اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر مبارک۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ پہلے پیغمبر تھے جن کو اللہ نے مُسلمان نبی پیغمبر ابو الانبیاء، خلیل اللہ امام الناس اور حنیف کہہ کر پُکارا۔اللہ تعالی نے اپنے اس دوست برگزیده اور پیارے نبی کو قرآن مجید میں امتہ امام الناس حنیف اور مسلم کے ناموں سے بار بار بار کیا ہے۔ اکثر انبیائے کرام انہی کی اولاد سے ہیں۔مُسلمان آ پ کو کو خلیل اللہ (اللہ کا دوست) کہتے ہیں۔ ابراہیم کی نسل سے کئی پیغمبر پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ عہدنامہ قدیم میں ہے۔ اسلام کی کتاب قرآن مجید میں بھی بہت سارے ایسے انبیا کا ذکر ہے جو ابراہیم کی نسل میں سے تھے۔ اسلام کے آخری نبی مُحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ابراہیم کی نسل میں سے ہیں۔شرک، ستارہ پرستی اور بت سازی کے خلاف اپنی قوم اور اوروں کے ساتھ ان کا مجادلہ و محاجہ بڑے زور سے پیش کیا گیا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بچپن میں ہی رشد عطا کیا گیا اور قلب سلیم بھی عنایت فرمایا گیا۔ تکوینی عجائبات اور ملکوت السمٰوت والارض ان کے سامنے تھے۔ انہیں کے مشاہدے سے اُن کو یقین کامل حاصل ہوا۔ابراہیم کے نام سے قرآن مجید میں ایک سورت بھی ہے جو قران مجید کی چودہویں سورت ہے جو مکہ میں نازل ہوئی۔ اللہ نے اُنہیں اُمت اور امام النّاس کے لقب سے پُکارا اور اُنہیں بار بار حنیف بھی کہا۔ قراآن مجید میں اُن کو مسلمان یا مسلم بھی کہا گیا ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ ابراہیم ملتِ حنیفہ تھے۔ اللہ نے آلِ ابراہیم کو کتاب و حکمت سے نواز اور اُنہیں ملکِ عظیم عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں خُلّت کا شرف بخشا اُنہیں خلیل اللہ (اللہ کا دوست ) کہا اور سب اُمتوں میں اُنہیں ہر دلعزیز بنایا۔ اکثر انبیائے کرام ان کی اولاد سے ہیں۔ قران مجید میں حضرت ابراہیم کے احوال و اوصاف بالصّراحت مذکور ہیں ۔بت پرستی کے خلاف حضرت ابراہیم کے جہاد کا ذکر بھی قران کریم میں کئی بار آیا ہے۔قرآن حکیم میں حضرت ابراہیم ؑ اور آذر کے اختلاف عقائد کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اور جس طرح آپ اپنی قوم کے شرک سے متنفر اور متصادم ہوئے۔ اس سے ہم آپ کی عظمت و جلالت کی حقیقت کو بھی پاسکتے ہیں۔ اور اپنے لیے شمع ہدایت بھی روشن کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو ملت براہیمی ہونے پر فخر ہے۔اہل تاریخ کے نزدیک متعدد صحیفے تھے جو ابراہیم پر نازل ہوئے۔قرآن حکیم کی رو سے آپ کو بچپن ہی میں ”رشد” اور قلب سلیم عطا ہوا اور کائنات کے مشاہدے سے آپ کو یقین کامل حاصل ہوا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو اولاد کی تمنا تھی ،کنعان کے علاقے میں مقیم ہونے کے بعد آپ نے اولاد کے لیے دعا کی۔
قرآن میں ارشاد ہے کہ

”اے میرے پروردگار! مجھے ایک نیک بیٹا عطا کر۔“ حضرت ابراہیم ؑ نے ہاجرہ ؑ سے نکاح کیا تو اللہ تعالی نے ابراہیم کو ایک حلیم بچے (اسمٰعیل ) بشارت دی۔ ان کے بطن سے حضرت اسماعیل ؑسا فرزند عطا کیا ۔جب حضرت اسماعیل ؑ نوجوان ہوئے تو حضرت ابراہیم ؑ واپس آئے اورسرزمین مکہ کی آبادی دیکھ کر انھوں نے وہاں اللہ کا گھر (کعبہ) تعمیر کیا۔ چنانچہ اس لیے کعبہ کی عظمت مسلمانوں کے دل میں ہے۔ کیونکہ یہ سب سے پہلی مسجد تھی جو خدائے واحد کی عبادت کے لیے بنی تھی۔قران مجید میں آیا ہے کہ ابراہیم اور اسمٰعیل نے مل کر جب کعبے کی بنیادوں کو اٹھایا تو یہ دُعا مانگی کہ ہماری اولاد میں سے ایک نبی پیدا کر اور اس شہر کو برکت والا شہر بنادے۔اس واقعہ کے ساتھ ہی حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کا ذکر آتا ہے۔ جب یہ بچے بڑے ہوئے تو ابراہیم ؑ آئے تو انھوں نے کہا اے میرے پیارے بیتے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ چنانچہ باپ بیٹا دونوں نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا پر چھوڑ دیا اس آزمائش میں جب ابراہیم ؑ پورے اترے تو اللہ نے انھیں ”امام للناس“ کا خطاب دیا (البقره : 124) اور انھیں ایک اور بیٹے اسحاق کی بشارت دی۔ (الصفات:101)

قرآن مجید میں آیا ہے جب ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ نے مل کر کعبے کی بنیادوں کو از سر نو تعمیر کرنا شروع کیا تو یہ دعا مانگی۔

اور جب کہا ابراہیم نے اے میرے رب بنا اس کو شہر امن کا اور روزی دے اس کے رہنے والوں کو میوے جو کوئی ان میں سے ایمان لاوے اللہ پر اور قیامت کے دن پر فرمایا اور جو کفر کریں اس کو بھی نفع پہنچاؤں گا تھوڑے دنوں پھر اس کو جبرًا بلاؤں گا دوزخ کے عذاب میں اور وہ بری جگہ ہے رہنے کی-اور یاد کرو جب اٹھاتے تھے ابراہیم بنیادیں خانہ کعبہ کی اور اسمٰعیل اور دعا کرتے تھے اے پروردگار ہمارے قبول کر ہم سے بیشک تو ہی ہے سننے والا جاننے والا-اے پروردگار ہمارے اور کر ہم کو حکم بردار اپنا اور ہماری اولاد میں بھی کر ایک جماعت فرماں بردار اپنی اور بتلا ہم کو قاعدے حج کرنے کے اور ہم کو معاف کر بیشک تو ہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان“اس طرح اللہ رب العزت نے بعد میں حضرت محمد ﷺ کو دین ابراہیمی دے کر مبعوث فرما یا ۔جب حضرت ابراہیم ؑ نے وفات پائی تو ان کی عمر 175 برس تھی اور وہ حبرون میں کفیلہ کے غار میں دفن ہوئے۔ اب اس مقام کو ” خلیل” کہتے ہیں جو بیت المقدس کے قریب واقع ہے۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرما ئے۔۔۔۔

Leave a Comment