قصص الانبیا ء

حضرت آدم کا پتلا چالیس برس تک بے جان پڑا رہا،روح کا مٹی سے بنے پتلے میں جانے سے انکار……مزید جانئیے

راویان معتبر سے روایت ہے کہ جب ارادہ الہی واسطے خلافت حضرت آدم علیہ السلام کے اور ظہور ریاست بنی آدم کےمتعلق ہوا .تب حضرت عزرائیل علیہ السلام کو حکم ہوا کے ایک مٹھی خاک ہر قسم کی سرخ اور سفید اور سیاہ زمین سے لائیں. حضرت عزرائیل علیہ السلام بحکم خداوندی ایک مٹھی خاک رنگارنگ کی تمام روئے زمین سے جمع کر کے لائے.

اور بموجب حکم الہی درمیان مکہ اور طائف کے رکھی. اور اللہ تعالی نے باران رحمت اس مٹی پر برسایا .اور اپنی قدرت کاملہ سے حضرت آدم کا پتلا اس مٹی کے خمیر سے بنایا. اور چالیس برس تک وہ قالب بے جان وہاں پڑا رہا .جب عنایت الہی نے چاہا کہ ستارہ اقبال حضرت آدم علیہ السلام کا روشن اور مرتبہ شرافت تمام مخلوق پر ظاہر ہو. روح پاک کو حکم صادر ہوا کہ بدن آدم میں داخل ہو لیکن روح لطیف نے خاک کثیف میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔رب الارباب کا خطاب روح کو پہنچا کہ” اے جان داخل اس بدن میں ہو.” جب قا لب میں آدم کے سر مبارک کی طرف سے داخل ہوئی جس جگہ پہنچی تھی بدن خاکی جو مانند ٹھیکرے کے تھا گوشت اور پوست میں بدلتا جاتا تھا جب روح سینہ مبارک تک پہنچی تو حضرت آدم علیہ السلام نے ارادہ اٹھنے کا کیا وہی زمین پر گر پڑے . اس واسطے حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے: یعنی ہے انسان جلد باز اور اسی حالت میں حضرت آدم علیہ السلام نے چھینکا. اور الہام الہی سے کہا الحمدللہ اس کریم اور رحیم نے اپنی رحمت سے فرمایا یرحمک اللہ سب سے اول جلوہ رحمت الہی کا شامل حال حضرت آدم کے ہوا اور بھید کا ان کے طفیل سےنصیب بنی آدم کے ہوا.

اس کےبعد ایک فرشتہ بموجب حکم کے ایک جوڑا مرضع فورا بہشت سے لایا اور حضرت آدم علیہ السلام کو ساتھ تشریف لاتے الہی سے مشرف کیا . نقل ہے کہ فرشتے ابتدائے پیدائش آدم علیہ السلام سے آپس میں کہتے تھے کہ جس کو خدائے تعالی خاک سے پیدا کرکے مسند خلافت پر بٹھائے گا وہ ہم سے خدا کے نزدیک زیادہ عزیز نہ ہوگا اور ہم جو بارگاہ علام الغیوب میں دن رات رہتے ہیں علم ہمارا اس سے زیادہ ہوگا .حق تعالیٰ نے تمام چیزوں کے نام حضرت آدم کو الہام کر کے حکم کیا فرشتوں کے نام پوچھو جب حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں سے پوچھا خبر دو میرے 23 ان چیزوں کے نام سے اگر تم سچے ہو تو فرشتے جو آپ سے آج ہوئے اور اپنے قصور کے معترف ہو کر بولے پاک ہے تو ،اور نہیں علم ہمیں23 چیزون کے نام کا مگر جو تو نے سکھایا ہم کو. اور تو عالم اور دانا ہے. تب اللہ تعالی آدم کو باکمال طریقے سےظاہری اور باطنی طور پر آراستہ کیا اور ملائک عظام کو جو آدم کے گرد صف باندھے ہوئے مودب کھڑے تھے حکم کیا کہ ” سجدہ کرو آدم علیہ السلام کو”23 بمجرد حکم الہی کے سب فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اور کہا کہ بلا وجہ بہتر ہوں میں اس مٹی کے پتلے سے . اور اس نافرمانی سے شیطان بھی ہو کر رہ گیا.

تب حضرت آدم پر خواب میں ہی اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے آدم کے پہلوئے چپکے سے حضرت حوا کو پیدا کیا. جب وہ کئی دن بعد بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ایک پاکیزہ عورت ان کے پاس بیٹھی ہے. ان کی طبیعت ہمایوں اور خوبصورت صورت کو دیکھ کر نہایت خوش ہوئے اور پوچھا کہ تو کون ہے؟ حضرت حوا نے کہا کہ تیرے بدن کے خون سے حق تعالی نے مجھ کو پیدا کیا ہے. حسن اور جمال حواء کا اس قدر تھا کے تمام عالم کی خوبی سو حصے تھی اس میں سے نوے حسن حضرت حوا کو عنایت فرمایا. تب آپ سجدہ شکربجا لائے.حق تعالی نے نے ان کا عقد روبرو حاملان عرش اور سکن انسان باندھا اور دونوں کو حکم دیا کہ آدم و حوّا دونوں بہشت میں رہو .اور سب میرے اس جنت کے میوے کھاؤ مگر اس درخت کے قریب مت جانا . چونکہ ابلیس نے آدم کو سجدہ نہ کیا اور رد کر دیا گیا اور فرشتونے اسے جنت سے نکال دیا اس سبب سے وہ آتش کینہ اور حسد کی آگ میں جل رہا تھا. اور وہ ہمیشہ اس تدبیر میں رہتا تھا کہ کسی صورت سے بہشت میں بیٹھے اور آدم کو وہاں سے نکالے. اور حوا کے پاس گیا اور رونا شروع کیا حضرت آدم اور حوا نے پوچھا کہ کیوں روتا ہے اور انہوں نے شیطان کو نہیں پہچانا تو شیطان نے کہا کہ تم کو نصیحت کرتا ہوں. مجھ کو تمہارے حال پر رونا آتا ہے. اور تم اس جنت سے نکالے جاؤ گے اور یہ بہشت کی نعمتیں تم سے چھین لی جائیں گی. اور لذت حیات اور ذائقہ موت کاچکھو گے. ان دونوں کو اس بات کے سننے سے بہت غم ہوا .ابلیس نے کہا اگر تم میرا کہنا مانو تو میں تم کو ایک درخت بتاؤں گا اگر تھوڑاسا اس کوکھاؤ تو ہمیشہ زندہ رہو گے .اور موت کی صورت ہرگز نہ دیکھو گے. حضرت آدم نے پوچھا وہ کونسا درخت ہے ؟شیطان نے کہا وہی درخت ہے جس کے کھانے سے حق تعالیٰ نے منع کیا تھا. حضرت آدم اس بات کو قبول نہ کیا اور کہا کہ ہرگز مجھ سے نافرمانی خدا کی نہ ہوگی .جب شیطان نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں. اس پرحضرت حواء نےحضرت آدم سے عرض کیا کہ ……ابھی جاری ہے

Leave a Comment