اسحاق‘‘ کہلائی۔ بعدازاں بنی اسرائیل میں جتنے بھی نبی پیدا ہوئے، سب کے سب آپ ؑہی کی نسل سے تھے۔

حضرت اسحاق علیہ السّلام کی شادی حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے بھائی، ناحور کی پوتی، رفقا سے ہوئی۔ شادی کے وقت حضرت اسحاق علیہ السّلام کی عُمر چالیس سال تھی۔ اُنھیں اولاد کی بڑی خواہش اور تمنّا تھی، جس کے لیے وہ بارگاہِ الہٰی میں دُعائیں کیا کرتے تھے۔ آپؑ کی دُعائیں قبول ہوئیں اور شادی کے بیس برس بعد اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو دو جڑواں بیٹے عطا فرمائے۔پہلے کا نام محیصو رکھا گیا، جسے اہلِ عرب محیص کے نام سے پکارتے ہیں،اُن کی اولاد رومی کہلائی۔ دوسرے کا نام، یعقوب رکھا گیا ،جن کا لقب’’ اسرائیل تھا‘‘ اور اُن کی نسل’’ بنی اسرائیل‘‘ کہلائی۔حضرت اسحاق علیہ السّلام اپنے بڑے بیٹے، محیص سے زیادہ محبّت کرتے تھے ،جب کہ اُن کی اہلیہ، رفقا اپنے چھوٹے بیٹے، یعقوب کو زیادہ چاہتی تھیں۔ آخری عُمر میں حضرت اسحاق علیہ السّلام کی بینائی ختم ہو گئی تھی اور آپؑ نابینا ہو گئے تھے ۔دونوں بیٹے سعادت مند تھے اور باپ کی بے حد خدمت کیا کرتے تھے۔ آپ بنی‌ اسرائیل کے جد ہیں اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے دی گئی بشارت کے مطابق آپ کی نسل سے حضرت یعقوب، حضرت داوود، حضرت یوسف، حضرت سلیمان، حضرت ایوب، حضرت موسی، حضرت ہارون اور بنی اسرائیل کے کئی دوسرے انبیاء گزرے ہیں۔ حضرت ابراہیم حضرت لوط کے چچا اور حضرت اسحاق آپ کے چچا زاد تھے۔حضرت اسحاق نے اپنی رحلت سے پہلے خدا کے حکم کے مطابق منصب نبوت کو اپنے بیٹے حضرت یعقوب کے سپرد کیا۔

حضرت اسحاق اپنے بھائی حضرت اسماعیل کی وفات کے بعد نبوت پر فائز ہوئےاور ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء آپ کی نسل سے ہیں سوائے حضرت محمدؐﷺ کے کہ آپ حضرت اسماعیل کی نسل سے تھے۔حضرت اسحاق علیہ السّلام نے 180سال کی عُمر میں وفات پائی ۔ وفات کے وقت آپؑ کے دونوں صاحب زادے محیص اور حضرت یعقوب علیہ السّلام آپؑ کے پاس موجود تھے، جنہوں نے آپؑ کو اپنے دادا، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پہلو میں دفن کیا۔ بعض محققّین نے حضرت اسحاق علیہ السّلام کے زمانے کا تعیّن 23صدی قبلِ مسیح کیا ہے۔ ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت اسحاق علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرما ئے

Leave a Comment