اسلامک واقعات

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا واقع

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تو کفار نے شعلے مارتی دہکتی آگ تیار کی-جو کہ بہت اوپر کو اٹھتی تھی-یہاں تک کہ کوئی پرندہ اس کے قریب بھی جاتا تو جل کر نیچے گر جاتا-پھر کفار یہ سوچنے لگے کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں کیسے ڈالیں؟

کیونکہ اتنی شعلے مارتی آگ کے قریب تو کوئی بھی نہیں جا سکتا تھا-تو شیطان ان کافروں کے دماغ پر حاوی ہوا اور ان کو طریقہ بتایا-یہ تماشا دیکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی عورتیں یہ تمام مناظر اپنے گھروں کی کھڑکیوں اور چھتوں سے دیکھ رہی تھیں- پھر ان لوگوں نے توپ جیسا ایک آلہ بنایا-انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس آلے کے ساتھ باندھا اور پھر ان کو اس آگ میں دھکیل دیا-اب سب کو حضرت ابراہیم کے جل کر راکھ ہونے کا انتظار تھا-سب دم پخت یہ منظر دیکھ رہے تھے-اس دوران ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی بھر کر اس آگ میں پھینکتی تھی تو اس سے پوچھا گیا

کہ وہ ایسا کیوں کر رہی تھی تو اس کا جواب یہ تھا کہ وہ نہیں چاہتی قیامت کے روز اس کی پکڑ ہو اور اس کو ظالموں میں شمار کیا جائے-حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور ایک پانی والا فرشتہ بھی آیا-جبریل علیہ السلام نے جب ان سے پوچھا کہ کیا ان کو مدد چاہیے تو حضرت ابراہیم نے کہا کہ ان کو صرف اللہ تعالی سے مدد چاہیے ہو سکتا ہے میرا مرنا ایسا ہی لکھا ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو اللہ سے ان کی حالت چھپی نہیں ہے وہ ضرور مدد کرے گا-چناچہ اللہ تعالئ نے اس آگ کو ٹھنڈا اور سفید کردیا حضرت جبریل علیہ السلام اپنے پروں سے ان پر پانی چھڑکتے رہے-

وہاں کھڑا ہر بندہ ذات حیران تھا-سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور یہاں تک کہ ابراہیم علیہ السلام کے باپ نے بھی کہہ دیا کہ ابراہیم علیہ السلام تمھارا رب زبردست ہے-حلانکہ ابراہیم علیہ السلام کے بابا کفر کی موت مرنے والے تھے لیکن اللہ کی شان دیکھ کر وہ بھی اعتراف کیے بنا نہیں رہ سکے-ان کو بھی پتا چل گیا کہ ابراہیم علیہ السلام کا خدا کیا کر سکتا ہے-لیکن وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے تھے-جو مسلسل انکار کرتے ہیں اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے-

Leave a Comment