اسلامک معلومات

حجر اسود کے تین ٹکڑے ہوئے.ایک ٹکڑا کون اٹھا کر لے گیا ؟

حجر اسود
یہ وہ سیاہ پتھر ہے جو خانہ کعبہ کی جنوب مشرقی دیوار کے کونے میں نصب ہے۔ اس کے تین بڑے اور کئی مختلف شکلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں۔ ٹکڑے اندازاَاڑھاۂی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا حلقہ بنا ہوا ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ پتھر بہت مقدس اور متبرک ہے جو مسلمان حج کرنے جاتے ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو دور سے ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے تو حضرت جبرائیل نے یہ پتھر جنت سے لا کر دیا۔ جسے حضرت ابراہیم نے اپنے ہاتھوں سے دیوار میں نصب کیا۔606ء جب رسول اللہ صل وسلم کی عمر 35 سال تھی، سیلاب نے کھانا کعبہ کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کے لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا ہے۔

قبیلے کی ایک خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے نصیب ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قضیے کو طےکرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقام پر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب کردیا۔یوں تنصیب حجر اسود کا قضیہ بطریق احسن آنحصور نے طے فرمایا اور جھگڑا ختم ہوا۔سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن زبیر نے حجر اسود پر چاندی چڑھوائی۔

696میں جب حضرت عبداللہ بن زبیر کھانا کعبہ میں پناہ گزین ہوئے تو حجاج بن یوسف کی فوج نے کھانا کعبہ پر منجیقوں سے پتھر برساۓ اور پھر آگ لگادی،جس سے حجر اسود کے تین ٹکڑے ہوئے۔ عباسی خلیفہ الراضی کے عہد میں ایک قرامطی سردار ابوطاہر حجر اسود اٹھا کر لے گیا اور کافی عرصے بعد واپس آیا۔1268 میں سلطان عبدالمجید نے حجر اسود کو سونے میں جڑ دیا۔1281میں سلطان عبدالعزیز نے اسے چاندی میں مڑھوایا۔

Leave a Comment