اسلامک واقعات

حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ کی اللہ تعالی نے کیسے مدد کی

ابو مالک رضی اللہ عنہ طائف سے واپس آرہے تھے-ان کو راستے میں چور پڑ گئے-چوروں نے ان کا سارا مال ہتھیا لیا-لیکن یہاں ہی بس نا کی بلکہ انہوں نے حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہہ کو قتل کرنے کا بھی ارادہ کر لیا-حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہہ نے کہا کہ تم مال لے لو اور مجھے جانے دو-لیکن چور نا مانے اور کہا کہ اگر ہم نے تمھیں چھوڑ دیا

تو ہمارے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جا کر بتا دو گے-حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے رعب و دبدبے سے ہر کوئی کانپتا تھا-جب انہوں نے حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہہ کی بات نا مانی تو انہوں نے کہا مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو-ان کی آخری خواہش سمجھتے چور نے اجازت دے دی-ابو مالک رضی اللہ عنہہ بے نماز ادا کی اور دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے-انہوں نے اللہ کو پکارا اور اس سے دعا کی-جب چور نے ان کی گردن کاٹنے کے لیے تلوار اٹھائی تو آواز آئی “مت مار”- چور نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو کوئی نا تھا اس نے سر جھٹک کر پھر سے تلوار اٹھا لی-حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہہ نے پھر سے اللہ کو پکارا-اور پھر سے آواز آئی “مت مار”-چور پھر سے رک گیا اور اپنے ارد گرد دیکھنے لگا-جب چور نے تیسری بار تلوار اٹھائی تو ابو مالک رضی اللہ عنہہ نے پھر سے اللہ کو پکارا-تو اس بار ایک گھڑ سوار آیا اور نیزا چلایا اور نیزا اس چور کے آر پار ہوگیا-چور وہیں ڈھیر ہوگیا-ابو مالک رضی اللہ عنہہ نے اس گھڑ سوار سے کہا کہ اللہ نے تمھارے ذریعے میری مدد کی ہے-پھر انہوں نے گھڑ سوار سے اس کا نام پوچھا تو گھڑ سوار نے بتایا کہ وہ اللہ کا فرشتہ ہے-

جب آپ نے پہلی بار پکارا تھا تو آسمان کے ساتوں دروازے زور زرو سے ہلنے لگے اور جب آپ نے دوسری بار پکارا تو فرشتوں میں ہل چل مچ گئی-پھر جب تیسری دفعہ پکارا تو اللہ نے پوچھا کون میرے بندے کی مدد کے لیے تیار ہے؟تو میں نے کہا میں تیار ہوں-جب اس چور نے پہلی بار تلوار اٹھائی تو میں نے اسے کہا مت مارو-جب دوسری دفعہ تلوار اٹھائی تو میں نے پھر سے منع کیا لیکن جب تیسری بار اس نے تلوار اٹھائی تو میں پہنچ گیا-اس واقع سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالی پکار ضرور سنتا ہے-نماز پڑھیں اور اسے پکاریں-

Leave a Comment