قصص الانبیا ء

حضرت ابو الحسن مزین رحمہ اللہ

حضرت ابو الحسن مزین رحمہ اللہ

حضرت ابو الحسن مزین رحمہ اللہ نے کمسنی ہی میں والدہ کی اجازت سے حج کا ارادہ کیا .لیکن دوران سفر آپ کو غسل کی حاجت پیش آ گئی چنانچہ بیداری کے بعد یہ خیال آیا .
میں والدہ سے کسی عہدو پیماں کی بغیر ہی گھر سے نکل کھڑا ہوا ہوں. اس خیال کے ساتھ ہی جب گھر واپس آئے تو والدہ کو بہت ہی غم زدہ شکل میں دروازے پر کھڑا پایا.

والدہ کی اجازت سے حج کا ارادہ کیا

آپ نے والدہ سے سوال کیا کہ آپ نے مجھے سفر کی اجازت نہیں دی تھی. انھوں نے کہا اجازت تو یقیناً دے دی تھی .لیکن تمھارے بغیر گھر میں کسی طرح دل نہیں لگتا تھا .

یہ عہد کر لیا تھا کہ تمہاری واپسی تک دروازے ہی پر تمہارا انتظار کروں گی. یہ سن کر آپ نے عزم سفر ترک کر دیا اور والدہ کی حیات تک ان کی خدمت کرتے رہے.

لیکن والدہ کے انتقال کے بعد پھر سفر شروع کر دیا . دوران سفر میں ایک ایسا مردہ دیکھا. جو ہنس رہا تھا آپ نے سوال کیا تو مرنے کے بعد کیوں ہنستا ہے.
حضرت ابو الحسن مزین رحمہ اللہ نے جواب دیا .کہ عشق خداوندی میں یہی کیفیت ہوا کرتی ہے. حضرت ابو الحسن مزین رحمہ اللہ نے توکل علی اللہ آگے سفر شروع کر دیا. تو دوران سفر انہیں یہ خیال پیدا ہو .گیا کہ میں ایسا عظیم بزرگ ہو گیا ہوں.
جو بلا زاد سفر۔سفر کر سکتا ہے اس تصور کے ساتھ ہی کسی نے کرخت لہجے میں کہا. کہ نفس کے ساتھ دروغ گوئی کیوں کرتا ہے اور جب انھوں نے منہ پھیر کر دیکھا. تو حضرت ابو بکر کتانی رحمہ اللہ کھڑے ہونے تھے چنانچہ انہوں نے اپنی غلطی کے احساس کے ساتھ ہی فورا توبہ کر لی.

Leave a Comment